Select your Top Menu from wp menus

نوجوان طالب علموں کے لئے مشعل راہ ہے امتیاز عالم کی زندگی 

نوجوان طالب علموں کے لئے مشعل راہ ہے امتیاز عالم کی زندگی 
      اگر ایک  انسان کہ اندر حوصلہ بلند اور کامل  یقین  والی صفت آجائے تو پوری دنیا کی کامیابی ان کے سامنے ایسے ہی سجدہ ریز ہونگی جیسا کہ عابد اپنے معبود حقیقی کے سامنے مسجدوں میں سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔کیونکہ جب ایک انسان کے اندر عزم ،حوصلہ ،ہمت اور کچھ کرگزرنے کی صفت آجاتی ہے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت چاہے وہ مسلکی ،مذہبی ،روحانی ،جسمانی اور جذباتی طور پر ہو اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔نتیجتا محنتی اور جواں عزم صفت سے متصف لوگ اپنی مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں بقول شاعر _
   دن کو تارے رات کو سورج اگا سکتا ہے تو
   مشکل   نہیں    ہے    گر       ٹھان      لیجئے
   مذکورہ بالا شعر کو  اور جب ہمارے ممدوح جناب امتیاز عالم کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس شعر پے  سو فیصد کھڑا اترتے ہیں ۔ موصوف کا تعلق صوبہ بہار کے ایک مشہور و معروف ضلع کشنگنج کے باغ رانی مرزاپور گاؤں سے ہے ۔وہ اس گاؤں  میں 15 اگست 1994ء کو پیدا ہوئے ۔ان کے والد محترم  اسرام الحق نے انہیں بڑے ہی لاڈ و پیار  سے پالا اور ان کی والدہ ماجدہ نے ان کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑا ۔یہی وجہ ہے کہ موصوف نے  چار سال کی عمر میں گاؤں کےمدرسہ میں اپنی تعلیم کی شروعات کی پھر تین سال کے بعد ڈلوا مڈل اسکول میں داخلہ لیا اور اچھے نمبرات  سے کامیاب ہوکر پوٹھیا ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور یہی سے آپ نے دسویں 73 % اور بارہویں 67% نمبرات سے پاس کئے ۔پھر اس کے بعد آپ نے BNMU کالج ٹھاکر گنج سے بی ، اے جغرافیہ میں کیا جس میں آپ نے 76% نمبر لاکر کالج ٹاپ کرکے اپنے گاؤں اور علاقے کا نام روشن کیا
         موصوف کی یہ تو تھی تعلیمی زندگی کی چند جھلکیاں  جس طرح انہوں نے اپنی تعلیمی زندگی میں محنت اور لگن کی وجہ کر ہر کلاس میں اچھے نمبرات سے پاس ہوتے رہے ٹھیک اسی طرح گورنمنٹ کی جانب سے جوب کے لئے جو انٹرانس امتحان لیا جاتا ہے اس میں  بھی ممدوح نے اپنا سکہ جمایا یہی وجہ ہے کہ وہ 2104 ء  -2015ءاور 2016ء  میں لگاتار تین مرتبہ    ڈیفینس میں انڈین آرمی  جی ڈی کوالیفائی کئے ۔پھر 2015ء میں انڈین آرمی کلرک۔اسی طرح    2015 ء میں جی ڈی ایس ایس سی اور 2016 ء میں کولکتہ پولیس کوالیفائی کئے ۔
     ان تمام کے باوجود ہمارے ممدوح کو سرکاری جوب نہیں مل سکی کیونکہ کہیں نہ کہیں  اللہ کی مرضی اور قسمت ہمارے ممدوح اور جوب کے بیچ میں آجاتی اور ہر وقت وہ جسمانی فٹنس کی وجہ کر  اس میدان سے نہیں جڑ سکے ۔جس کی وجہ کر گاؤں کے لوگوں کے کہنے اور ممدوح کے والد محترم کی خواہش کی وجہ کر وہ  2017ء میں  دھلی کا رخ کئے اور دھلی کے مکھرجی نگر میں یو پی ایس سی کی تیاری کرنے لگے ۔لیکن وہاں بھی قسمت نے ان کا ساتھ نہیں  دیا اور طبیعت خراب ہونے کی وجہ کر موصوف کو دھلی چھوڑنا پڑا ۔آخر کار 2018  ء میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسیٹی کا انٹرانس امتحان پاس کرکے بی ایڈ کرنے اورنگ آباد تشریف لے آئے ۔
     موصوف کی زندگی کے بارے میں جان کر اور ان کی زندگی میں ہونے والی الٹ پھیڑ کو پڑھ کر کہیں نہ کہیں ان طالب علموں کے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے جو اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہونے کی وجہ کر خودکشی کرلیتے ہیں  یا تعلیم و تعلم سے اپنا رشتہ توڑ لیتے ہیں ۔اس لئے امتیاز بھائی کے بقول کہ ہمارے نوجوان طالب علموں کو چاہئے کہ وہ ایمانداری سے اپنا کام کریں تعلیم و تعلم سے جڑے رہیں اور اس کے بعد اللہ پر یقین رکھے یقینا اللہ انہیں ضرور اپنے مقصد میں کامیاب کرے گا کیونکہ اللہ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ۔
       ذیشان الہی منیر تیمی
  • 5
    Shares
  • 5
    Shares