ملک میں حقوق انسانی کی پامالی اور’ عالمی یوم حقوق انسانی‘

0

ڈاکٹر سیّد احمد قادری
9934839110

ہمارا ملک حقوق انسانی کی پامالی کا مرکز بنا ہوا ہے اور ملک کی قیادت یہ سمجھنے کو قطئی تیار نہیں کہ حقوق انسانی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے ۔طاقت اور اقتدار کے نشے میں کسی بھی انسان کے ساتھ وحشیانہ سلوک ، اہانت آمیزرویہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ غیر آئینی بھی ہے ۔ عبادت کی آزادی ، شخصی آزادی ، لکھنے ، بولنے کی آزادی ، کھانے پینے کی آزادی ، کسی بھی مذہب کو اپنانے کی آزادی ،پیار محبت کی آزادی انسانی حقوق میں شامل ہیں ۔ ان حقوق کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر انسان کے ساتھ غیر جانبدارانہ عدالت میں سماعت کا حق حاصل ہو ، غلامی اور نسل کشی کی ممانعت، آزادی اظہاراور تعلیم کا حق بھی حاصل ہو ۔ان حقوق کے لئے ہر شخص اس لئے اس کا حقدار ہے کہ وہ انسان ہے ۔ اس امر سے قطع نظر کہ اس کی عمر ، نسل ، زبان ، مذہب یا ذات برادری کیا ہے۔اس تناظر میں ہم اپنے ملک کے حالات پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سمت انسانی حقوق کی پامالی کا نا قابل یقین بلکہ بڑابھیانک منظر نامہ ہے ۔ملک کے طول و عرض سے آئے دن ایسی خبریں سامنے آتی ہیں ، جو پوری انسانیت کو شرمسار کرتی ہیں ۔ ایسے شرمسار کرنے والے واقعات اور سانحات پر انتظامیہ اور حکومت کی خاموشی ان کی رضامندی کی جانب اشارہ کرتی ہیں ۔ انتہا تو یہ ہے کہ ان کے خلاف جو آواز اٹھاتا ہے تو اس کی آواز کو بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ۔ ابھی حال ہی میں 84 سالہ ایک عیسائی مبلغ اسٹیلن سوامی جو گزشتہ تیس برسوں سے جھارکھنڈ کے قبائیلی علاقوں میں سرگرم تھے اور ان قبائیلوں کی زندگی بہتر بنانے اور انسانی حقوق کی بازیابی کی کوشش میں لگے تھے ۔ انھیں حقوق انسانی کے لئے کام کرنے کی جس طرح سزا دی دی گئی ،وہ بہت ہی شرمناک اور افسوسناک ہے ۔ ایسے ہزاروں سانحات سے ملک کی شبیہ کریہہ ہورہی ہے۔ بیرون ممالک میں ہدف ملامت بنایا جا رہا ہے ۔ لیکن ان باتوں پر حکومت قطئی توجہ نہیں دیتی ۔ ہاں گفتار کے غازی ضرور ہیں ۔ حقوق انسانی کو سلب کئے جانے والے سانحات اور واقعات کو کبھی بھی روکنے کی عملی کوشش دیکھنے کو نہیں ملتی ہے ۔ گزشتہ مئی ماہ میں ہونے والی عالمی ا نسانی حقوق کونسل میں ہندوستان کے غیر حاضر رہنے پر فلسطینی وزیر خارجہ ریاض مالکی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان نے احتساب ، انصاف اور امن کے راستے پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ شامل ہونے کا موقع گنوا دیا ۔ جولائی ماہ میں امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے ہندوستان آمد پر سول سوسائیٹی کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران میڈیا کی آزادی ، لو جہاد اور اقلیتی حقوق جیسے اہم مسئلوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت میں ہر کسی کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق ہے ۔ سال رواں کے جولائی ماہ میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ہندوستان کے انسانی حقوق سلب کئے جانے والے حالات کے پیش نظر اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ہندوستانی حکام انسانی حقوق کے کارکنوں ، صحافیوں اور حکومت کے ناقدین کا منھ بند کرنے کے لئے ٹیکس چوری ، مالی بے ضابطگیوں وغیرہ کے الزامات کا استعمال کر رہے ہیں ۔ اس بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ستمبر ماہ میں مالیاتی اداروں کے اہلکاروں نے دہلی ، ممبئی اور سری نگر میں کئی مقامات پر چھاپے مارے جن میں ایک صحافی ، ایک اداکار اور انسانی حقوق کے کارکن کے گھر اور دفتر پر چھاپہ ماری شامل ہے ۔ایسے بین الاقوامی تبصروں پر حکومت ہند کا سنجیدگی سے نوٹس لئے جانے کے بجائے انھیں نظر انداز کرنے کا رویہ عام ہے ۔ ہاں کردار کے بجائے گفتار کے غازی بننے کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے ۔ اس سال قومی انسانی حقوق کمیشن کے 28 ویں یوم تاسیس پر منعقد ہونے والے پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے حقوق انسانی کی پامالی کی نشاندہی کرنے والوں کو ہدف ملامت بناتے ہوئے کہا کہ حقوق انسانی کے نام پر کچھ لوگ ملک کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، جبکہ ہندوستان انسانی حقوق کے حوالے سے ہمیشہ حساس رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی نے دنیا کے کئی اہم ممالک اور اداروں کے ذریعہ اپنے ملک کے اندر ہونے والے غیر انسانی سلوک پر افسوس کا اظہار اور تنقید کو پوری طرح نظر انداز کر دیا ۔
ہندوستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کے اس منظر نامہ کے بعد اب ذرا ان اس تناظر میں عالمی سطح پر ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔دیکھا جائے تو حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے 10 دسمبر ہی وہ اہم تاریخ ہے، جس دن عالمی یوم حقوق انسانی کے طور منعقد کیا جاتا ہے ۔عہد حاضر میں پوری دنیا میں جس طرح انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے ۔ اس لحاظ سے اس تاریخ کی اہمیت کافی بڑھ جاتی ہے۔ 10 دسمبر1948ءکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وقت اور حالات کے تقاضے کے تحت انسانی حقوق کا آفاقی منشور منظور کیا تھا ۔اس انسانی حقوق کے آفاقی منشور کو انگریزی میں Universal declaration of Human Rights کا نام دیا گیا تھا ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس منشور کی منظوری کے وقت اسے افراد اورا قوام کے لئے حصول مقصد کا مشترک معیار قرار دیا گیاتھا ۔ جسے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تعلق سے باضابطہ پہلے اعلان کے طور پر بھی مانا جاتا ہے۔جس کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر ہر سال دنیا کے بیشتر ممالک میں نہ صرف انسانی حقوق تحفظ کے لئے بلکہ انسانی اقدار و انسانی وقار کی عظمت کے اعتراف کے لئے منعقد کیا جاتا ہے ۔ مختلف سیاسی وسماجی پلیٹ فارموں سے کانفرنسوں، سیمیناروںاور مباحثوںکا اہتمام کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے لئے سرگرم عمل مختلف سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں اور شعبوں کے ذریعہ بھی تقریبات و نمائش کا انعقاد کر کے حقوق انسانی کے تعلق سے درپیش مسائل کے تدارک کے لئے لائحہ عمل تیار کئے جاتے ہیں ۔ عالمی سطح پر یوم انسانی حقوق کے لئے 10 دسمبر کی تاریخ کو اس قدر اہمیت دی گئی کہ اسی تاریخ کو انسانی حقوق کے لئے مختلف سطح پر خدمات انجام دینے والوں کو پانچ سالہ اقوام متحدہ انعام اور نوبل امن انعام سے نوازا جاتا ہے۔ ©’ عالمی یوم حقوق انسانی ‘ کے سلسلے میں کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کاانفرادی فطری حقوق کاتصورجان لاک(John Locke) نے دیا تھا ۔ جان لاک (1632-1704) نے نظریہ حریت فطری کے تصور کو پیش کیا تھا ، جو عالمی انسانی حقوق کی جانب پہلا قدم سمجھا جاتا ہے۔ ویسے اس سلسلے میں میرا ماننا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو اور انسان خودکو پیدائش سے ہی نہ صرف آزاد محسوس کرے بلکہ وہ مساوات اور انصاف کے تحت آزادانہ طور پر اپنے تمام ترحقوق کے ساتھ زندگی گزارے۔اس کا پہلا اور باضابطہ نظام حیات کا تصور اب سے چودہ سو سال قبل ہمارے آخری پیغمبرمحمدﷺنے قران کے حوالے سے دیا تھا ۔جسے دانستہ طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے کہ اس اعتراف سے اسلام کی واضح تصویر اور تصور سامنے آتی ہے ۔ بہر حال اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر حقوق انسانی کے لئے کسی منشور یا لائحہ عمل کی ضرورت ہی کیوں پڑی۔ اس سے قبل بھی تو انسانی حقوق سلب کئے جارہے تھے ، انسانی استحصال کا سلسلہ عام تھا اور انسانی رشتوں کی، انسانی اقدار کی پامالی ہو رہی تھی ۔
دراصل دوسری عالمی جنگ عظیم ( 1939-1945) میں انسانیت اور انسانی زندگی جس بے رحمی، بربریت سے حیوانیت کی شکار ہو ئی۔ سفاکیت اور قتل و غارت گری کے جس طرح مظاہرے ہوئے ۔ دنیاکا امن و امان جس طرح خاک وخون سے لت پت ہوا۔ خاص طور پر ہٹلر نے جس طرح انسانیت اور انسانی حقوق کو پامال کیا ۔اس دورکے درد و کرب سے بھری ،انسانی چیخ و کراہ کے سانحات سننے کے بعد آج بھی لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔انسانی جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔اب غور کیجئے کہ ہٹلر کی حکومت نے اپنے مخالفین کی بڑھتی تعداد کو اجتمائی موت کے منھ میں ڈالنے کے لئے جو گیس چیمبر تیار کرایا تھا ۔ اس تجربہ گاہ میں تجربہ کے لئے رومانیہ کے تقریباََ چار سو معصوم بچوں کا اغوا کر ایا گیاتھا اور بڑی بربریت اورسفاکیت سے مختلف گیس چیمبروں میں تجربہ کر تے ہوئے مار ڈالا گیا تھا ۔ اس سے بڑھ کر اور حیوانیت کیا ہو سکتی ہے۔ ایسے بے شمار سانحات اور حادثات دوسری عالمی جنگ میں دیکھنے کو ملی تھیں ۔ ایسے حالات میں عالمی جنگ ختم ہوتے ہی امن و امان کی فضا قائم کرنے کے لئے اورظلم، تشدد، سفاکیت اور حیوانیت سے انسان کو محفوظ رکھنے کے لئے عالمی سطح پر غور و فکر کیا جانے لگا اور سب سے پہلے ایسی بھیانک جنگ و جدال کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لا یا گیا اور اس کے فوراََ بعد ہی دنیا کے مختلف خطوں میں ہو رہی بربریت ،دہشت اور حیوانیت اور وحشیانہ عمل میں ڈوبی درد و کرب سے چیختی، کراہتی انسانیت کے لئے عالمی سطح پر حقوق انسانی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ، اس کے لئے باضابطہ طور پر ایک منشور تیار کیا گیا ۔جس کا بنیادی مقصدیہ تھا کہ انسان دنیا میں آزاد اور پُر امن رہے۔ اس لئے کہ انسانی تاریخ کے اوراق یہ بتاتے ہیں کہ مذہب،سیاست،معیشت،ثقافت، زبان ، رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ عرصہ دراز سے عام تھا ۔ گرچہ اتنے برسوں کے گزر جانے کے بعد اور اتنی کوششوں کے باوجود بھی دنیا میں امن و امان کا ماحول قائم نہیں ہوا۔ جو پوری انسانیت کے لئے بڑا المیہ ہے۔لیکن پہلے ایسا کوئی منشور اور کوئی نظم و ضبط کی پابندی لگانے والا ادارہ قائم نہیں تھا کہ جس کے سامنے، ظلم و زیادتی اور استحصال کرنے والے ملک کے خلاف اٹھائی جاتی ۔بہت ہی افسوسناک اور المناک صورت حال یہ بھی ہے کہ آج بھی طاقت ور قومیں کمزور ممالک پر مسلط ہیں ۔ ایک طرف دنیا کے مختلف ممالک میںجہاں مٹھی بھر لوگ اعلیٰ معیار زندگی گزار رہے ہیں ، وہیںدوسری جانب کافی بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو بھوک، پیاس، غربت، غلامی، ناخواندگی،، تنگدستی، بے روزگاری کے شکار ہے ۔ایسے لوگ حاشیہ پر پڑے ہیں،ا ن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ان حالات میں بین الاقوامی ادارہ کی جانب سے ہر سال 10 دسمبر کو عالمی سطح پر یوم انسانی حقوق کا انعقاد کر انسانیت کے خلاف جبر، ظلم ، تشدد ، بربریت ،عدم رواداری، حق تلفی ، ناانصافی ، استحصال پر قد غن لگانے کی کوششوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.