Select your Top Menu from wp menus

اپنی گاڑھی کمائی کی حلال بچت کی ذمہ داری ہماری اپنی ہی ہے  

اپنی گاڑھی کمائی کی حلال بچت کی ذمہ داری ہماری اپنی ہی ہے  
نقاش نائطی
بی جے پی ایم پی شوبھا کرندلاجے کا بینک اکاونٹ ہیک، ۲۰ لاکھ کا لگا چونا
دوکان کا بہترین سیلز مین وہ ہوتا ہے جو دوکان میں داخل ہوتے گراہک سے علیک سلیک بعد دو منٹ گفتگو ہی میں اس کے مزاج سے واقفیت حاصل کر، اپنی باتوں سے اس کا اعتماد جیتتے ہوئے اسے وہ کچھ خریدنے پر قائل کردے جو خریدنا  اس کے پروگرام میں نہ تھا۔یا اس کے دل و دماغ میں کسی چیز کے خریدنے کی پلاننگ  رہتے وہ سیلزمین کی باتوں سے متاثر ہو، اپنی پلاننگ سے پرے کچھ اور خرید لے۔یعنی گراہگ کےاذہان کو ماؤف کرنے کا موقع سیلز مین کو ملے
ایسی مارکیٹ میں بہت سے کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو عام گراہکوں کی معلومات کسی جائز یا ناجائز طریقہ سے حاصل کر بڑی تاجر کمپنیوں کو معلومات بیچا کرتی ہیں۔ بڑی کمپنیاں ان معلومات کے حاصل کرنے کے بعد سیدھے طریقے گاہکوں سے تعلق قائم کر انہیں اپنا کچھ پروڈکٹ بیچنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو اس میں کچھ خرابی نہیں ہے لیکن بعض شاطر آلذہن شر پسند لوگ جو ہر معاشرے کا حصہ ہوا کرتے ہیں، ہم آپ کی معلومات سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ایکونٹ سے ہماری بچت رقم اڑا لے جانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ہم آپ ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اپنا اثاثہ کھوچکنے کے بعد۔ آئے دن عام شہریوں کے ایکاونٹ سے ان کی جمع پونجی چوری ہوجانے کی خبریں تو آتی ہی رہتی تھیں لیکن کرناٹک کی مسلم مخالف فائر برانڈ اسپیکر   بی جے پی ایم پی شوبھا کرنلا کے اسٹیٹ بنک ایکونٹ سے بیس لاکھ چوری ہوجانے کی خبر نے نہ صرف کرناٹک بلکہ ہندستانی بنکنک نظام کی کمزوری کے چلتے دن دھاڑے ہوتی لوٹ کو اظہر من آلشمس کی طرح جگ ظاہر کردیا ہے۔ آر ایس ایس مودی بی جے پی راج میں بااثر بی جے پی ممبر پارلیمنٹ کے ایکاونٹ سے یوں سائبر چوری ہوتی ہو تو عام ہندواسیوں کے بینکوں میں رکھے پیسوں کا تو الامان الحافظ
اب  رہا معاملہ ہماری معلومات ہمارے موبائل نمبر ہمارے بینک ایکونٹ ڈیٹیل اس شرپسندوں تک پہنچتے کیسے ہیں۔ جب سے یہ موبائل کمپنیاں مارکیٹ میں آئی ہیں موبائل نمبر لیتے وقت ہم سے ہمارا آئی ڈی پروف ہمارا ادھار کارڈ کی کاپی مانگ کر رکھ لیتی ہیں ۔وہ موبایل کمنیاں یا انکے ملازمین سے مل کر کوئی بھی فراڈ کمپنی عام گراہکوں کی معلومات حاصل کرسکتی ہیں۔ عام شہریوں کی مکمل معلومات جو ادھار کارڈ میں محفوظ رہتی ہیں اگر یہی معلومات غلط لوگوں کے ہاتھوں  پہنچ جائیں تو ہمارا یا ہمارے بینک میں جمع پونجی کا تو اللہ ہی حافظ۔ موبائل کمپنی کے بے ایمان لوگوں کے ہماری معلومات بیچنے کی بات سے پرے ادھار کارڈ حکومتی ڈیٹا سینٹر سے تمام ہندواسیوں کی پرسنل معلومات دیش کے چوکیدار کی معرفت دیش کے بڑے پونجی پتی امبانی کو بیچے جانے کی خبریں اخبار کی زینت بنتی رہی ہیں۔ ایسے میں جب دیش کا چوکیدار ہی چوروں کے ساتھ ملا ہوا تو دیش واسیوں کو لوٹ کھسوٹ سے سوائے ایشور اللہ کے علاوہ کون بچا سکتا ہے؟
اس کے علاوہ آئے دن اشتہاری لکی ڈرا میں کچھ رویئے برابر کے انعامات  ملنے کی آس میں ہم خود اپنا موبائل نمبر اور ای میل ایڈریس انعامی کوپن میں لکھ کر صحیح غلط ہاتھوں میں دے رہے ہوتے ہیں۔ ہوائی سفر کرنے والے عموما فلائیٹ سے اترنے کے بعد ایرپورٹ سے باہر آتے ہی بورڈنک پاس کا ٹکڑا پھینک دیتے ہیں اس پھیکے ہوئے بورڈنگ پاس کے ٹکڑے پر، بار کوڈ میں ہماری تمام معلومات ہمارے پاسپورٹ ڈیٹیل، ہمارے موبائل نمبر، اور اگر ، ٹکٹ ہم نے کریڈٹ کارڈ یا ڈیبڈ کارڈ سے خریدا ہے تو ہمارے بنک ڈیٹیل یعنی پوری ہماری جنم کنڈلی محفوظ ہوتی ہے۔ جو غلط ہاتھوں میں جاتے ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ہماری معلومات کو حاصل کرنے والے بیچنے والے اور خریدنے والے کا ایک لامتناہی سلسلہ ہوتا یے۔ آئے دن ہمارے موبائل پر کسی بھی کمپنی کا فون آتا ہے اور کریڈٹ کارڈ یا دوسری پروڈکٹ کی تشہیر کرنے لگتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں رینڈم ہمیں کال آیا ہوگا۔ دراصل جس طرح سے ہمارے پھینکے ردی کاغذات و غیر ضروری اشیاء کے بیچنے کا ردی کاروبار ، یتیم بے سہارا لڑکوں  کے روزانہ دس بیس روپیہ کمانے سے شروع ہوکر ریپروسیسنگ فیکٹری تک پہنچتے پہنچتے یہی ردی کاروبار ہزاروں کروڑ کا ہوجاتا ہے ہماری معلومات ایک روپیہ فی معلومات جو بیچی جاتی ہیں دیش کے پونجی پتیوں تک پہنچتے پہنچتے ہزاروں کروڑ کی تجارت تک پہنچ جاتی ہیں۔ تمثیلا عرض ہے 8 ستمبر 2016 دیش کے پرائم منسٹر نے جب نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تب تقریبا دیش کی اکثریت اپنے تمام کاروبار مصروفیات کو چھوڑ کر اپنے بنک ایکاونٹ سے اپنی ہی جمع رقم نکالنے کے لئے یا اپنے پاس موجود اپنی ہی گاڑھی کمائی کے منسوخ شدہ نوٹوں کو بدلوانے، بنکوں کے باہر مہینہ بھر تک لائن میں کھڑی تھی یہاں تک دیش کے پرائم منسٹر مودی جی نے اپنی 90 سالہ بوڑھی ماں کو دو ہزار روپیہ بنک سے نکالنے بنک کی لائن میں کھڑا کرکے ایک طرف اپنی زر خرید میڈیا سے واہ واہی لوٹتے لوٹتے دیش کی سو کروڑ عوام کو بے وقوف بنانے کی سعی کی تھی،  وہیں پر دیش کے بڑے تاجر انڈسٹریلسٹ یا پونجی پتی یا سیاستدانوں میں سے کسی کو، کسی نے بنکوں  کی لائن میں کھڑے دیکھا نہیں تھا۔اس وقت  بنک سے دو ہزار نکالنے کے لئے ہر دو ہزار روپیہ پر ایک آئی ڈی کی کاپی بنک والوں کو دینی پڑتی تھی۔ہم جیسے اپنے گھر والے ممبران کے پانچ سات آئی ڈی  کاپی ساتھ لیجا اپنے تعلقات کے بل پر بنکوں سے ہزاروں روپیہ نکال لاتے تھے یا پرانے نوٹ بدلی کر لاتے تھے۔جیو او موبائل کمپنی کے مالک امبانی کے پاس  دیش واسیوں کے کئی کروڑ آئی ڈی پروف جہاں موجود ہوں اور ان کے اپنے بنک ہوں تو ان دیش واسیوں کے کروڑوں آئی ڈی پروف ظاہر کر، انکے ہزاروں کروڑ کا کالا دھن سفید کرنے سے انہیں کون مانع رکھ سکتا تھا۔ اور جب ہندستان کا پرائم منسٹر ہی  ان کے لئے دیش کی چوکیداری کرنے پر مامور کیا گیا تھا۔
ایسے میں ہمارے آپنے  گھروں میں بنکوں میں جمع ہماری پونجی کو صرف اور صرف اللہ رب العزت ہی آمان و حفاظت عطا کر سکتا ہے اگر ہم نے اس کی ہدایات پر عمل کر حلال طریقے سے کتنا بھی مال و دولت جمع نہ کیا ہو اور جمع پونجی کا باقاعدہ حساب سے وقت پر زکاةادا کیا ہو۔کیونکہ یہ اللہ رب العزت کا وعدہ ہے کہ وہ زکاةادا کئے ہوئے مال دولت کی حفاظت کا ضامن ہے۔ اللہ ہی ہمیں دینی احکام پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور ہمارے مال و جان کے ساتھ ہمارے دین و اسلام کی بھی حفاظت کرے وما علیناالا البلاغ
  • 1
    Share
  • 1
    Share