Select your Top Menu from wp menus

“بہار کا ایک درخشندہ ستارہ غروب ہوگیا”

“بہار کا ایک درخشندہ ستارہ غروب ہوگیا”
عبدالخالق القاسمی مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور مظفرپور
مسلسل حادثوں نے مسلمانان ہند کو نڈھال کر دیا ہے,یکے بعد دیگرے علماء کرام کا ہمارے بیچ سے اٹھ جانا ایک لمحہ فکریہ ہے,حضرت مولانا قاسم رح بانی جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ کے انتقال پرملال کی خبر  سے انتہائی صدمہ پہونچا,مرحوم ایک جید عالم دین کے ساتھ صالح متقی اور پرہیز گار لوگوں میں تھے,نیک سیرت اور پاک طینت انسان تھے,حضرت مرحوم سے ہم بہت زیادہ مانوس تو نہیں تھے,مگر چند ملاقات نے مجھے ان سے بے حد متاثر کردیا تھا,جب میں بہار شریف سلیم پور کی ٹاون مسجد میں امامت کے فرائض پر معمور تھاتوتقریبا تین سال کے  عرصہ میں کئی مرتبہ حضرت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا,حضرت مولانا سے میرا پہلا تعارف 2014ء میں اسوقت ہوا جب آپ حاجی نظام الدین صاحب کی دعوت پر کسی تقریب میں ان کے گھر تشریف لائے, دوسری ملاقات 2015 ء میں مدرسہ کریمیہ بہار شریف میں ہوئی,اس موقع سے حضرت سے گفتگو کرنے کا موقع بھی میسر آیا,اوراس ملاقات میں ان کی شخصیت کو بلا واسطہ سمجھنے کا موقع ملا, جس میں حضرت مولانا کا بنیادی وصف جس پر تمام تر اخلاقیات کے بیل بوٹے نمایاں نظر آئے,اور ہمیشہ رہنے والے بلند کارنامے کی ضوفشانی نظر آئی,حضرت مرحوم صدق و صفاء خلوص و صداقت کے پیکر تھے,ان کا مطمح نظر خلق خدا کی بے لوث خدمت کرنا تھا جو ریاءو سمعہ شہرت اور ناموری جیسی برائیوں سے پاک و صاف تھا,انہوں نے اپنے خون جگر سے ملت اسلامیہ کو سینچا اور خصوصا ایسے علاقے میں جو رسم و رواج کے قیود میں جکڑے رہنے اور وسائل و اسباب کے فقدان کے باعث ہر چہار طرف کی آبادی سے الگ تھلگ علم و فن کی روشنی سے نا آشنا تھا ایک ایسے علمی مرکز کو تعمیر و ترقی بخشی جو پٹنہ شہر اور اس کے قرب و جوار میں انقلاب خیز اور فکر انگیز ثابت ہوا اور بیرون علاقہ دور دور تک علم و ادب کی روشنی پھیلائی,اور الحمداللہ آئندہ بھی ان کالگایا ہواباغ جامعہ مدنیہ  ملک و ملت کی گرانقدر خدمات انجام دیتا رہیگا,اپنی 65 سالہ زندگی میں حضرت نے خلوص و للہیت اور ایمان و احتساب کے ساتھ وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں جن کی  مثال بمشکل  ملتی ہے,حضرت علیہ الرحمہ اپنے دینی,علمی,فلاحی کاموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد کئے جا ئںگے,آپ تو دنیا سے رحلت فرما گئے مگر بیش بہا خدمات کی وجہ آپ کا نام ہمیشہ زندہ جاوید رہیگا,آپ اعلی اخلاق و کردار کے مالک تھے,تواضع مہمان نوازی آپ کی فطرت تھی,عام و خاص سب لوگوں سے دل کھول کر ملتے تھے,مسکراہٹ ہمیشہ چہرے پر دوڑتی رہتی تھی,ہر چھوٹے بڑے سے خندہ پیشانی سے ملتے خیرو عافیت دریافت کرتے پیارو محبت سے باتیں کرتے اور بزرگانہ شفقت کا سراپا مظہر بن جاتے باہر سے آنے والوں کی خبر گیری کرتے ان کی ضیافت پر خصوصی توجہ دیتے تھے ان کی شخصیت میں جو جاذبیت اور کشش تھی وہ ان کی سادگی اور سیدھی گفتگو سے تھی,مرصع اور مسجع گفتگو سے ہمیشہ پرہیز کرتے تھے,بہت کم بولتے تھے,لیکن جوبولتے تھے عملی بات ہوتی تھی,کلام ناپ تول کر مخاطب کے سامنے رکھتے تھے,بہار کا درخشندہ ستارہ اگرچہ غروب ہوگیا مگر اس کی شمع ضو فشانی ابھی بھی باقی ہے جس کی روشنی  آج بھی اور آئندہ بھی طالبان علم و نبوت کو راہ حق دکھلاتی رہیگی, حضرت مولانا کی ذات گرامی یقینا بہت بافیض تھی,اور یہ سب ان کے حسن و اخلاق کا نتیجہ تھا,حضرت مولانا نے پٹنہ اور اس کے اطراف اکناف کے پورے علاقہ میں دینی و علمی ماحول قائم کرنے اور عوام الناس کو علماء کے قریب لانے کے لیے  جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ کی بنیاد ڈالی اراکین مدرسہ کے تعاون سے بڑے بڑے دینی اجتماعات کرائے تاکہ ان جلسوں کے ذریعہ لوگوں میں علم کی جستجو دین کی طلب اور تڑپ علماء ربانی سے عقیدت و محبت کے پاکیزہ جذبات پیدا ہوں,اور لوگ علماء حقانی کی نورانی صحبتوں سے دین حق حاصل کریں اور کتاب و سنت کی ترویج اور اس کی اشاعت میں پوری زندگی گزار دیں,یہی وجہ ہیکہ جامعہ مدنیہ کی تعمیرو ترقی کے سلسلے میں حضرت مولانا کی ایک خاص سوچ اور فکر تھی,حضرت مولانا کی پوری زندگی اور زندگی کا ہرایک باب نہایت تابناک اور ملت کے لئے نشان راہ ہے, اللہ مرحوم کو غریق رحمت کرے, مولانا علیہ الرحمہ کے چھوٹے بھائی مولانا ناظم صاحب اپنے برادر بزرگوار کے مزاج شناس ہیں اب یہ ان کے کاموں کے امین ہیں حضرت علیہ الرحمہ سے جڑے تمام لوگوں کو ان سے بڑی امیدیں ہیں,اللہ تعالی سے دعا ہیکہ وہ اپنے برادر مکرم مولانا قاسم رحمۃ اللہ علیہ کے سچے اور پکے جانشین ثابت ہوں,اللہ ان کی عمر کو دراز کرے اور مولانا کے چھوڑے ہوئے کام کے تکمیل کی توفیق عنایت فرمائے.
  • 1
    Share
  • 1
    Share