درس وتدریس کے نظام کو موجودہ ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرناوقت کا اہم ترین تقاضہ

0

 

 

مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی

ایک اندازے کے مطابق کورونا کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت کو اگلے دو برسوں میں 8 لاکھ پچاس ہزار ڈالر کا نقصان ہوگا اور ساڑھے تین کروڑ سے زائد افراد انتہائی غربت میں گر جائیں گے۔ یہ نقصانات اتنے بڑے ہیں کہ ان کی تلافی میں برسوں لگیں گے۔ لیکن کورونا کی جو مار تعلیم کے شعبے پر پڑ رہی ہے۔ اور
پوری دنیا میں سو کروڑ طلبہ و طالبات اس سے متاثرہوئے ہیں۔ ہندوستان میں بھی گزشتہ چند مہینوں سے تعلیمی اداروں کا تعلیمی نظام موقوف ہونے کی وجہ ناقابل تلافی نقصان ہواہے۔کیونکہ ہندوستان کے 32 کروڑ طلبہ و طالبات میں جنہیں آن لائن کلاسز کا فائدہ مل رہا تھا ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ مشہور عالم دین چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈریسرچ ٹرسٹ بنگلور و جامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی نے مختلف صحافیوں کے درمیان ان خیالات کا اظہار کیا۔
انہوں نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ
جہاں تک آن لائن کلاسز کا مسئلہ ہے تو یہ تجربہ ہندوستان میں بالکل نیاتھا ۔ لاک ڈاؤن میں یہ کتنا سود مند رہا، اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس کے ذریعہ اساتذہ اورمدرسہ/ اسکول اپنے طلبہ و طالبات کے ساتھ رابطے میں رہے ۔ اوسط ذہن رکھنے والے بچے تو صرف اپنی حاضری درج کرنے کے لئے آن لائن کلاسز کر رہے تھے ۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تعلیم افراد، معاشرے اور قوموں کی ترقی میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی اور تیزرفتاری کی بدولت جہاں زندگی کے ہر شعبے میں غیرمعمولی تبدیلی آئی ہے وہاں تعلیم کا انداز بھی آن لائن سسٹم کے باعث تعلیمی نظام متاثر ہوا ہے۔
ایسی صورت حال میں حفظ ماتقدم کے طور پر اب ہمیں اپنے درس وتدریس کے نظام کو موجودہ ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ہمیں مثبت مائنڈ سیٹ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے انتہائی دلنشیں انداز ميں کہا کہ انسانی تعلق اور طبعی وابستگی تعلیم کا دل ہے۔ استاد اور طلباء کے درمیان فزیکل مکالمے کا کوئی نعم البدل ہو نہیں سکتا۔ ٹیکنالوجی کسی بھی طرح سے استاد کے کردار اور افادیت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ لیکن وقت اور حالات کے پیشِ نظر اساتذہ کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا، ٹریننگ دینا ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔ اس ضمن میں اساتذہ کی تربیت، درس وتدریس کا اسٹائل اور مائنڈ سیٹ بدلنے کی اشد ضرورت ہے،
درحقیقت ’’تدریس ایک مقدس پیشہ ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اپنے پروفیشن کی وجہ سے اساتذہ مقدس ہستیاں ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم2021 کی ایک رپورٹ میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس نے ہم پر عیاں کردیا ہے کہ ہم تعلیم کے مستقبل کو اس کے حال پر نہیں چھوڑ سکتے۔ اس سلسلے میں کئی نئے منصوبوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جن کے ذریعے ہم مستقبل کی منصوبہ سازی کرکے بہتر نتائج حا صل کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ مستقبل میں ہمیں کئی نئےچیلینجز کاسامنا کرناپڑ سکتا ہے ۔ ہمیں اپنے تعلیمی وژن اور مشن کو پورا کرنے کے لیے صرف وہی اقدام نہیں کرنے ہیں جو صرف ہمیں مناسب اور قابل عمل لگ رہے ہیں بلکہ ہمیں حالات کے پیشِ نظر غیرمعمولی اقدام کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سردست چار اہم نکات قابل توجہ اورلائق عمل ہیں:
1۔ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے عمل کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
2: تعلیم وتربیت کے حصول کے لیے تعلیمی اداروں کو ہی مرکزی حیثیت حاصل ہو لیکن تعلیمی سلسلہ صرف تعلیمی اداروں کی چاردیواری تک محددو نہ ہو۔
3: تعلیم ہر جگہ، ہر وقت، ہر کسی کے لیے یکساں اور دست یاب ہو۔
مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے آپ کو ہمیشہ دوراندیش ، وسیع النظر اور چوکنا رہنے کے ضرورت ہے۔ یہ رونا رونے اور مسائل کا نوحہ پڑھنے کا نہیں بلکہ عملی اقدام کرنے کا وقت ہے۔ تعلیمی سسٹم کو اس تبدیلی کے لیے تیار ہونا پڑے گا۔
ہم انسانی خوبیوں کی طاقت کو جانتے ہیں اور زندگی میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کی افادیت سے واقف ہیں۔ ہمیں عوامی بھلائی اور اجتماعی مفاد کے لیے تعلیم کی اہمیت کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔
موجودہ پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہم سنجیدگی کے ساتھ ٹھوس اور جامع اقدامات کریں گے تو ہی ہم تعلیمی نظام میں اس تبدیلی کے لیے خود کو تیار کرسکتے ہیں۔
موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے
ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو جدید طریقے سے ایسے ہم آہنگ کرنا ہوگا کہ یہ وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہو۔
آج کا دور اور وقت ڈیٹا اور اسپیشلائیزیشن کا دور ہے۔ ہر چیز کو ڈیٹا کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے اس لیے تعلیمی نظام کو بھی ڈیٹا سے جوڑنا ہو گا۔
سب سے اہم اور کلیدی کردار طلبا کا ہوگا۔ اُنہیں اپنی تعلیم کے عمل کو مکمل طور پر اون کر نا ہوگا۔ اگر طالب علم اس عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے تو ہی مطلوبہ نتائج حا صل کیے جاسکتے ہیں۔ طلباء کو ڈگری کی دوڑ سے نکل کر لرننگ کی طرف توجہ دینی ہو گی تاکہ وہ بدلتے ہوئے دور کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ تعلیم یک طرفہ عمل نہیں بلکہ یہ حکومت، معاشرے، والدین، اساتذہ اور طالب علموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور جب تک کسی بھی معاشرے میں تمام افراد اپنا اپنا کردار نہیں نبھاتے، معاشرے میں ترقی کی وہ رفتار حاصل نہیں کر سکتے جو وہ چاہتے ہیں۔
لیکن ان سارے سوالات کے ساتھ ایک اور سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ ہندوستانی معاشرہ جہاں اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، وہاں تعلیمی میدان میں نئے چیلینجز سے ہم کیسے نبردآزما ہوں گے۔ کیا ہم واقعی ہی بحیثیت قوم اس اہم نکتے پر قبل ازوقت منصوبہ بندی کررہے ہیں؟ اس کا فیصلہ وقت کرے گا جو کہ ہمارے پاس بہت کم، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.