یوم اقلیت اور ہندستانی مسلمان

0

اشرف استھانوی
اقوام متحدہ نے 18دسمبر کو بطور یوم اقلیت منانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد پوری دنیا کی مذہبی لسانی اور نسلی اقلیتوں کے تحفظ کی طرف اقوام عالم کی توجہ مبذول کرانا ہے۔ یوم اقلیت کے موقع پر پوری دنیا میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتاہے۔ سیمینار سمپوزیم اور مذاکرے ہوتے جس میں اقلیتوں کی حالت زار پر آنسو بہائے جاتے ہیں۔ ان کے حقوق کے تحفظ کی قسمیں کھائی جاتی ہیں اور اس راہ میں حائل عملی دشواریوں کے سد باب کی راہیں تلاش کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ اور یہ تأثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حکومت اور اس کے اداروں کو اقلیتوں کی بہت فکر ہے۔ لیکن 18دسمبر کو سورج غروب ہوتے ہی ساری فکر مندیاں ڈوب جاتی ہیں اور باقی رہتے ہیں صرف اقلیتوں کے مسائل ۔ بھارت اس سال اس دن کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ ایک سال  قبل ہی نریندر مودی حکومت نے شہریت قانون میں ترمیم کرکے افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کے حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی ہےاور قانون کی آڑ میں انہیں شہریت کے حق سے محروم کرنے کا انتہائی خطرناک منصوبہ تیار کیا ہےجس کے خلاف ملک گیر احتجاج اور مظاہرے ہوئے اور کورونا جیسی عالمی وبا کے سبب مظاہرے بند کردیئے گئے۔
لیکن جمہوریت میں چونکہ بندوں کو تولنے کے بجائے گننے کا رواج ہے اس لیے جس طبقہ کی آبادی زیادہ ہوتی ہے وہ دیگر طبقات کی حق تلفی اپنا حق سمجھتا ہے۔ ہمارے ملک عزیز ہندوستان کے آئین نے ملک کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کیے ہیں ، اس کی رو سے رنگ ونسل یا زبان ومذہب کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق روا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کے حقوق نہ صرف تسلیم کیے گئے ہیں بلکہ ان کے تحفظ کی ضمانت بھی دی گئی ہے ۔ ان حقائق کے باوجود اقلیتوں کے ساتھ حکومتوں کی جانب سے جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ مسلمان، سکھ، عیسائی ، بودھ اور پارسی یہاں کی مذہبی اقلیتیں ہیں جن میں مسلمان ملک کی سب سے بڑی اقلیت اور دوسری بڑی اکثریت ہیں۔ یوں تو تمام اقلیتیں ظلم وناانصافی کا شکار ہیں لیکن مسلمانوں کو اس کی مار زیادہ ہی جھیلنی پڑتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سکھ اور عیسائیوں کو اکثریت کی چیرہ دستیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ سکھ فسادات اور اڑیسہ میں عیسائیوں کے ساتھ جو کچھ ہواا س کی وجہ ان کا اقلیت میں ہونا ہی ہے۔ لیکن اقلیت ہونے کی سزا مسلمانوں نے جس قدر جھیلی ہے اس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہے کیونکہ آزادی کے بعد سے ہی وہ مسلسل ظلم وجبر کی چکی میں پس رہے ہیں اور انہیں جبر کی اس وادی سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آرہی ہے۔ اس ملک میں ان کی حیثیت فٹ بال کی ہے جسے ہر طرف سے ٹھوکر ہی ملتی ہے۔اب عدالت عظمی پر لوگوں کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیںوہاں دو سو درخواستیں سیاہ قانون کے خلاف پڑی ہوئی ہیں لیکن ابھی تک عدالت عظمی نے اس پر کارروائی نہیں کی ہے۔
اس حقیقت کے باوجود مسلمانوں نے ملک کی آزادی کی خاطر عظیم قربانیاں پیش کیں اور ملک کی تعمیر وترقی میں بھی اپنا بھر پورکردار نبھانے کی کوشش کی ،وہ حکومت کی نا انصافی اور فرقہ پرستوں کی جارحیت کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان مسلسل پس رہے ہیں۔ یہ اس ملک کی بد نصیبی ہے کہ یہاں کی سب سے بڑی اقلیت جو ملک کی تعمیر وترقی میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرسکتی تھی اور ملک کو خوش حال بنانے میں اس کا نمایاں حصہ ہوسکتا تھا آج خود اسے اپنے جینے کے لالے پڑے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ اگر وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتی ہے تو اس کی ٹانگیں کھینچ دی جاتی ہیں۔ مسلسل فسادات نے اس کی چولیں ہلاکر رکھ دی ہیں۔ اس پر مستزاد دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں اور انکاؤنٹر کے نام پر ان کے قتل نے ان کے عزم وحو صلہ کو پست کردیا ہے۔ جہاں کئی محروم طبقات نے بلندی کی بہت سی منزلیں طے کر لیں وہاں مسلمان آج بھی گھٹنوں کے بل چلنے پر مجبور ہیں اور انہیں اپنے جان ومال کے تحفظ کی فکر کھائے جارہی ہے اور ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے ان کا استحصال کیا ہے۔ ان کے ووٹوں کی طاقت سے مسند اقتدار تک پہنچنے والی سیاسی جماعتوں نے انہیں کھوکھلے وعدوں کے سوا کچھ نہ دیا۔ ان کی ترقی کی باتیں تو خوب ہوئیں لیکن عملی سطح پر اس کے نفاذ کی نوبت نہیں آئی۔ اگر ملک کی حکومتیں ایماندار اور مخلص ہوتیں اور آئینی تقاضوں کو پورا کرتیں تو آزادی کے ۵۶ سال بعد مسلمانوں کے حصہ میں سچر کمیٹی کی رپورٹ نہیں آتی۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترقی وخوشحالی کی پالیسیاں تو خو ب و ضع کی جاتی ہیں اور بڑے بلند وبانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن عملا ان کا نفاذ نہیں ہوتا ہے۔ سچر کمیٹی کی سفارشات کا نفاذ اس کی واضح مثال ہے۔ سچر کمیٹی نے واضح کردیا کہ کس طرح سے اس ملک میں مسلمانوں کو سماجی ، تعلیمی اور اقتصادی طور پر حاشیہ پر لا کھڑا کردیا گیا ۔ ان کے ساتھ کیسا ہمہ گیر امتیازی سلوک کیا گیا اور آئینی ضمانتوں کے باوجود کیسے انہیں حق وانصاف اور مساوات سے محروم کیا گیا جس کے سبب وہ زندگی کے ہر میدان میں پیچھے ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ ان کی حیثیت دلتوں سے بھی بد تر ہوگئی اور غربت ، جہالت ، گندگی بیماری ، بے روزگاری ، احساس کمتری اور مایوسی ان کی پہچان بن گئی۔ جہاں تک سچر کمیٹی کی سفارشات کے نفاذ کا معاملہ ہے اگر مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے دعوی پر یقین کیا جائے تو حکومت نے ۶۷ میں ۲۷ سفارشات منظور کر لی ہیں۔ لیکن اگر یہ سچ ہے تو اس کے مثبت اثرات نظر کیوں نہیں آرہے ہیں۔ حکومت لاکھ دعوے کرے لیکن صورتحال اس کے برعکس نظر آرہی ہے۔ سچر کمیٹی کے ممبر سکریٹری ڈاکٹر ابو صالح شریف کے مطابق سچر کمیٹی کے آنے کے بعد مسلمان اور زیادہ پسماندہ ہوئے ہیں ۔ اس کی سب سے واضح مثال وہ اعداد وشمار ہیں جو خود حکومت نے لوک سبھا میں ایک ممبر پارلیمان کے سوال کے جواب میں ملازمتوں کے سلسلہ میں پیش کئے۔ اس کے مطابق سرکاری شعبوں میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ تو دور ان کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے۔ سچر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اس وقت کے وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام پر نظر ثانی کی گئی اور گیارہویں پنچ سالہ منصوبہ میں اقلیتوں کی فلاح کے لیے کئی نئی اسکیمیں شروع کی گئیں جن میں اسکالر شپ اور ملٹی سیکٹرل ڈیولپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔ کسی حد تک اسکا لر شپ کا فائدہ تو مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے لیکن ایم ایس ڈی پی کا فائدہ نظر نہیں آرہا ہے۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن دونوں نے اعلی اختیارات والے عہدوں اور مناصب میں مسلم فرقہ کی متناسب نمائندگی کی سفارش کی تھی۔ اس وقت مرکزی سطح پر ۱۵ وزراتیں ۷۵ محکمے ، ۸۲ اعلی اختیارات والے ادارے ، ۲۹ کمیشن اور ۳۵۰۱ سے زائد خود مختار ادارے ہیں ۔ لیکن اقلیتی کمیشن اور دیگر چند کمیشنوں اور بورڈوں کے علاوہ مسلمان کہیں نظر نہیں آتے ہیں۔مرکزی اقلیتی کمیشن بے جان پڑی ہوئی ہے صرف دہلی اقلیتی کمیشن کچھ حرکت میں ہے۔ بہار اقلیتی کمیشن جسے آئینی درجہ حاصل ہے وہ بھی دو کروڑ مسلم آبادی کو انصاف دلانے میں ناکام ہے۔اس کے علاوہ بہار میں جتنی بھی فلاحی اسکیمیں چل رہی ہیں اس میں مسلمانوں کی نمائندگی آنٹے میں نمک کے برابر ہے۔جسے اقلیتی کمیشن کو دیکھنا ہے اور اقلیتوں انصاف فراہم کرنا ہے۔گذشتہ سال یوم اقلیتی حقوق اقلیتی کمیشن میں نہیں منایاگیا۔اس بار بھی اقلیتی کمیشن خاموش بیٹھا ہے۔ مرکزی حکومت ہی طرح صوبائی حکومتیں بھی مسلمانوں کے ساتھ کھلواڑ کرتی آئیں ہیں ۔ تمام حکومتوں نے ان کی فلاح وبہبود کی بجائے ان کی پسماندگی میں اضافہ ہی کیا اور تعلیمی ، معاشی ، سماجی اور سیاسی طور پر ان کی کمر توڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
لیکن شہریت قانون میں ترمیم کے بعد مذکورہ تمام مسائل اپنی اہمیت کھوچکے ہیں۔ کیونکہ اب تو ہندوستان کی مسلم اقلیت کے سامنے سب سے بڑا چیلینج اپنی شہریت کو بچانے کا ہے۔ جب مسلمان ہندوستان کے شہری ہی نہیں رہیں گے تو ان کے حقوق کے تحفظ کی بات ہی کہاں رہ جائے گی۔ حقوق تو شہری کے ہوتے ہیں اور اب شہریت پر ہی آپڑی ہے۔ اس لئے اس بار یوم اقلیت کے موقع پر ہندستان میں کچھ کرنے کا ہے تو وہ ملک کی مسلم اقلیت کو ان کی شہریت بحال رکھنے کی ضمانت دینے کا ہے۔ یہ کام حکومت وقت بھی ترمیم شدہ قانون میں ہلکی سی ترمیم کرکے انجام دے سکتی ہے ۔ لیکن اس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی ہے کیونکہ اس کا مشورہ قانون سازی کے عمل کے دوران اپوزیشن کی ارکان پارلیامنٹ نے دیا تھا۔ کرنا صرف اتنا تھا کہ افغانستان پاکستان اور بنگلہ دیش کی ستائی ہوئی ہندو، سکھ ، عیسائی ، پارسی، جین اور بدھسٹ کے بجائے پڑوسی ملکوں کی ستائی ہوئی اقلیت کو رکھ دینا تھا۔ لیکن اکثریت کے زعم میں حکومت نے ایسا نہیں کیا تو اب ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ اسے ایسا کرنے سے مجبور کرستی ہے۔ اس متنازعہ قانون کے خلاف سپریم کورٹ میںتقریباً200 ریٹ پیٹیشن داخل کیا جاچکاہے۔لیکن سپریم کورٹ اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اگر حکومت کو ایسا کرنے کی ہدایت جاری کرے تو یوم اقلیت کے موقع پر یہ ہندوستان کی مسلم اقلیتوں کے لئے ایک بڑا تحفہ ہوگا۔
جہاں تک بہار کی بات ہے تو بہار میں مسلمانوں کی آبادی دو کروڑ سے جتنی بھی سرکاری اسکیمیں چل رہی ہیں اس میں ان کی حصہ داری آنٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ اقلیتوں کو انصاف دلانے والے ادارے خود مظلوم ،محکموم بنے ہوئے ہیں۔ اقلیتی کمیشن ایک رکنی کمیشن ہے مکمل کمیشن کی تشکیل بھی ہونی ہے بہار اردو اکاڈمی کے سکریٹری کا عہدہ چار سالوں سے خالی پڑاہے۔اردو ڈائریکٹوریٹ میں دیڑھ سال سے کوئی مستقل ڈائریکٹر نہیں ہے، ڈپٹی ڈائریکٹر اردو کا عہدہ گذشتہ 5سالوں سے خالی پڑا ہے، اردو مشاورتی کمیٹی کی بھی تشکیل نہیں ہوئی ہے۔ محکمہ اقلیتی فلاح میں جتنی بھی اسکمیں چل رہی ہیں ان میں کل بجٹ کا بھی ایک محض 30فیصد ہی خرچ ہوپایا ہے ۔ بہار میں اردو دوسری سرکاری زبان ہے لیکن چالیس ہزار اردو اساتذہ کے عہدے خالی پڑے ہیں ۔اردو اکاڈمی اور اردوڈائریکٹوریٹ سے اردو کے نامور قلمکاروں کو ملنے والا بڑا ایوارڈ گذشتہ 5سالوں سے بند ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.