Select your Top Menu from wp menus

لٹیروں کا دلال ہی دیش کا چوکیدار

لٹیروں کا دلال ہی دیش کا چوکیدار
  نقاش نائطی
56″سینے والے مہان بھاوبلی سنگھی چوکیدار کی چھتر چھایہ میں، دیش کی 50% فیصد سے زائد دولت کے مالک بنتے 9 عدد برہمن پونجی پتی واد
دیش ہوتا جارہا پے قرض دار
اور مزے سے گھوم رہا پے چوکیدار
مہان مودی جی جہاں    بھی جاتے ہیں عوامی  بهاشنوں  میں ہزاروں کروڑ کی وکاس کی گنگا بہاتے چلے جاتے ہیں. روزانہ کی اجرت اور کهانے کی ترغیب دے ٹرکوں بسوں میں لاد کر لائے گئے، لاکھوں غریبوں کے ہجوم میں کسی بھی ان دیکھی، تخیلاتی وکاس پریوجنا میں ایسے ہزاروں کروڑ کے وکاس کا اعلان کیا جاتا پے جیسے ہزاروں کروڑ دیش کی مدرا یا کرنسی نہ ہو  بلکہ کسی ٹی وی سیریل یا بهاوبلی فلم   کے سپر ہیرو، بھگوان کے اوتار  56″سینے والے مہان مودی جی کا آشیرواد دان میں لٹایا جارہا ہو. اور بے چاری بھگوا حکومت کی ماری پریشان حال ننگی بھوکی جنتا،ہزاروں کروڑ کے ان اعلانات میں ایسے کهوجاتی ہے کہ انہیں اپنے آپ کو دیش کا چوکیدار کہلانے والے مودی جی کے دیش کے خزانے کو لوٹ   لوٹ کر بڑے پونجی پتی امبانی ایڈانی کے کهاتوں میں منتقل کرتے لاکھوں کروڑ کی چوری کی دولت انہیں اپنے کھاتوں میں منتقل ہوتی محسوس ہورہی ہو. اسی لئے تو آزادی ہند کے ان  ستر سالوں میں اپنی سب سے بدتر معاشی پالیسیز کے چلتے، دیش کی اردھ ویستها  کو برباد کرکے رکھنے والے چوکیدار کے بھیس میں بڑے پونجی پتیوں کے دلال لٹیرے مودی جی کی جئے جئے کار، ہرسو ہوتی  نظر آتی ہے. رام راج موڈیل بھگوا حکومت  کے ان پانچ سالوں میں دیش کے مختلف شعبوں میں سے کسی ایک بھی شعبہ ہائے زندگی میں مصروف دیش کا کوئی بھی ناگرک، کسی بھی اعتبار سے خوشحال و مطمین نظر نہیں آتا سوائے امبانی  ایڈانی جیسے چند برہمن پونجی پتیوں کے ،جو کروڑوں دیش واسیوں کے حصہ کی روزی روٹی کے لقموں کو  لوٹ لوٹ کر دنیا کے امیر ترین  پونجی پتی بنتے جاریے ہیں
سترسالہ آزادی هند میں ہر انتخاب سے پہلے کانگریس کی سرکار مختلف وکاس کے پروجیکٹ کااعلان کر شیلانیاس کیا کرتی تھی اس سے بعد انتخاب، ریکارڈ پر آئے شیلانیاس کے پتھروں سے وکاس نہ ہونے کے سبب  ان کی بدنامی ہوا کرتی تھی . 2014 عام انتخاب سے قبل وائبرنٹ  گجرات کے مفروضہ ماڈل کا انکے زرخرید میڈیا کے مادهیم سے واویلا کر، ستر سالہ بعد آزادی ھند کے سنہرے کانگریس دور کو بهرشٹ سرکار کے طور بدنام کر، دہلی کی سپتها ہتهیانے والے مہان مودی جی اور ان کی سنگھی رام راجیہ ماڈل حکومت، ابتدا کے کچھ سال، سابقہ کانگریس راج کی شیلانیاس کر شروع  کئے ہوئےپروجیکٹ کا ادگهاٹن کر، میڈیا پر سرخیاں بٹورتی رہی اور اب اپنی حکومتی ابتر پالیسیز کی وجہ سے، اور دیش کی برباد ہوئی اردھ ویستها  کے چلتے، 2019 عام انتخاب میں اپنی ہار کو دیکھتے محسوس کرتے ہویے، ریزرو بنک میں دیش کی جنتا کے لاکھوں کروڑ رکھی امانت رقم میں سے چالیس ہزار کروڑ اپنی ڈکٹریٹرانہ اقدام سے نکالتے ہوئے،  چالیس لاکھ کروڑ سے بھی زیادہ وکاس کی جملہ بازی والی بارش عوامی جن سبهاوں میں کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر دیش وأسیوں پر اپنی اندهکار  والی سرکار لادنے کی فراق میں لگتی یے مودی سنگھی حکومت
مودی مہان کی خراب پالیسیز کے چلتے 2014 کے مقابلے میں 2019 تک دیش 50 فیصد زیادہ قرض کے بوجھ تلے دب چکا پے. اب تک 82 ہزار کروڑ دیس قرضدار ہوچکا ہے
کمہار کا گدھا سوکھی پیلی گھاس نہیں کھاتا تھا.کمہار پریشان تھا . کسی کے سجھانے پر کمہار نے گدھے کو ہرے رنگ کا چشمہ پہنادیا اور بیچاری گدھا اس سوکھی پیلی گھاس کو ہی ہری ہری گهاس  سمجھ کر کهانے لگا. شاید اپنے دور اقتدار کے ان پانچ سالوں میں، نوٹ بندی ،جی ایس ٹی کی ماری  دیش کی بدحال بھوکی افلاس کی ماری خودکشی کی موت گلے لگانے کی کگار پر پہنچی جنتا کو،مودی مہاراج مونگیری لال کے سپنے بیچنے کی حکمت عملی کے طور،عوامی جن سبهاوں میں ہزاروں  کروڑ کے جملہ بازی والے وکاس کی بارش میں گنگا نہانے کا بندوبست کر 2019  انتخاب  جیت،  ایک مرتبہ  پهر دیش کو بڑے پونجی پتی گھرانوں کو بیچنے کے فراق میں لگتے ہیں مودی مہاراج.
عام زندگانی میں جب بھی بارش ہوتی ہے تو ہر کوئی اس بارش سے مستفید ہوتا نظر آتا ہے بہت کم انسان اپنے آپ کو کم از کم بارش کے چهینٹوں سے مستفید ہونے سے ماورا نہیں رکھ پاتے. لیکن ان پانچ سالوں کے رام راج پرتیک بھگوا مودی سرکار کے وکاس کا الٹکٹرونک میڈیا پر 24 ساعتی لن ترانی کرنے والی بھونپو میڈیا کا وکاس، حقیقی معنوں میں دیش وأسیوں کو بالکل ہی نظر نہیں آرہا ہے.
کسانوں کو بغیر سود ڈائرکٹ انکے کھاتوں میں قرض دئیے جانے والی مودی مہان کی اسکیم سے کم و بیش ایک لاکھ کروڑ کا اضافی بوجھ جو سرکاری خزانے پر پڑنے والا ہے. رائیٹرز ایجنسی کے مطابق سود مکت قرض اسکیم سے بارہ ہزار کروڑ کا ایکسٹرا بوجھ بھی دیش کی اردھ ویستھا پرپڑیگا  مودی مہاراج کے جملہ بازی وکاس اسکیمیوں کی وجہ سے سرکاری خزانے پر پڑنے والے 40 ہزار کروڑ کا بوجھ اس سے الگ ہے.نجی کمرشیل سیکٹر میں کٹوتی کا جو اعلان ہوا ہے  اس کی وجہ سے 25 ہزار کروڑ کا بوجھ الگ پڑنے والا ہے۔ ایسے میں آزادی ھند کے بعد  سست رفتار ہی سے صحیح کانگریس راج میں اپنے وقت کا غریب ملک ان ساٹھ پینسٹھ سالوں  میں چمنستان  ہندستان کو ترقی پذیر ملک سے ترقی دیتے دیتے، نہ صرف ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کرتے ہوئے کچھ سالوں بعد عالمی سربراہی کی صف میں کھڑے ہندستان کو، ان سنگھیوں کے مہان مودی جی نے بہت سے زمرے کی عالمی رینکنگ میں پاکستان نیپال سری لنکا سے بھی پچھڑے مقام پر لا چھوڑا ہے۔
 آزادی ھند کے بعد کانگریس سرکار روسی اشتراکی نظام کی دلدادہ تھیں۔ لیکن بعد ایمرجنسی ھند پر حکومت قائم کرنے میں کامیاب، سنگھی کیڈر کو اپنے میں سموئے، ھند پر حکومت کرنے والی پہلی   غیر کانگریسی جنتا سرکار کے بعد پونجی پتی نظام والے صاحب امریکہ کی قربت نے پونجی پتی نظام کی داغ بیل چمنستان ہندستان میں کیا ڈالی کہ  آج تیس ایک سال بعد چمنستان ہندستان کی جملہ دولت کا نصف حصہ صرف 9 بڑے پونجی پتیوں کی اسیری میں جاچکا ہے۔ ہندستان کی آبادی کا 60% کم و بیش 80 کروڑ ہندستانی دیش واسیوں کی کل دولت کا 4.8% حصہ کے بھی مالک نہیں ہیں جبکہ صرف 9 عدد برہمن پونجی پتی دیش کی کل دولت کے آدھے سے بھی زیادہ حصہ پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔کہاں اسی کروڑ ہندستانیوں کا کل ہند کی دولت کے 5% سے بھی کم حصہ پانا اور کہاں صرف 9 عدد برہمنوں کا 50% دیش کی کل دولت پر قبضہ؟ہندستانی دستور، سیاست  دانوں کو پارلیمنٹ ممبر و اسمبلی ممبروں بننے سے پہلے اپنی مالی اسحکامیت کی تفصیل پیش کرنے کو لازم ملزوم بناتا ہے، بہار صوبے پر سابقہ دو دہوں سے حکمرانی کرنے والے قدآور سیاسی لیڈر کو ان کے پیش کردہ حساب سے زیادہ دولت رکھنے کی پاداش میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتا ہے لیکن تیس چالیس سال قبل عرب کھاڑی میں پیٹرول پمپ پر مزدوری کرنے والے برہمن کو دنیا کا امیر ترین پونجی پتی بننے پر اس کے پاس موجود اتنی  دولت کہاں سے اور کیسے آئی اس کی فکر کسی ہندستانی کو نہیں ہے۔ کوئی بھی انسان اپنی محنت لگن سے کتنی بھی دولت کمائے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں لیکن کوئی بھی پونجی پتی اپنے سیاسی اثر رسوخ سے،دیش کے کرپٹ سیاست دانوں  کو اپنا دلال بناکر، دیش کی دولت لوٹ کر اپنے خزانے میں اضافہ کرتا رہے اس کی فکر دیش واسیوں  کو ہونی چاہئیے۔ ہندستانی سرکاری فائٹر بمبار جہاز تیار کرنے والی بھیل کمپنی سے قرار پائے   رافیل فائٹر جہاز ڈیل کو منسوخ کر نومولود ریلائینس ایروناٹیکل کمپنی کو رافیل ڈیل  دلوانے میں اپنے آپ کو دیش کا چوکیدار کہلانے والے مہان مودی جی کے مشکوک کردار اور سرکاری فنڈ سے تیس ہزار کروڑ انل امبانی  کے کھاتے میں ٹرانسفر کروانے کے کانگریس کے الزامات کے تناظر میں ان بڑے برہمن پونجی پتیوں کی بے تحاشہ دولت کا حساب کتاب لینے کا حق  کیا دیش واسیوں کو نہیں ہے؟  بعد ایمرجنسی کے  ان تیس ایک سالوں میں، جب سنگھی ذہنیت نے سیاست میں اپنے قدم جمائے ہیں،ان بڑے برہمن پونجی پتیوں کو سرکاری مراعات کتنی ملی ہیں انکے کتنے قرضے معاف کرنے کے بہانے سرکاری فنڈ سے کتنے لاکھ کروڑ انہیں انعام میں دئیے گئے ہیں کہ وہ آج دیش کی کل دولت کے 50% فیصد حصہ پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوچکے ہیں اس کی تفصیل جاننے کا دیش واسیوں کو کیا حق نہیں ہے؟ نہ صرف کروڑوں  دیش واسیوں کو بلکہ دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصہ کو ہندستانی دھرتی چیر اس  سے اناج اگاکر کھلانے والے کسانوں کو تو چند ہزار کے قرضے واپس نہ کرنے پر بنکوں کی طرف سے اتنا پریشان و ذلیل کیا جاتا ہے کہ وہ بے چارہ کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
بعد ایمرجنسی بنی پہلی غیر کانگریسی حکومت کے بعد سے اب تک یا کم از کم 2014 سے اب 2019 دیش کے چوکیدار مہان مودی جی کے سنگھی راج میں ان پانچ سالوں میں پورے ہندستان میں کتنے کسان خودکشی کی موت مر چکے  ہیں ان کی بنکوں کو بقایہ رقوم کتنی تھیں اور ان پانچ سالوں میں  امبانی ایڈانی  جیسے  بڑے پونجی پتیوں کے پاس دیش کے بنکوں کے کتنے لاکھ کروڑ بطور قرض موجود ہیں اور ان 5 سالوں میں بڑے پونجی پتیوں کے کتنے لاکھ کروڑ قرضے یا سود معاف کئے جاچکے ہیں؟ بڑے پونجی پتیوں کو کارخانے لگانے کے نام پر ٹیکس چھوٹ کتنے ہزار لاکھ کروڑ دی جاچکی ہے؟ اورحکومتی مراعات کتنے لاکھ کروڑ دئیے جاچکے ہیں؟ اس کی تفصیل دیش واسیوں کو جاننے کا پورا پورا حق ہے۔
    60 فیصد دیش واسیوں کو غربت و افلاس کی ریکھا کے پیچھے ڈھکیل کر ان کے لقموں سے امیر ترین بننے والے پونجی پتی نظام کو  ہند پر جاری و ساری رکھنے دینا ہے؟ یا اشتراکی نظام ہند واسیوں کے لئے اچھا ہے؟ یا پرم ہوجیہ بابائے بند موہن داس کرم چندر گاندھی کے دستور ساز کمیٹی کو سجھائے، مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر بن الخطاب رض کے اسلامی نظام مساوات کو ہندستان کے لئے تجربتا ہی صحیح عملا لیا جانا چآہئیے۔ وما علینا الا البلاغ،
      +966504969485