Select your Top Menu from wp menus

’’مجبور اور مضبوط حکومت‘‘ ۔۔۔ کا فرق ؟

’’مجبور اور مضبوط حکومت‘‘ ۔۔۔ کا فرق ؟

باخبر کے قلم سے
رشید انصاری
وزیر اعظم نریندر مودی کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنی ہر بات اور اپنے ہر اقدام کی خود ہی بڑی تعریف کرتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے بہ زعم خود اپنی حکومت کو ’’مضبوط ‘‘کہا ہے اور مختلف جماعتوں پر مشتمل حزب مخالف کی حکومت ان کی نظر میں ’’مجبور‘‘ ہے۔ مضبوط اور مجبور حکومت کے بارے میں مودی کا یہ نظریہ صرف عددی برتری کی بنیاد پر نہیں ہے۔ وہ تو شائد صرف اپنی حکومت کو ہی ایک مضبوط حکومت قرار دیتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ گو کہ پارلیمان کے ایوان زیریں (لوک سبھا) میں مودی حکومت کو خاصی عددی برتری حاصل ہے ۔ اسی عددی برتری کے باعث وہ لوک سبھا میں اپنی مرضی کے مطابق کوئی بھی بل پاس کرواسکتے ہیں لیکن ان کے حکومت کے مضبوط ہونے کی قلعئ اس وقت کھل جاتی ہے جبکہ لوک سبھا میں پاس کیا گیا بل پارلیمان کے ایوان بالا ( راجیہ سبھا) میں پاس نہیں ہوتا ہے اور اپنے مقصد اور عزائم کو پورا کرنے کے لئے حکومت کو ’’آرڈیننس ‘‘ جاری کرنا پڑتا ہے۔ راجیہ سبھا میں ناکامی کی وجہ سے ہی آرڈیننس جاری کیا جاتا ہے۔ کسی قانون کا نفاذ آرڈیننس کے ذریعہ کرنے والی حکومت کو مضبوط کس طرح کہا جاسکتا ہے؟ اس لئے ایک پارٹی کی حکومت ہو یا مختلف پارٹیوں پر مشتمل مخلوط حکومت ہو دونوں ہی ایک طرح سے ’’مجبور حکومتیں‘‘ کہی جائیں گی چاہے پارلیمان میں انہیں عددی برتری حاصل ہو جس کی مثال نہ صرف مودی حکومت ہے بلکہ واجپائی کی چھ سالہ حکومت بھی مجبور حکومت کی بہت ہی عمدہ مثال ہے۔ اب یہ تو وزیر اعظم نریندر مودی کی خودستائی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی عادت ہے کہ وہ اپنے حکومت کے علاوہ کسی بھی حکومت کو مضبوط نہیں کہتے ہیں جبکہ وہ خو د آر ایس ایس کے احکام کے پابند ہیں۔
ملک کی مضبوط حکومتیں تو وہ تھیں جو جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی زیرقیادت ملک پر حکمراں رہی ہیں۔ ان حکومتوں کو ہر قسم کا فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ حکومت چلانے کے لئے مندرجہ بالا وزرائے اعظم آزاد تھے اور ان کو کسی کی منظوری کی ضرورت نہیں تھی۔ مجبور حکومتیں تو وہ تھیں جس کے وزرائے اعظم مرارجی دیسائی، وی پی سنگھ، نرسمہا راؤ، دیوے گوڑا، گجرال اور واجپائی تھے۔اِن حکومتوں کی مجبوری کا ذکر آگے کیا جائے گا جبکہ باوجود مخلوط حکومت ہونے کہ منموہن سنگھ کی حکومت بھی مضبوط تھی کیونکہ ان کو بھی حکومت چلانے کے لئے کسی کے احکام کی پابندی کی حاجت نہ تھی۔ منموہن سنگھ کے دور میں ہی کئی اہم معاملات میں حکومت میں شریک جماعتوں نے ہی منموہن سنگھ کی مخالفت کی تھی لیکن منموہن سنگھ نے وہی کیا جو کرنا چاہتے تھے۔ (اب یہ بات تو احمقانہ اور بے بنیاد ہے کہ منموہن سنگھ حکومت کو اپنے ہر فیصلہ کی منظوری سونیا گاندھی سے حاصل کرنا پڑتی تھی)۔ منموہن سنگھ سے پہلے اٹل بہاری واجپائی کی حکومت صحیح معنی میں مجبور حکومت کی ایک عمدہ مثال ہے کیونکہ حکومت کے قیام سے قبل ہی اس کی مجبوری اس وقت کھل کر سامنے آئے تھی جبکہ سیکولر جماعتوں نے واجپائی کی تائید چند شرائط کے تحت کی تھی اگر این ڈی اے میں شامل سیکولر جماعتوں کی شرائط کو اٹل بہاری واجپائی منظور نہ کرتے تو ان کی حکومت قائم ہی نہیں ہوسکتی تھی۔ اسی طرح مرارجی دیسائی، وی پی سنگھ، نرسمہا راؤ، دیوے گوڑا اور گجرال کی زیرقیادت مرکزی حکومتیں بھی صحیح معنی میں مجبور تھی کیونکہ حکومت میں شریک مخلوط حکومت کی کوئی بھی اہم جماعت حکومت کے کسی بھی ایسے فیصلہ کو جو اسے پسند نہ ہو وہ حکومت کو گراسکتی تھی۔ چنانچہ مرارجی دیسائی اور وی پی سنگھ کی حکومتوں کو بی جے پی (سابقہ جن سنگھ) نے گرایا تھا۔ اسی طرح نرسمہا راؤ کی کانگریسی حکومت کو ایوان میں اکثریت حاصل نہ تھی لیکن بابری مسجد کی شہادت میں بی جے پی سے تعاون کرنے کی شرط پر نرسمہا راؤ کی اقلیتی حکومت کی بی جے پی نے حسب وعدیٰ تائید کی تھی۔
مجبور اور مضبوط حکومتوں کی تعریف کرکے مودی نے عوام کو گمراہ کرنا چاہا ہے کیونکہ اس وقت خود ان کی حکومت کو عنقریب ہونے والے انتخابات میں کامیابی کی امید کم ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ تمام مخالف مودی جماعتیں متحد ہوکر بھاجپا کو اقتدار سے بے دخل کردیں۔ اسی خوف سے مودی حزب مخالف کی متوقع متحدہ حکومت کو ’’کو کمزور حکومت قرار دے رہے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ بھاجپا اور مودی کو شائد ہی ہو۔

  • 1
    Share
  • 1
    Share