Select your Top Menu from wp menus

آرایس ایس بی جے پی مودی جی کا برہمن راج وناش کال پرتیک عملی سنسار

آرایس ایس بی جے پی مودی جی کا برہمن راج وناش کال پرتیک عملی سنسار
  نقاش نائطی
نائب ایڈیٹر اسٹار نیوز ٹوڈے
آرایس ایس، بی جے پی، مودی، یوگی مہاراج، نے،چمنستان ہندستان کی ہزاروں سالہ سیکیولر اثاث، چین وامن و سکون والی زندگانی اور سوا سو کروڑ ھند واسیوں کی آستھادھرم کا استحصال کر، ہندواسی ہندو مسلم دلت کے درمیان نفرت کی دیوار قائم کر، اپنی گندی سیاست کی، پونجی پتی برہمن سلطنت  قائم جو کی ہے، ایک ایسی سلطنت جس میں ایک فیصد برہمن پونجی پتی، دو تہائی رعایا کی دولت کو سمیٹے، دیش واسیوں پر راج کر رہے ہوں اورغربت و افلاس کی ماری رعایا کو دانے دانے کو ترس،خود کشی کرنے پر مجبور کئے ہوئے ہوں۔ ان کی برہمنی سوچ کے چلتے، دیش کی تعلیم یافتہ یوا پیڑھی روزگار کے لئے در در کی ٹھوکریں کھائے پر مجبور و محبوس، کچھ پیسوں کے عوض ان برہمنوں کے اشاروں پر، دیش کے مسلمانوں دلتوں کو موب لنچنگ  ظلم و بربریت والی اموات مارتے، چمنستان ہندستان کو نفرت کی آماجگاہ بنانے پر مجبور ہوں، ان کی برہمنی راج کرتی سازشوں کے چلتے، دیش کی عدلیہ و قانون ویستھا قائم رکھنے والے اداروں کو، انہوں نے اپنا اسیر و غلام  بناکے رکھ دیا ہو، عوامی آگہی کے لئے قائم  الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا کو خرید کر اپنی صنا خوانی پر مامور کیا ہوا ہو،اپنے آپ کو دیش کا چوکیدار کہتے کہلاتے برہمن پونجی پتیوں کو دیش کی دولت  کے ساتھ ہی ساتھ دیش واسیوں کی محنت کی کمائی کو لوٹنے کی کھلی اجازت و چھوٹ دی گئی ہو۔دیش واسیوں کے ساتھ ہی ساتھ جنہوں نے اس دیش کی ہزاروں سالہ مذہبی آستھا کا کھلواڑ کر، دیوی دیوتاؤں کا تک استحصال کرنا اپنا حق تصور کرلیا ہو، اگر ایسے دھوکے باز فراڈئیے ،کل کے انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے،  قاتل مہاتما گاندھی اور آج کے دیش کے خزانے اور دیش واسیوں کی کمائی کو لوٹ لوٹ کر چند برہمن پونجی پتیوں کی دلالی کرنے والے ہمارے یہ مجرم،  گر واقعی تیرے مسیحا ہوں تو اے ارض ہند تو ہر الزام سے انہیں بری کردینا اور 2019 عام انتخاب میں انہیں سرخ رو کردینا اور اگر ہمارا الزام صحیح ہے تو چمنستان ہندستان کی سیاست کو ان لٹیرے نما چوکیداروں سے مکت کردینا
ایک انجان شاعر کے اس کلام کو خوبصورت صوتی ریکارڈنگ کے ساتھ حوالہ وطن کر رہے ہیں اس آواز کو2019 عام انتخاب سے قبل، ہر شہری، ہر ھندستانی تک پہنچا دینا
میرا مجرم گر تیرا مسیحا ہو
اے ارض هند تو ہر الزام سے بری کردینا
میرے خون کے عوض تیری فصلیں صدا بہار ہوں
تو رگوں سے سارا نچوڑ لینا
مگر یہ حاکم وقت جس نے جاہ و منصب
تیرے امن و سکون کی رقم سے لیا ہے
اس نے کب تیری وفا کا پاس کیا ہے؟
جس نے تیرے عشق کو تجارت کا سامان کیا ہے
جس نے تیرے شہدا کو اپنی سیاست سے داغدار کیا ہے،
تیری عدالتوں کو اپنی جاگیر قرار دیا ہے
تیری فضاؤں کو وحشت کا مقام دیا ہے
تیرے مندروں کو تیرے خداؤں کو
جس نے اپنے فریب کا عنوان دیا ہے
جس نے عقیدتوں کو اپنے زور کا غلام کیا ہے
پھر بھی گر یہ تیرا مسیحا  ہو
تو ہر الزام سے بری کردینا
  • 1
    Share
  • 1
    Share