تحریک ِشاہین باغ پائندہ باد

0 119

 

محمد احسان اشاعتی
ملک جس اقتصادی ،سیاسی اور تعلیمی بحران سے دو چا ر ہے وہ اس بات کا مقتضی تھا کہ اربابِ حکومت ماہرین اقتصادیات و تعلیمات کے مشورے سے ملک کو ہر طرح کی زبو حالیوں سے نکال کر ترقی یافتہ ممالک کی صف ِ اول میں لاکھڑا کرنے کی فکر کرتے ، مگر بد قسمتی سے ان مسائل مہمہ کی طرف نظر کرنے کے بجائے عام لوگوںکو ایسے مسائل میں الجھا دیا گیا جس کی امید کسی کو نہیںتھی ؛ اور ایسے قوانین پاس کرائے گئے جن کو کسی بھی طرح آئین موافق ، اور عدل گستری کا حامل نہیںکہا جا سکتا ، بل کہ ان میںسے ایک قانون تو اقوام ِہند کے درمیان باہم تفریق کرنے والااورباشندگانِ ہند کی اس مساویانہ شان میں تفرقہ پید ا کرنے والاہے جو اس ملک کی جمہوریت کی پہچان رہی ہے ۔
ملک کی ترقی اور اس کے مستقبل کی تابناکی کے پیشِ نظر سی اے اے جیسے بل کے بجائے ایک ایسا بل لایا جانا چاہئے تھا ، جو انتخابات میں کھڑے ہونے والے امیدواروں کی تعلیمی ، کرداری معیار طے کیے جانے اورامانت داری و جرائم سے دوری کے شرائط پر مشتمل ہو۔
ایسے تو آزادی کے بعد ہی سے اس ملک میںمذہبی منافرت اور ثقافتی تفرقہ بازی کا ایسا بیج بویا گیا جس کے سہارے اپنے مفاد کے پھل تمام سیاسی پارٹیا ں یکے بعد دیگرے مسلسل توڑ تے آرہی ہیں؛مگر باعث اذیت اور قابل تعجب امر یہ ہے کہ وہ ملک جہاں اصحاب علم و دانش کی بڑی تعداد موجود ہے ، ایک بڑا طبقہ یہ سمجھ نہیںپارہا ہے کہ بر سرِ اقتدار لوگ محض اپنے سیاسی فائدے اور کرسئ اقتدار کے تادیر قبضے میں رکھنے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ پوشی کی غرض سے ہمیںاس طرح کے قانونی خم و پیچ میںالجھا رہے ہیں۔
قابل ِ داد ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس پر خاموشی کو خیر آباد کہتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کیا ، جامعہ ملیہ ،علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی ، جواہر لال نہرویونیورسیٹی اوردیگر اداروںکے طلباء و طالبات جنہوں نے اس کالے قانون کی پر زور مذمت کی اس کے خلاف مظاہرے کیے اور بطور خاص دہلی کے شاہین باغ میںجمع ہونے والی شاہین صفت ، حوصلہ مند، غیور اور جرات مند خواتین مبارک باد کی مستحق ہیںجنہوںنے نہ صرف یہ کہ ہندستان میں بلاتفریق مذہب وملل اپنے جملہ امن پسند ، آئین موافق ہم وطنوں کوباطل اور غیر منصفانہ رویے کے خلاف احتجاج کا حوصلہ بخشا ، بل کہ ان کو اپنے اس منفرداور پر امن اور پر اثر طرزِ احتجاج سے متاثر کیا اورپوری دنیا نوٹس لینے پر مجبور ہوئی ؛
رکارڈتوڑ سردی ، بارش اورشر پسندوںکی طرف سے شر انگیزی کے باوجود اپنی جگہ ڈٹی رہیں؛فرقہ پرستوںکی الزام تراشیوںاور زہر افشانیوںنیز مختلف الانواع سازشوں کے روبروکے عزم و استقلال اور صبر وضبط کی پیکرِ مجسم بنی رہیں، اوریہ سلسلہ ایک یا دو دن ، ہفتہ دو ہفتے نہیں ، بل کہ ایک سو ایک دن مسلسل چلتا رہا ۔ لیکن چونکہ شاہین باغ اربابِ اقتدار کے لیے ان کے منصوبوں کی راہ میںگلے کی ہڈی بن چکاتھااور جس شاہین باغ نے ہندو راشٹر کی جانب بڑی تیزرفتاری کے ساتھ پیش رفت کرتی ہوئی حکومت کے منصوبوں پر تقریبا پانی پھیردیا تھا ؛ ظاہر ہے اربابِ اقتدار اس کوکیسے برداشت کر سکتے تھے ، چنانچہ انہوں نے طرح طرح کے حربے اختیار کیے ، اور جب تمام حربے ناکام ہوگئے تو کرونا وائرس کو بہانہ بنا کر بزور ِ بازو ، پولیس کے بل پر شاہین باغ کے خالی کرانے کا ان کامنصوبہ پورا کیا گیا حالانکہ ان خواتین نے اس وائرس سے بچنے کے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھاتھا ۔
لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ شاہین باغ فقط خواتین کے اجتماع ،ٹینٹ ، اور مائک کا نام نہیں بل کہ شاہین باغ ایک تحریک کا نام ہے
جو کہ شاہین باغ میں خواتین کے مجتمع ہونے سے قبل شروع ہوچکی تھی ، اور ان کے اٹھنے کے بعد بھی ختم ہونے والی نہیں ہے بل کہ حق شناسوں اور انصاف پسندوں کے ذریعہ جاری رہے گی تا آنکہ اس شہریت ترمیمی قانون کو واپس نا لے لیا جائے اور تمام باشندگان ِہندکو تشویش اوران خدشات سے باہر نہ نکال لیا جائے جن کی وجہ سے وہ سہمے ہوئے ہیں اور جب تک کوئی اطمینان بخش بات ان کے سامنے نہ آجائے ۔
ہمارے اسلاف اورہندی مخلص رہنماؤں کی یہ تاریخ رہی ہے کہ جب وہ کسی محنت کاآغاز کرتے ہیں او رمفادِ عام و انسانیت کی بھلائی کی خاطر کوئی تحریک وجود میںلاتے ہیں تو چاہے جیسے بھی حالات کا سامنا ہو ، دشوار سے دشوارگزار گھاٹیوں سے کیوں نہ گزرنا پڑے ، پیچھے ہٹنا تودرکنار پیچھے مڑکر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے؛ایسے ہی ہماری یہ شجاعت و بہادری کی ضرب المثل شاہین بھی حالات حاضرہ شاقہ کے پیشِ نظر اورملک کی سا لمیت ومفاد عام کی غرض سے عار ضی طور پر پیچھے ہٹ ضرور گئیں ہیں لیکن جب حالات معمول پر آجائیں گے تو پہلے سے کہیں زیادہ پر عزم ہوکر اور حوصلے و جذبے کے ساتھ لوٹے گیں ۔ کیوں کی انہیں یہ معلوم ہے اور ہمیں بھی اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ آج وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے جس کی وجہ سے اس امت پر اور خصوصا حق پرستوں ، امن انصاف کے متوالوں اورمجاہدہ وقربانیوں کی بھٹی میںتپنے والوںپر آزمائش اور بلاؤں کا کوہ ِ گراں ،گرا چاہتا ہے ، ابتلاء و آزمائش کی یہ راہیںپر خطر بھی ہیں او رنازک بھی ؛کیوں کہ یہ فتنہ باطل او راپنے آپ کو دوست ظاہر کرنے والے دشمنوں کے سالہا سال کی منصوبہ بندی ، زمینی محنت اور دیگر اعدائے مذہب و انسانیت سے ساز باز کے نتیجے میں وجود پایا ہے ۔
جس کے لیے وہ ہر حربہ ، ہر تدبیر اور ہر طرح کے مکر و فریب کی حدسے گذر جانا چاہتے ہیں ، تاکہ وہ اپنے نامناسب عزائم اور منصوبہ بندی کی فلک بوس عمارتیں تعمیر کرتے جائیں ۔ لیکن مد مقابل کی تدبیر اور منصوبہ بندی کی نزاکت کو سمجھنا او راس کے دور رس نتائج پربر وقت آگہی ، ایک چست او رکام یاب مقابل کی علامت اور شناخت ہے ۔
لہذا ہم انتہائی بیدار مغزی کے ساتھ اپنے نفع و نقصان اورملک کی جمہوریت و آئین کی حفاظت کی خاطر ہر ممکن جد و جہد کرینگے ؛ چنانچہ سی اے اے ، این آر سی کے ساتھ ساتھ قریب کا جو مرحلہ این پی آرکی شکل میں ہے جودراصل این آر سی کا مقدمہ ہے ، ہم اس کی پر زورمخالفت بھی کریںاوراس کے عدمِ مفاذ کے تعلق سے تدبیر یں بھی بروئے کار لائیں ۔
ان خواتین ِشاہین باغ اوردیگر مظاہرین کی قربانیوں اورجانفشانیوںکی لاج رکھتے ہوئے ؛ ان کی وہ ناقابلِ فراموش جرات مندانہ صدائیں، صدا بہ صحراء ثابت نہ ہونے پائیں، اس کی خاطر ہم اپنے طورپر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں اورسیکولرزم مخالف ،آئین مخالف اورانسانیت مخالف منصوبوں کوہر گز کامیاب نہ ہونے دیں اوریہ باور کرائیںکہ گر چہ کہ شاہین باغ جبرا خالی کرادیا گیالیکن فکرِ شاہین باغ اور تحریک ِ شاہین باغ اب بھی باقی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.