Select your Top Menu from wp menus

دین وسیاست کے سنگم مولانااسرارالحق قاسمی

دین وسیاست کے سنگم مولانااسرارالحق قاسمی

پروفیسر اختر الواسع
چیئر مین مولانا آزادیونیورسٹی جودھپور

ہندوستان میں ہمیشہ سے علما اورخانقاہوں سے وابستہ بزرگوں نے تمام طرح کی جدوجہد میں حصہ تولیا،مگر عام طور پرانتخابی سیاست کو وہ شجرِممنوعہ ہی تصورکرتے رہے؛چنانچہ دیکھاگیاکہ جدوجہدِ آزادی کے سرخیل رہنے والے اکثر علما عملی سیاست سے اس وقت کنارہ کش ہوگئے، جب آزاد ہندوستان میں حکمرانی کاوقت آیا،میں سمجھتاہوں کہ اس سے ملت کا نقصان ہی ہوا، انتخابی سیاست میں معدودے چندعلما نے ہی حصہ لیا،جن میں مجاہدِ ملت مولانا حفظ الرحمن، مولانا مظفرحسین کچھوچھوی،مولانا اسحق سنبھلی، مولانا شاہد فاخری، مولانا نوراللہ، مولانا عبیداللہ اعظمی کے نام قابل ذکر ہیں؛ لیکن فداے ملت مولانا اسعد مدنی کے دکھائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ان کے وابستگان میں مولانا سید احمد ہاشمی، مولانا محمود اسعد مدنی، مولانا بدرالدین اجمل قاسمی اور مولانااسرارالحق قاسمی نے اس ملک کی سیاسی و پارلیمانی زندگی میں اپنی خاص پہچان بنائی،مولانا اسرارالحق قاسمیؒ ، جو اب ہمارے بیچ نہیں رہے، ان لوگوں میں شامل تھے، جن کی ساری زندگی ملتِ اسلامیہ کے حقوق کی بازیابی اور مسلمانوں کی ترقی کے لیے جدوجہد سے عبارت تھی۔ان کے انتقال سے ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہواہے، جس کی تلافی شاید جلد نہ ہوپائے۔
مولانااسرارالحق قاسمی اسلاف کا نمونہ اورایک ایسے سیاسی قائدتھے، جن کی شبیہ،جن کا کردار اورجن کی سادگی بھری زندگی کو ہمیشہ نمونہ کے طورپر پیش کیاجاتارہے گا، تاریخ میں کچھ سیاسی شخصیات کی سادگی، متانت اورملک و ملت کے لیے فکرمندی کے قصے ہم عرصے سے سنتے رہے ہیں، مگر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مولانا اسرارالحق قاسمی دوبارلگاتارلوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے، مگران کے چہرے پر نہ کبھی کوئی رعونت دیکھی گئی اورنہ ان کے اندازِ زندگی میں کوئی کروفر محسوس کیا گیا؛ بلکہ وہ اپنی سادگی، ایمانداری اورملی ہمدردی کانمونہ بن کر ہمیشہ اورہرجگہ اپنی چھاپ چھوڑتے رہے۔
مولانااسرارالحق قاسمیؒ سے میری بارہا مختلف پروگراموں میں ملاقاتیں رہیں،ان سے بہت سے امورپر تبادلۂ خیال ہوا، ہر بار میں ان کی نیکی و شرافت کاقائل ہوتا رہا، وہ یقیناًاس ملک کے ایسے مسلم قائدتھے، جن کارشتہ دین و ملت سے نہایت مضبوط توتھا ہی، وہ دیش دنیاکے مسائل پر بھی گہری نگاہ رکھتے تھے،مولانا کی عملی زندگی کاآغاز گرچہ کسی مدرسے کی مدرسی سے ہواتھا، مگرجلد ہی وہ جمعیۃ علماے ہندکے پلیٹ فارم سے سرگرم ہوگئے تھے؛ چنانچہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی ؒ کی رہنمائی میں وہ اپنا رول انجام دیتے رہے اور وہیں سے انھو ں نے ملک وملت کی تعمیروترقی کا خواب دیکھاتھا،انھوں نے جمعیۃ علماے ہند کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے ملک گیرسطح پر ملت کی بھلائی کا کام کیا،آل انڈیاملی کونسل کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل کی حیثیت سے ملک کے کونے کونے میں تحریکیں چلائیں اورآل انڈیاتعلیمی وملی فاؤنڈیشن کے بینرتلے تعلیمی جدوجہدکی،اسی کے ساتھ ساتھ ان کی فکرتھی کہ وہ کشن گنج کے عوام، جو ہراعتبارسے پسماندہ ہیں،انھیں ترقی کی راہ پر ڈالاجائے اوریہ کام سیاست کے راستے سے ہی ممکن تھا؛چنانچہ انھو ں نے کشن گنج پارلیمانی حلقہ سے کئی بارانتخابات میں حصہ لیااورگزشتہ دوبارسے وہ بھاری ووٹوں سے کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب بھی ہوئے ۔2009میں جب ان کو کامیابی حاصل ہوئی تھی ،توانھیں مرکزی وزیربنائے جانے کی بھی بات کافی حد تک گشت کرچکی تھی، مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا، مولانا اسرارالحق قاسمی کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے وہ سب کچھ نہ کرسکے، جووہ کرناچاہتے تھے؛ کیونکہ ہندوستان میں کسی بھی سیاسی جماعت میں جمہوری مزاج کو ابھی وہ پختگی حاصل نہیں ہوسکی ہے؛چنانچہ قارئین کو یادہوگا کہ جب پارلیمنٹ میں تین طلاق کے موضوع پربحث ہورہی تھی، تومولانا اسرارالحق قاسمی کو اپنے جذبات کے اظہارمیں پارٹی حائل ہوتی ہوئی نظر آئی۔
مولانا اسرارالحق قاسمی سیکولر مزاج اور جمہوریت پسند تھے؛ چنانچہ انھو ں نے اس ملک کے لیے سب سے زیادہ خطرناک فرقہ واریت کو قرار دیا تھا اورفرقہ واریت کے خلاف انھو ں نے درجنوں مضامین تحریرکیے، وہ ایک اچھے سیاسی قائد،بہترین دینی رہنما اور کہنہ مشق مضمون نگاربھی تھے؛چنانچہ ان کی تحریروں کو عوام وخواص میں بے حدقبولیت حاصل تھی،ہندوستان کے حالاتِ حاضرہ پر وہ نہایت قیمتی مضامین تحریرکرتے تھے،مولانا کی فکر وہی تھی، جو ملت کے سوادِاعظم کی تھی،یہی وجہ ہے کہ انہیں ہرطبقہ،ہرجماعت اور ہر انجمن میں یکساں مقبولیت حاصل تھی،مولانا اپنی تحریر و تقریر اورتصنیفات کے ذریعے ملت کی ترجمانی ہرجگہ کرتے تھے،بحیثیت مقرر انہیں بے حدمقبولیت حاصل تھی، ملک کے کونے کونے میں مدعو کیے جاتے تھے اور ان کی تقریر نہایت عقیدت سے سنی جاتی تھی۔
مولانا اسرارالحق قاسمی کا سب سے بڑا کارنامہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ریلیف و راحت کاری بھی ہے، انھوں نے جمعیۃ علماے ہنداورآل انڈیاملی کونسل اورپھر تعلیمی وملی فاؤنڈیشن کے تحت بہت سے فسادزدگان کی ریلیف و بازآبادکاری کا کام کیا، اسی کے ساتھ مختلف سماوی آفات کے موقع پر بھی ریلیف وراحت رسانی کے فریضے کو انجام دیتے رہے،یہ ایسا کام ہے ،جو کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے،انھوں نے اس میدان میں جو کارہاے نمایاں انجام دیے ہیں، وہ بے مثال ہیں۔
مولانا اسرارالحق قاسمی سے بارہاملاقاتوں اورگفتگو سے جو تاثرمیں نے لیاہے، اس کی بنیادپر کہہ سکتاہوں کہ ان کے اندرجو بردباری، معروضیت اور سنجیدگی تھی، وہ ایک سیاسی قائد کی حیثیت سے انھیں ممتاز بناتی تھی،وہ خودنمائی سے پوری طرح پاک تھے،تصنع نام کی کوئی چیز ان کے اندرنہیں پائی جاتی تھی،نہایت ملنسار،خاکساراوردل پذیرشخصیت تھی ان کی،واقعی ایسے لوگ دنیا میں کم پائے جاتے ہیں۔
مولانااسرارالحق قاسمی ایسے روشن خیال عالمِ دین تھے، جن کے فکر و خیال کی ملک و ملت کو زیادہ ضرورت ہے، ایسے لوگوں کو آگے بڑھنے میں کافی دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے؛ چنانچہ مولانا کے سامنے بھی زندگی میں بہت سی دشواریاں پیش آئی ہوں گی، مگروہ اپنی نرم مزاجی،دلجوئی اور سب کو مناسب احترام دینے کی اپنی روش سے دنیا کو مسخرکرتے رہے،یہی وجہ ہے کہ ان سے خانقاہوں کے لوگ بھی متاثرتھے اورعصری دانش گاہوں کے افراد بھی قربت رکھتے تھے،وہ ایسے سیاسی قائدتھے، جن کے ساتھ نہ سیاسی کارکنوں کو چلنے میں کوئی رکاوٹ تھی اورنہ دینی مزاج کے افراد کو کوئی پریشانی تھی،ایسی عادت اور مزاج و خوکے لوگ معاشرے میں زبردست رسوخ رکھتے ہیں اورجس کے نتیجے میں معاشرہ کی اصلاح ہوتی جاتی ہے، وہ جہاں جاتے ،اپنے رنگ وبوکی فضاقائم کرتے جاتے،عام طورپر سیاست داں الگ مزاج کے ہوتے ہیں اور دینی قائد کا مزاج جدا ہوتا ہے، مگروہ ایک ایسی شخصیت تھے ،جن کے اندردینی مزاج بھی پوری طرح پایاجاتااورسیاسی نظربھی ان کی نہایت باریک تھی،ایسے قائدہمیں برسوں میں ملاکرتے ہیں۔اللہ سے دعاہے کہ ان کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اورملک وملت کو ان کا نعم البدل عطاکرے۔(آمین)
*صدر مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھپور
پروفیسرایمریٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی

  • 1
    Share
  • 1
    Share