Select your Top Menu from wp menus

عروض کی وجہ تسمیہ اور شاعری میں اس کی اہمیت

عروض کی وجہ تسمیہ اور شاعری میں اس کی اہمیت

غلام علی اخضر
جس طرح ہر چیز کے کچھ اصول ہوتے ہیں جو ان ہی اصولوں کی پابندی میں اپنی تکمیل کے معراج کو پہنچتی ہے۔اسی طرح فن کے بھی کچھ اصول ہیں جن کا ہمیں خیال رکھنا اشد ضروری ہو تاہے اگر ہم ان اصولوں کی پاسداری نہیں کرتے ہیں تو فن کے ساتھ ناانصافی تو ہو گی ہی ساتھ ہم پختہ علوم کے غازی بھی کبھی بن نہیں سکتے ہیں کیوں کہ اصول ہی سے ہمیں کسی فن کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے ،اصول ہی فن کی ساخت اور خوبصورتی میں اہم رول اداکرتا ہے ۔اصول فن کوراہ راست پر چلا نے میں رہبری کا کام کرتا ہے ۔ اصول جہاں فن کی اہمیت میں چارچاند لگا تے ہیں ، وہیںیہ ہمیں اپنی اہمیت و ضرورت کا احساس بھی دلاتی ہیں کہ کسی بھی فن کوبلندی تک پہنچانے میںان کے بڑے درجات و مراتب ہیں۔ اس لیے ہمیں شاعری کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی جاننی چاہیے کہ عروض کی اہمیت شاعری کی زمین پر یا شاعری کی عروض کی زمین پر کیا ہے؟میرا موضوع کیوں کہ ’’عروض کی وجہ تسمیہ اور شاعری میں اس کی اہمیت‘‘ ہے ۔ اس لیے ہم پہلے عروض کی وجہ تسمیہ پر گفتگو کریں گے، مگر اس سے پہلے یہ بھی جان لیں کہ اس علم کے بانی وموجد خلیل احمد بصری۱۰۰ھ-۱۷۰ھ ہیں۔
عرض کی وجہ تسمیہ کے بارے میں محققین کے کئی اقوال ہیں۔ ذیل میں کچھ اقوال درج کیے جاتے ہیں:
٭خلیل بن احمد نے مکہ معظمہ میں رب کی بارگاہ میںدعا مانگی تھی کہ اے رب کریم! مجھے تو کوئی ایسا علم عطا کر کہ اس علم کی شروعات مجھ سے ہی ہو اور دنیا میری طرف منسوب کرے،تو جب اس عروض کا الہام خلیل بن احمد کو ہوا تو وہ مکہ معظمہ میں تھے اور مکہ معظمہ کا ایک نام کیوں کہ عروض بھی ہے اسی لیے خلیل بن احمد نے اس علم کا نام عروض رکھا۔
المعجم فی معابیراشعار العجم(شمس الدین بن محمد قیس الرازی)کے حوالے سے مولوی حکیم محمد نجم الدین نجمیؔ رام پوری اپنی کتاب ’بحرالفصاحت‘ میں وجہ تسمیہ کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں:
٭عروض اس کو اس لیے کہتے ہیں کہ شعر کو اس پر عرض کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ شعر کو اس سے جانچتے ہیں تاکہ موزوں، غیر موزوں سے علاحدہ ہوجائے اور وہ فعول ہے، مفعول کے معنی میں یعنی عروض معروض کے معنی میں ہے۔
٭کسی نے یوں بیان کیا کہ عروض کے جہاں کئی معنی ہیں وہیں ایک معنی طرف اور جانب کے بھی ہیں، چوں کہ اس علم سے اشعار کے اطراف و جوانب کا علم ہوتا ہے اس لیے اس علم کانام عروض رکھا۔
بعض عرض نام رکھنے کے بارے میں یوں خیال ظاہر کرتے ہیں کہ
٭شعر کے مصرع دوم کے لفظِ آخر کانام عروض ہے اور اس علم میں اس کا ذکر زیادہ آتا ہے، اس لیے اس علم کا نام عروض رکھا۔
٭بعض نے کہا کہ عروض کا مادہ عرض ہے اور عرض کے معنی کشف و ظہور کے ہیں، چوں کہ اس علم سے صحیح اور غلط وزن کا انکشاف ہوتا ہے اس لیے اس کا نام عروض رکھا۔
٭کسی نے وجہ تسمیہ کے بارے میں کہا کہ عروض کاایک معنی کشادہ راستے کے بھی ہیں، یعنی دوپہاڑوں کے درمیان کا درہ، جس طرح ہم پہاڑوں کے درمیان کی راہ سے ایک شہر سے دوسرے شہرمیں با آسانی پہنچ جاتے ہیں اسی طرح اس فن کے علم سے ہم شعر کی موزونیت یا ناموزونیت تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔ اس لیے اس علم کا نام عروض رکھا۔
٭عروض کے ایک معنی بادل یا ابر کے ہیں۔ جس طرح بارش سے زمین سر سبروشاداب اور ہری بھری ہوجاتی ہے ؛بارش زمین کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح علم عروض شعرکو فائدہ پہنچاتا ہے اور اس کے لیے بہت مفید ہے۔
آج اردو شاعری جن مشکلات اور بے راہ روی کا شکار ہے ، اس کی ایک بڑی وجہ علم عروض سے ناواقفیت ہے۔ ہر فن کی طرح فنِ شاعری کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہیں، اگرآپ ان اصولوں کی پیروی نہیں کرتے ہیں تو یقین جانیے کہ آپ کی شاعری عیوب و نقائص سے پاک نہیں ہوسکتی اور اگر یہ نقائص بہتات کے ساتھ پائے گئے تو آپ کی شاعری عیوب و نقائص کا پلندا بن جائے گی۔ان باتوں سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ علم عروض کی اہمیت شاعری میں مسلم ہے۔ ہاں! یہ بات ضرور ہے کہ اس علم سے نابلد لوگ بھی شاعری کرلیتے ہیں۔ جن لوگوں کو فطرت فیاض نے ذوقِ شعری اور طبع موزوں عطاکی ہے وہ اٹکل سے ہی موزوں اور اچھی شاعری کرلیتے ہیں ۔اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک اچھا عروض داں اچھی شاعری کرلے۔ اس موضوع پر بحث کرنے سے پہلے میں علم عروض کی مختلف تعریف اہل فن کے حوالے سے پیش کرہاہوں، تاکہ اس فن کی اہمیت کا اندازہ تعریف سے ہی ہوجائے، کیوں کہ کسی بھی فن کی تعریف سے ہی اس کی اہمیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ جیسے علم منطق کی تعریف ہے :’’ایسے قوانین کا جانناجو ذہن کو غوروفکر میں غلطی سے بچائے‘‘ جس طرح منطق کی تعریف سے ہی اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ؛ کہ یہ فن انسان کو فکری غلطی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح علم عروض شاعری میں ناموزونیت شعر کی غلطی سے بچاتا ہے۔علم عروض کی مختلف تعریفیں ذیل میں درج ہیں:
٭عروض ایک ایساعلم یا فن ہے جس سے اشعار کا وزن یا اس کا موزوں یا ناموزوں ہونا معلوم ہوتا ہے۔
٭ فنِ عروض کی بنیاد چوں کہ راگ اور نغمے پر ہے اس لیے نغمگی اور لے کی دریافت کا نام عروض ہے۔
٭ڈاکٹر جمال الدین جمالؔ اپنی کتاب’’تفہیم العروض‘‘ میں علم عروض کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’عروض وہ علم ہے جو شعرا کے کلام کی جانچ پڑتال کرتاہے، مصرعوں کو ناپنتا تولتا ہے تاکہ پتہ چلے کہ وہ اوزان میں سے کسی وزن کے برابر ہیں یا نہیں۔ علمِ عروض میں شعر کے بہت سے اوزان مقرر کیے گئے ہیں، اگر کوئی کلام ان میں سے کسی وزن پر پورے اُترے تو اسے موزون کہتے ہیں [اور]پورا نہ اترے تو غیر موزون‘‘
اردوادب کے مشہورنقادومحقق شمس الرحمن فاروقی’’نے درس بلاغت‘‘ میں علم عروض کی تعریف کو یوں قلم بندکیا ہے:
’’عروض اس علم کانام ہے جس میں زبان اور شعر کا مطالعہ ایک مخصوص طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اس علم میں زبان کا مطالعہ اس نہج سے ہوتا ہے کہ زبان میں آوازیں کس نمونے پر جمع ہوتی ہیں، یعنی الفاظ کو ادا کرتے وقت جس قسم کی آوازیں نکلتی ہیں وہ لمبی ہیں یا چھوٹی ہیں؟کتنی لمبی آوازیکجا ہوسکتی ہیں، کتنی چھوٹی آوازیں یکجاہوسکتی ہیں ؟اور چھوٹی آوازوں کا بیک وقت اجتماع کس حدتک اور کس نمونے پر ممکن ہے‘‘
سابقہ ذکرکردہ مذکورہ بالاتعریفوں سے علم عروض کی قدرومنزلت اور فن شاعری میں اس کی اہمیت کا اندازہ ہم بخوبی کرسکتے ہیں۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علم عروض کے بغیر فن شاعری کا کماحقہٗ مطالعہ اور اس میں کمال حاصل کرنا ممکن نہیں۔
شاعری علم عروض کے بغیر کرنا ایساہی ہے جیسے اندھیری رات میں تیر چلانا،تیر اگر نشانے پر لگ گئی تو لگ گئی ورنہ خطا کاامکان زیادہ ہے۔ وہ شعرا جو علم عروض سے غافل ہیں اور اپنی موزوں طبع کے بل پر شاعری کرتے ہیں وہ ایسی ٹھوکریں کھاتے ہیں کہ انھیںان کا شک و شبہ تک نہیں ہوتا اور یہی تن آسانی کبھی بھری بزم میں ذلیل و خوار کی وجہ بن جاتی ہے۔ ہاں! یہ بات ضرور ہے کہ ہر دور میں کچھ ایسے بھی افراد رہتے ہیں کہ فنی پابندیوں کو اپنی تن آسانی کی وجہ سے اسے شجر ممنوعہ سمجھتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ علم عروض کے ساتھ بھی ہے۔ جہاں ایک طرف اس کے چاہنے والوں کی ایک بڑی جماعت ہے وہیں دوسری جانب ایسے بھی حضرات ہیں جو علم عروض کی پابندی سے شاعری کو جکڑدینے والی چیز تصور کرتے ہیں اور شاعری کی زمین وسیع ہونے میں رکاوٹ مانتے اور گردانتے ہیں۔ مولانا روم کا یہ نظریہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جو شعرمیں درج ہے ؎
شعر می گویم بہہ از آب حیات
من نہ دانم فَاعلاتن فاعلات
طوطیٔ ہندوستان حضرت امیر خسرو کا یہ شعر ؎
شعر می گویم بہہ از قندو نبات
من نہ دانم فاعلاتن فاعلات
کلیات خسرو، طبع 1188ھ بحوالہ سیدتقی عابدی
اردو کے عظیم شاعر تلوک چند محرومؔ (1887-1966) اس حوالے سے اپنا نظریہ شعر کی زبانی یوں پیش کرتے ہیں ؎
محروم ہم کو عشق نے شاعر بنا دیا
بے ساختہ زباں سے نکلتی ہے دل کی بات
کرتے رہیں گے مولوی صاحب تمام عمر
مفعول و فاعلات مفاعیل فاعلات
مگر’’افکار محروم‘‘میں تلوک چند محروم نے لکھا ہے :
’’میری یہ سہل نگاری تھی، ورنہ عروض سے واقفیت کی اہمیت سے کسے انکار ہے‘‘۔ص:139
’’نقوش شخصیات ‘‘ میں علامہ اقبال اور تلوک چند محروم کے درمیان عروض کے حوالے سے ہونے والی ایک گفتگودرج ہے جس میں اقبال نے فرمایاہے:
’’میں نے عروض سبقاً سبقاً پڑھا ہے۔ ویسے شاعروں کے لیے عروض جاننے کی ضرورت نہیں۔ ہاں! استادی شاگردی کے لیے عروض کا جاننا ضروری ہے‘‘۔ص:965
مذکورہ بالا باتوں عروض کی ضرورت و اہمیت پر روشنی پڑتی ہے؛اس علم کی بدولت ہمیں اشعار کے وزن کا علم ہوتا ہے اور ساتھ ہی کہاں تبدیلی مناسب ہے اور کہاں نہیں ؟۔ اوزان کے مختلف تراکیب اس زوایے سے پتہ چل جاتے ہیں کہ اچھائی اور برائی کا فرق پیداکرنے کا ملکہ آجاتا ہے۔ اسی فن کی وجہ سے ہم باآسانی نظم و نثر کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔ اسی علم سے ہمیں معلوم چلتا ہے کہ اصولی اعتبار سے شاعری کس حدتک کامیاب ہے۔ ہاں! یہ بات ضرور ہے کہ اس راہ میں چلتے وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ بڑے بڑے شہ سوار اس میدان میں ٹھوکر کھاجاتے ہیں اور کھائے بھی ہیں۔ جس میں کچھ نام مثلاًناسخ،غالب،ثاقب، یگانہ، فراق اور جوش وغیرہ کے ہیں-اس حوالے سے ایک بڑا دل چسپ واقعہ عظیم بیگ اور انشا کے درمیان کی ہے۔ ذیل میں واقعہ درج ہے:
عظیم ایک مشاعرے میں اپنا کلام پیش کررہے تھے، اور ان سے اوزان میں خطا ہوگئی،انھیںانشا بھری محفل میں ان سے تقطیع کرنے کی فرمائش کردیتے ہیں ۔ یہ بات ہمیشہ ذہن نشیں رہے کہ علم عروض سے واقفیت ہونا اور ہے اور اس پر کماحقہٗ کمال حاصل ہونا اور ہے۔ یہ غلطی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ بعض اوزان کے صوتیاتی آہنگ اتنے ملتے جُلتے ہیں کہ ذراسی غفلت ایک بحر سے دوسرے بحر میں داخل کردیتی ہے اور معلوم بھی نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر جیسے عظیم بحررجز سے بحررمل میں داخل ہوگئے۔ انشانے جو مخمس اس حوالے سے طنزاً! پڑھا تھاوہ یہ ہے ؎
گر تو مشاعرے میں صبا آج کل چلے

 کہو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل کر چلے
اتنا بھی حد سے اپنی نہ باہر نکل چلے پڑھنے کو شب جو یار غزل در غزل چلے
بحررجز میں ڈال کے بحر رمل چلے
عروض کی مدد سے شاعری کا تجزیہ کیاجاسکتا ہے۔ اگر عروض سے نابلد ہوتو نہ وہ اپنی غلطی کو سمجھ سکتا ہے اور نہ کسی کی اصلاح کرسکتا ہے-شاعری پر عالمانہ گفتگو کے لیے عروض کا علم ہونا لازمی ہے، کیوں کہ آپ جب تک علم عروض سے واقف نہیں ہوں گے تب تک پورے طور سے شاعری پر نقدوتبصرہ نہیں کرسکتے ہیں۔ مذکورہ بالا تمام باتوں سے معلوم ہوگیا کہ علم عروض کی شاعری میں بڑی اہمیت ہے،جس سے انکار ممکن نہیں۔

  • 4
    Shares
  • 4
    Shares