Select your Top Menu from wp menus

ہمارا ملک ایک ذی استعداد عالم دین,نامور قلمکار سے محروم ہوگیا

ہمارا ملک ایک ذی استعداد عالم دین,نامور قلمکار سے محروم ہوگیا
عبدالخالق القاسمی
مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور مظفرپور
یہ سال ہم لوگوں کے لئے بڑا رنج و رساں معلوم ہوتا ہے,ایسے ایسے جید و نامور عظیم شخصیت کے حامل علماء کرام ہم سے رخصت ہوگئے جن کی مثال زمانہ لانے سے قاصر ہے,مجھے یہ حدیث بار بار یاد آتی ہے (ولکن یقبض بقبض العلماء)علم علماء کو اٹھاکر امت سے ختم کردیا جائیگا,اگر اسلام میں ماتم جائز ہوتا تو ہم ان علماء کرام کا ضرور ماتم کرتے,کیونکہ ان سے عالم اسلام کو زبردست دھکہ لگا ہے,مگر حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں, 16 جنوری 2019 صبح جب نیند سے بیدار ہوا تو یہ خبر صاعقہ بن کر گری کہ فکر اسلامی کے عظیم نقیب مجلہ الرائد کے رئیس التحریر قد آور صحافی مولانا واضح رشید حسنی ندوی اپنے مالک حقیقی سے جاملے,انا للہ وانا الیہ راجعون,
حضرت مولانا واضح رشید حسنی ندوی کی وفات حسرت آیات نہ صرف دارالعلوم ندوۃ علماء لکھنؤ بلکہ پوری امت مسلمہ کے لئے المناک سانحہ ہے,ایسے تو ہر لمحہ کوئی نہ کوئی نیا حادثہ ظہور پذیر ہوتا رہتا ہے,جس کا مشاہدہ ہم کرتے رہتے ہیں,مگر کچھ نفوس ایسے سعادت مند ہوتے ہیں جن کی وفات پوری امت مسلمہ کے لئے انتہائی المناک,جاںگسل,روح فرسا,جگر سوز اور دل دہلا دینے والا ہوتا ہے,اس عالم ہست و بود میں ان سعادتمند نفوس میں سے ایک کامل ہستی مولانا واضح رشید حسنی ندوی کی تھی جو اب ہم سے روپوش ہوچکی ہے,حضرت علیہ الرحمہ کا اس دنیا سے پردہ فرما جانا ایک المیہ ہے,جس کے ضبط کی تاب و تواں نہیں,حضرت کے سانحہ ارتحال سے نہ صرف ندوۃ العلماء کا ستون گرگیا بلکہ ملک کے درس و تدریس ,اردو,و عربی ادب,رشدو ہدایت,وعظ و پند کی تمام مجلسیں اداس ہوگئیں,حضرت کو اللہ تبارک وتعالی نے ایسے جامع کمالات سے متصف کیا تھا جس کی مثال دور حاضر میں خال خال ہی ملتی ہے,اللہ نے آپ کو ظاہری اور باطنی دونوں محاسن سے نوازا تھا,آپ اپنے وسیع و عمیق علم و فکر,زہدو تقوی,اخلاص و عمل,دینی, علمی,فلاحی نصرت اور اصلاحی خدمات کی وجہ کر علماء اور عامۃ المسلمین کے حلقہ میں کافی مقبول تھے,آپ کی پوری زندگی تعلیم و تعلم اور اشاعت دین میں گزری,مرحوم کفایت شعاری اور سادگی کا اعلی نمونہ تھے,پوری زندگی تصنع اور بناوٹ سے دور رہے,موصوف اچھے ماہر قرآنیات,اچھے ماہر حدیث,سنجیدہ متکلم,نامور مورخ,بہترین سیرت نگار اور عمدہ انشاء پرداز تھے,آپ کے چہر انور پر نظر پڑتی تو ایسا محسوس ہوتا کہ سنجیدگی و متانت کے کھلے ہوئے پھول ہیں جس کی خوشبو سے ہر عام و خاص مستفید ہو رہا ہو,آپ کی آنکھوں کی پلکیں اس بات کی گواہی دیتی تھی کہ کبھی فسق و فجور کی طرف بھولے سے نہ اٹھی ہونگی,لباس اتنا صاف ستھرا پاکیزہ زیب تن کرتے گویا پاکی صفائی ان کی گھٹی میں پڑی ہو آپ نفیس طبیعت کے حامل تھے,خلاف شرع کوئی بات ان کے نظر سے گزرتی یا ان کے کانوں سے ٹکراتی تو ان کی زبان بیباک ہوجاتی اور قلم دھاردار تلوار بن جاتا اور دشمنوں کو جواب دیئے بغیر نہیں رہ پاتے, آپ نہایت سادہ لوح تھے,بڑے فیاض اور مہمان نواز تھے,ایسے مشفق,مربی,مخلص,نیک دل پاک طبیعت و جلیل القدر عالم دین,بیباک صحافی,بحر خطابت کے تیراک کا دور حاضر میں اٹھ جانا جب کہ ماضی سے زیادہ مستقبل میں ان کی ضرورت تھی,ملت کے لئے ایک بڑا خسارہ ہے,جس کا نعم البدل بہت مشکل ہے,یہ وقت امت مسلمہ کے لئے بڑی آزمائش کا ہے,حضرت کے انتقال پر یقینا پوری امت مسلمہ کی آنکھیں اشکبار ہونگی کہ اب اس امت مسلمہ کا کیا ہوگا؟لیکن حضرت علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی کے اکثر حصے دین و ملت کی خدمت میں لگاکر جو خیر کا درخت لگایا ہےاس سے پوری امید ہیکہ میٹھا پھل ضرور ملے گا جس سے امت مسلمہ کی فکر دور ہوجائے گی,حق تعالی حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی دینی مساعی کو قبول فرمائے اور اپنی رضا و رحمت اور آخرت کی راحت و سعادت سے ہمکنار کرے,نیز علمی و دینی سرمایہ کی حفاظت و نصرت کے لئے اپنی قدرت کاملہ سے امت مسلمہ کو رجال مہیا فرمائے اور ان کے تمام علمی وابستگان اور جملہ اعزہ اقارب کو سکون و قرار مرحمت فرمائے آمین,
9534132157
  • 3
    Shares
  • 3
    Shares