Select your Top Menu from wp menus

بچوں کی تربیت میں نفسیات کی رعایت

بچوں کی تربیت میں نفسیات کی رعایت

فیروز عالم ندوی
معاون ایڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی

انسان کے کردار و عمل اور ذہنی ساخت کے علمی مطالعہ کو نفسیات کہا جاتا ہے۔ انسان اپنی زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتا ہے، اس میں سب سے پہلا اور اہم مرحلہ بچپن کا ہوتا ہے۔ عمر کے اسی مرحلہ میں طرز زندگی کی بنیاد پڑتی ہے اور اس کا رخ متعین ہوتا ہے۔ انسانی فطرت کے رو سے بچپن کا زمانہ ہی طرز عمل کی بنیاد رکھنے کا اہم اور مناسب وقت ہے، اس عمر میں فکر و عمل کو جس سانچے اور قالب میں ڈھال دیا جائے گا اسی کا اثر جوانی اور پھر بڑھاپے تک رہے گا۔ چونکہ بچہ دودھ پینے کے زمانہ سے ہی والدین کے تعلقات، ان کے رویہ اور طریقہ تربیت سے پوری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے بچے کی شخصیت پر خاندانی رویوں، رجحانات اور اقدار کا کافی اثر ہوتا ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے اس زمانہ کے مختلف تجربات کافی اہمیت اور دوررس نتائج کے حامل ہوتے ہیں، اسی لیے ماہرین نفسیات عمر کے اس حصہ کو کافی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔  اسی حقیقت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ یوں بیان فرمایا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَثَلِ الْبَهِيمَةِ تُنْتَجُ الْبَهِيمَةَ ، هَلْ تَرَى فِيهَا جَدْعَاءَ ؟ (صحيح البخاري) ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ جانور ایک صحیح سالم جانور کو ہی جنم دیتا ہے، کیا تم نے کوئی کان کٹا بچہ پیدا ہوتے دیکھا ہے؟اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر بچہ اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے مگر معاشرتی عوامل میں سے کوئی ایک عامل اس کی نفسیات پر اثر انداز ہوکر اس کے طرز زندگی کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ذیل میں چند نفسیاتی پہلو کو ذکر کیا جا رہا ہے جو بچوں کے طرز زندگی کی تعمیر میں دوررس نتائج کے حامل ہیں۔
صحبت : بچوں کی تربیت میں صحبت بہت بڑا عنصر ہے، بچے جب تھوڑے بڑے ہو جاتے ہیں تو اپنے ہمجولیوں اور دوست احباب کے ساتھ کھیلنا کودنا اور اٹھنا بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ چونکہ دوست کردار کا آئینہ دار ہوتا ہے لہذا والدین کو یہ خیال کرنا چاہیے کہ بچے اچھی سنگت میں رہیں، ان کے حلقہ احباب پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ اس طرح بچوں کا یہ بھی حق بنتا ہے کہ وہ اپنے بڑوں کی صحبت میں اٹھیں بیٹھیں، اس مقصد کے لیے والدین کو انہیں مناسب وقت دینا چاہیے۔
محبت و شفقت : فطری طور پر انسانوں کے اندر محبت کی چاہ ہوتی ہے، بچے خصوصا اس کے بھوکے اور حریص ہوتے ہیں، جب آپ ان سے مشفقانہ رویہ کا اظہار کریں گے تو وہ آپ کی طرف بے تحاشہ لپکیں گے۔ بہترین تربیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ آپ کی باتوں کو بہت غور سے سنیں اور یہ اسی وقت ہوگا جب وہ آپ سے محبت کریں گے، ان کے دلوں میں آپ کی محبت کو راسخ کرنے والی چیز آپ کا مشفقانہ رویہ ہی ہے۔ اس رویہ کے چند مظاہر کو سرسری طور پر نکتہ وار ذکر کر رہا ہوں۔
(ألف) ان کے سر اور رخسار پر دست شفقت پھیرنا ان کے اندر آپ کے تئیں اپناپن اور والہانہ جذبہ کو ابھارے گا۔
(ب) بچوں کو چومنا اور گلے لگانا ان کی اپنائیت کو حاصل کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے۔ اس سے چھوٹے اور بڑوں کے درمیان محبت اور لگاؤ میں بہت زیادہ اضافہ  ہوتا ہے۔ اس سے بچوں کے دل و دماغ پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ محبت ملنے کی وجہ سے دوسروں سے بھی محبت کے رویہ سے پیش آنے لگتے ہیں۔
(ج) بچے خود ہنس مکھ ہوتے ہیں اور اپنی معصومانہ حرکتوں کے ذریعہ بڑوں کی ہنسی خوشی کا سبب بنتے ہیں، وہ جس معصومیت کے ساتھ اپنے بزرگوں سے دل لگی کرتے ہیں ٹھیک اسی انداز میں وہ ان سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں۔ وقتا فوقتاً ہنسی مذاق اور دل لگی کا رویہ ان کے لیے خوش طبع شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
(د) یوں تو والدین اپنی ساری خوشیاں بچوں کی خوشیوں پر قربان کر دیتے ہیں مگر تربیت کے زاویے سے بچوں کو کبھی کبھی تحفہ کے نام پر کچھ دیتے رہنا چاہیے۔ انسانی طبیعتوں پر تحفہ کا بڑا اثر ہوتا ہے کسی بھی معاشرہ میں ایک فرد کی توجہ اور محبت حاصل کرنے کے لیے تحفہ بڑا ہی اہمیت رکھتا ہے۔
(ہ) کسی بھی انسان کی آمد کے موقع پر پرتپاک اور گرم جوشی کے ساتھ اس کا استقبال کرنا اس کی اپنائیت کو حاصل کرنے میں بڑا ہی معاون ہے۔ بچے جب اسکول اور مدرسہ سے گھر واپس آئیں تو ہمیں پرتباک طریقے سے ان کا استقبال کرنا چاہیے۔
کھیل کود : یوں تو دوڑنا، اچھلنا، کودنا، اور کھیلنا ایک فضول اور عبث کام معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ کسی بھی بچے کی زندگی کے لازمی اجزاء ہوتے ہیں۔ حقیقتاً یہی چیزیں ان کی جسمانی اور نفسیاتی قوتوں کی تکمیل کا ذریعہ بنتی ہیں، اس کے نتیجے میں ایک طرف ان کی جسمانی طاقتیں مضبوط اور توانا ہوتی ہیں تو دوسری جانب اس میں انہماک کے ذریعہ ان کے غوروفکر کی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں، ان کی تخلیقی قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور یوں رفتہ رفتہ ان کی پوشیدہ صلاحیتیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور آگے چل کر ان کے شخصیت کی تعمیر میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس کا ایک نفسیاتی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ فرحت و انبساط کے حصول کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے کام کی اہمیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے، اور دوسری جانب والدین کے ساتھ تعلقات میں مزید مضبوطی آتی ہے۔ اس کا ایک اور نفسیاتی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو بچے جسمانی اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں وہ کھیل کود کے درمیان اپنے بڑوں کی جسمانی قوت کا مشاہدہ کرکے وہ بھی ویسا ہی بننا چاہتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ ان کے طریقہ کار کو اپنانے لگتے ہیں۔
مسابقانہ رویہ کی افزائش : کسی بھی انسان میں تحریک اور فعالیت پیدا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اس کا دوسروں سے مقابلہ کروایا جائے۔ چھوٹے بچوں میں اس کا اثر تو کئی گناہ زیادہ ہوتا ہے، ان کے اندر مختلف قوتیں اور صلاحیتیں پوشیدہ ہوتی ہیں اور یہ اسی وقت نکھرتی اور ظاہر ہوتی ہیں جب ان کے درمیان مقابلہ کرایا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں یہ بات کثرت سے موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کے درمیان کبھی جسمانی تو کبھی فکری مسابقوں کا اہتمام فرمایا۔
ان کو اہمیت دینا : بچوں کے ساتھ میل جول رکھنا اور بعض معاملات میں ان سے مشورہ کرنا ضروری امر ہے۔ جب آپ ان کے ساتھ خوشگوار انداز میں میل جول رکھیں گے اور ان سے بعض معاملات میں مشورہ کریں گے تو انہیں یہ محسوس ہوگا کہ مجھے اہمیت دی جا رہی ہے، یہ احساس ان کی نفسیات پر عمدہ اثرات مرتب کریں گے۔ اس کا ایک نفسیاتی فائدہ یہ ہوگا کہ بچے آپ کو لائق التفات سمجھیں گے اور آپ کی باتوں کو حقیقتا توجہ کے ساتھ سنیں گے، اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ وہ مستقبل میں کشادہ دل واقع ہوں گے اور صرف اپنی ذات تک محدود نہ رہتے ہوئے پورے معاشرہ کے لیے مفید اور کارگر فرد کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔
ان کی ذاتی دلچسپیوں سے واقفیت :
بچے کی پرورش پر دھیان دینے کے ساتھ  ساتھ اس کی ذاتی پسند نا پسند سے بھی واقفیت ضروری ہے،اپنے بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون،پسندیدہ کھیل، کھانا اور مشاغل کے بارے میں بات کیجئے،اس طرح آپ کو اپنے بچے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
غیر ضروری توقع سے احتراز :
بچے سے بزرگوں والی توقع مت رکھئے! ان سے یہ امید رکھنا کہ کم سے کم غلطیاں کرے صحیح نہیں ہے۔ اگر وہ غلطی کرتا ہے تو وہ اس سے بہت کچھ سیکھے گا، سیکھنے کا یہ ایک بہترین ذریعہ ہے بشرطیکہ آپ اس کی غلطیوں پر غصہ ہونے کے بجائے اس کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کریں۔

  • 2
    Shares
  • 2
    Shares