Select your Top Menu from wp menus

انتظار کی بھی حد ہوتی ہے جناب!

انتظار کی بھی حد ہوتی ہے جناب!

ارریہ عبدالغنی

انتظار کی بھی حد ہوتی ہے جناب!
اردو نواز ریاست میں اردو اساتذہ کی مشکلات
پانچ  سال بعد بھی اردو اساتذہ بننے کا خواب نہیں ہوا پورا
اردو اساتذہ کی بحالی کے لیے 2013 میں ہوا تھا اہلیتی امتحان مگر نہیں ہوۂی بحالی
اردو نواز ریاست بہار میں اردو اساتذہ کی بحالی اردو کے مسائل کی خونچکاں داستان سن کر آپ بھی دنگ رہ جاۂیںگے جی ہاں بہار ملک کی ایسی ریاست ہے جہاں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے مگر اردو کے حقوق ملنا تو درکار اردو کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں کیا اپنے کیا غیر کوئی بھی توجہ نہیں دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں اردو کے تعلق سے مسائل کے حل کے لیے قومی ملی لیڈران بھی ادائے بے نیازی کا مظاہرہ کرتے ہیں ذرا عمر عزیز کا بیش قیمتی پانچ سال کا اندازہ کیجیے اگر وہ ضائع ہوجائے صرف انتظار میں تو آپ کے ذہن و دماغ پر کس طرح کی  قیامت ٹوٹ پڑے گی  ایسی ہی قیامیت خیز منظر بہار کے ہزاروں نوتعلیم یافتہ نوجوانوں پہ اس وقت ٹوٹا تھا جب انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن ڈگری ہولڈر عمر تازہ نوجوانوں نے سال 2013 میں اردو کی اساتذہ بننے کے لیے امتحان دیا تھا امتحان بحسن و خوبی اختتام پذیر  بھی ہوگیا چند دنوں بعد نتیجہ بھی منظر عام پر آگیا نتیجہ خلاف توقع تھا کہ اس میں صرف15310 امیدوار ہی کامیاب ہوۂے بعد کے دنوں میں یہ انکشاف ہوا کہ متعصب افسران نے اکزام کے ریزلٹ میں چھیڑ چھاڑ کیا ہے اسی کے مد نظر  ڈیڑھ سال کے بعد ایک بار پھر ریزلٹ دیا گیا جس میں کل امیدواروں کی تعداد 22000 ہوگیا اس دوران چند نام نہاد ملی لیڈران نے اردو ٹی ای ٹی کو بہتی گنگا سمجھتے ہوۂے خوب خوب ہاتھ دھویا  سب بہتر تھا اب بحالی ہوتی لیکن نتیش جی لوک سبھا الیکشن  2014 ہار گئے اس لیے جان بوجھ کر بحالی کو روک دیا گیا چند ناسمجھ اشخاص کی وجہ سے معاملہ کورٹ میں پہونچ گیا جہاں حکومت کے چھ مہینہ لگادیا اس دوران امیدواروں کی کربناکی میں اضافہ ہوتا رہا حتی کہ  اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا جس سے ہزاروں کے ارمان قتل ہوگئے یعنی اب پھر پاس آؤٹ کی تعداد گھٹ کر 16818 ہوگئی اس کے بعد کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مانند نتیش کمار جی نے اردو والوں کی بحالی روکے رکھا حتی کہ انہوں نے 2015 کا قلعہ بہار فتح کر لیا اب بحالی شروع ہوئی تو اس میں ہزاروں الجھاؤ پیدا کردیا گیا پہلے مرحلہ میں 5 فیصد امیدوار بحال ہوۂے پھر نومبر 2016 میں کیمپ کے ذریعہ بحالی ہوئی جس میں تمام تمام بحالیوں کے مراحل میں تقریبا 1000 ہزار سے زائد امیدوار بحال ہوگئے اور یہ حکومت کی اردو نوازی ہے  مگر ہنوز تقریبا پانچ ہزار  بحالی سے محروم امیدوار  ہر صبح اپنے منتخب عوامی نمائندوں اور ملی مذہبی رہنماؤں کی پر اسرار خاموشی کی وجہ جاننے کی خواہش کے ساتھ بیدار ہوتے ہیں پھر شام تک امیدیں ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوجاتی ہیں اور یہ سلسلہ محرومی اپنے اندر درد کرب سیاسی بے وزنی حق کی پائمالی لیے ہوۂے ہے وہیں 11 ہزار فیل کردیے گئے امیدوار اب بھی انصاف کے منتظر ہیں پتہ نہیں  کب انصاف خانقاہ اور نام نہاد رہنماؤں کی چنگل سے نکل کر ان بے یاروگار مدد کار قوم کے نوجوانوں کو ملیگا
انتظار کی بھی حد ہوتی ہے جناب!

  • 1
    Share
  • 1
    Share