Select your Top Menu from wp menus

دینی و عصری تعلیم کے فروغ میں مولانا اسرارالحق قاسمی کی خدمات ناقابل فراموش روزنامہ سیاست حیدرآباد کے ایڈیٹر ظہیرالدین خان نے مولانا کی سرپرستی میں قائم شدہ اداروں کا جائزہ لیا

دینی و عصری تعلیم کے فروغ میں مولانا اسرارالحق قاسمی کی خدمات ناقابل فراموش روزنامہ سیاست حیدرآباد کے ایڈیٹر ظہیرالدین خان نے مولانا کی سرپرستی میں قائم شدہ اداروں کا جائزہ لیا

کولکاتا: اسٹار نیوز ٹوڈے
روزنامہ سیاست حیدرآباد کے منیجنگ ایڈیٹر ظہیر الدین علی خان نے حال ہی میں وفات پانے والے نباض وقت حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی ؒ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عالم باعمل،سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے ،دینی علوم کے ساتھ عصری تعلیم کی فکر کرنے اور تحریر و تقریر کے ذریعہ قوم میں بیداری پیدا کرنے والے ملت کے ایک مخلص رہنما تھے اس وجہ سے ان کے بیانات اور مضامین ہمارے اخبار میں پابندی سے شائع ہوتے تھے،میں جب بھی دہلی جاتا تھاتو ان سے ضرور ملاقات کرتا تھا،وہ ایک سنجیدہ اور مخلص قائد قو م تھے ۔واضح رہے کہ موصوف کولکاتا کے مسلمانوں کے سیاسی و تعلیمی مسائل کا جائزہ لینے کے لئے دوروزہ دورے پر یہاں پہنچے تھے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے چوں کہ حضرت کی سیاسی بصیرت اور دانشمندی کا اچھی طرح علم تھا اس لئے میں ان کے علاقے میں اور حیدرآباد میں موجود غیر سنجیدہ سیاسی عناصر کی طرف سے ان پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کو اہمیت نہیں دیتا تھا۔ گزشتہ سال جب سیمانچل میں تباہ کن سیلاب آیا تو انہوں نے مجھے اور میرے بھائی زاہد علی خان کوفون کرکے وہاں کے مسلمانوں کی زبوں حالی اور پریشانی کا اظہار کیا ،چنانچہ ہم لوگوں نے لاکھوں کاریلیف اورکپڑا وغیرہ بھیجا ،موصوف نے شکریہ کے لکھا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں آپ نے اس علاقے کے سیلاب متاثرین کی جو امدادکی ہے اس کے لئے میں شکر گذار ہوں۔
مجھے جب معلوم ہوا کہ حضرت مولانا جو مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کیلئے فکرمند رہتے تھے اوراسی وجہ سے انہوں نے جہاں جھارکھنڈ،دہلی اوربہاربالخصوص کشن گنج میں عصری ودینی تعلیمی ادارے قائم کرنے کے ساتھ کولکاتا کے کچھ علم دوست حضرات مثلاًحاجی نیاز احمدجو اس وقت زیب اکیڈمی بوجرہاٹ کے ذمہ دار ہیں،ملت نگر مدرسہ، توپسیہ کے حاجی جاوید احمد،دارالعلوم حمیدیہ کے ذمہ دار حاجی عرفان ،اے ایم یواولڈبوائز کے جنرل سکریٹری انجینئر وقاراحمد اور دارالعلوم اسراریہ سنتوشپور کے مہتمم مولانا نوشیر احمد کو ساتھ لے کر جنوبی ہند خصوصاً شاہین اکیڈمی بیدر کا دورہ کیا جہاں معیاری تعلیم وتربیت نظام ہے ،اس کے بعد حاجی نیاز احمد نے بوجرہاٹ میں زیب اکیڈمی کے نام سے حضرت مولانا کی سرپرستی اور ان کے مشورہ سے ایک ادارہ قائم کیاجہاں ہاسٹل کے ساتھ حافظ قرآن بچوں کو عصری تعلیم سے جوڑنے کے لئے نویں دسویں کی تیاری کروائی جاتی ہے اورامتحان بھی دلوایاجاتاہے ، ساتھ ہی قرآن کریم کو یاد رکھنے کا بہترین انتظام اور دینی و اخلاقی تربیت کابھی اہتمام کیاجاتا ہے ۔اسی طرح کولکاتا سے متصل علاقہ سنتوشپور جہاں کے لوگ غربت کے شکار ہیں اوراس کی وجہ سے اس علاقے میں ہر قسم کی برائیاں پائی جاتی ہیں وہاں حاجی محمد حدیث جو مولانا نوشیر کے والد ہیں ان کو توجہ دلاکر زمین مولانا مرحوم نے وقف کروائی اور وہاں ادارہ قائم کیا۔ظہیر الدین خان نے اس مدرسہ کے قیام میں اہم رول اداکرنے والے حاجی محمد حدیث اور انجینئر وقار احمد ودیگرمعاونین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حضرت کی زندگی میں دس سال پہلے ان کے ہی نام سے جو ادارہ قائم کیاوہ ایک تاریخی کام ہے۔قبل ازاں انہوں نے زیب اکیڈمی کا دورہ کیااور وہاں بچوں کا تعلیمی جائزہ لے کر خوشی کا اظہار کیا،اسی طرح دارالعلوم اسراریہ میں خود سے قرآن پاک دیکھ کر بچوں سے سوالات کیے، بچوں کا جائزہ لینے کے بعد کہاکہ اس ادارے کے کم عمر کے طلباء نے مخارج کی ادائیگی اور تجوید کی رعایت کے ساتھ جس خوب صورتی سے قرآن کریم کی تلاوت کی ہے،اسے سن کر میرا دل باغ باغ ہوگیا ہے،انہوں نے کہاکہ ایسے پسماندہ علاقہ میں جہاں آتے ہوئے مجھے حیرانی بھی ہورہی تھی کہ میں کہاں جارہاہوں،لیکن جب پہنچاتودیکھاکہ جنگل میں منگل کا سماں ہے اور ایک ایساادارہ جہاں قرآن پاک کی معیاری تعلیم کے ساتھ عصری علوم انگریزی حساب وغیرہ کی تعلیم و تربیت کا پختہ نظام ہے اسے دیکھ کر دل کو بڑی خوشی ہوئی ۔ اسی طرح مٹیابرج میں قائم دار ارقم بھی حضرت کے ایماء پر قائم ہونے والے ادارے کے بارے میں جان کر بھی ان کوخوشی ہوئی ۔انہوں نے کولکاتا کے عوام و اہل خیر حضرات سے اپیل کی کہ حضرت کی وفات کے بعدان کی یاد گار کو باقی رکھنے کے لئے ان اداروں کو مضبوط کریں اور ان کی تعمیر و ترقی میں ہر ممکن حصہ لیں۔اس موقع پردارالعلوم اسراریہ سنتوشپورکے مہتمم مولانا نوشیر احمد،اے ایم یو اولڈ بوائز کے جنرل سکریٹری انجینئر وقار احمد خان،زیب اکیڈمی کے تبریز احمد،نیشنل لائبریری کے عثمان غنی ،راشداحمد اور شمشیر احمدوغیرہ کے علاوہ مدرسہ کے تمام اساتذہ اورہاسٹل میں مقیم پونے دوسوطلباء بھی موجود تھے۔

  • 3
    Shares
  • 3
    Shares