Select your Top Menu from wp menus

سرکاری شعبوں میں ملازمین رکھنے کااستحصالی فارمولہ

سرکاری شعبوں میں ملازمین رکھنے کااستحصالی فارمولہ

اشرف علی بستوی  

وزیر اعظم نریندر مودی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے جنرل کٹیگری کو 10 فیصد ریزرویشن دیکربڑا کارنامہ انجام دیا ہے ، لیکن انہوں نے اس کاکوئی ثبوت فراہم نہیں کیا کہ پبلک سیکٹر میں خالی اسامیوں کو پر کرنے کی کیا کوشش کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاستی سطح پر پبلک سیکٹر میں 24 لاکھ جگہیں خالی ہیں ، مرکزی حکومت کے اداروں میں 4 لاکھ  اسامیاں خالی ہیں ۔ ذرا یاد کیجیے ، انہوں نے 2014 میں اپنی انتخابی مہم میں عوام سے  جو وعدے کیے تھے اس میں سے ایک ہر سال دو کروڑنوکریاں دلانے کا وعدہ بہت اہم تھا ۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو یہ توقع تھی کہ ملک میں سیاسی تبدیلی سے ‘اچھے دن آئیں گے’ ۔ لیکن گزشتہ ساڑھے چار برس میں ایسا نہیں ہوا نوجوان مایوسی کاشکار ہو گئے ۔

اگروزیر اعظم اپنے وعدے سے کم سہی صرف  ایک چوتھائی لوگوں کو بھی روزگار دے دیتے تو صورت حال کچھ بہتر ضرور ہوئی ہوتی ۔ سرکاری دفاتر کا اگر جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ گزشتہ 30 برس میں سرکاری شعبوں میں مستقل ملازمت دینے کا تناسب حد درجہ کم ہوا ہے ۔  اب سرکاری دفاتر میں چار طرح کے ملازمین پائے جاتے ہیں ۔ مستقل ، ریٹائرڈ ملازمین ، غیر مستقل اور کیزویل ۔ 1990 کی دہائی میں ملک میں آزاد معیشت کا دور شروع ہونے کے بعد معاشی اصلاحات اور سرکاری اخراجات میں تخفیف کے نام پر ملازمین کی کمی کو پورا کرنے کے لیے  یہ طریقے  نکال لیے گئے ۔ خالی اسامیوں کو پر کرنے کے لیے ریٹائرڈ ملازمین کو نصف تنخواہ پر کنسلٹینٹ کے طور پر دوبارہ اسی شعبے میں بلا نے لگے ، پھر بھی ضرورت پوری نہ ہوئی تو گیارہ ماہ کے کنٹریکٹ پر عارضی ملامین رکھ لیے اور  جب اس سے بھی کام نہ چلا تو کیزویل ملامین رکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ۔ اس طرح تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو بہلانے کے لیے طفل تسلیوں کا دور شروع ہوا ۔

حکومت کے اداروں کو لگا کہ اس طرح ایک مستقل ملازم کی تنخواہ میں 4 غیر مستقل اور 10 کیزویل ملازم رکھے جا سکتے ہیں ، اور ملازمین کے لیے کسی طرح کی کوئی ذمہ داری بھی نہیں اٹھانی پڑے گی۔ بیورو کریسی کا  یہ پرپوزل منتخب حکومتوں کو بہت راس آیا اس طرح بہت کم پیسوں میں کام چلانے کا آسان طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ۔  جس حکومت کی ذمہ داری روزگار کے نئے مواقع تلاش کرنے کی تھی ، عوام کو انصاف دلانے کی تھی حکومت ہی استحصال کی مثال قائم کرنے لگی ۔

یہ سب کچھ ہوتا کیسے ہے  کیزویل ملازمین کو ضرورت پڑنے پر ایک ماہ میں سات دن کی دیوٹی دی جاتی ہے اور انہیں بطور معاوضہ فی ڈیوٹی ایک طے فیس دے دی جاتی ہے اور پھر سالہا سال تک فیس پر کوئی غور وخوض نہیں ہوتا ۔ کنٹریکچویل ملازمین کو ملامت کے تمام حقوق سے محروم رکھتے ہوئے 11 ماہ کے کنٹریکٹ پر رکھا جاتا ہے اور انہیں اسی عہدے پر کام کرنے والے ریگولر ملازم کی تنخواہ کا ایک چوتھائی ماہانہ طے کر دیا جاتا ہے۔ اور ہر سال اس کنٹریک کی تجدید سالانہ پرفارمینس کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔ کنٹریکچویل ملازمین کو بعض دفعہ زیادتی کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔ ان کے کنٹریکٹ کی تجدید نو پر منفی اثر پڑتا ہے ۔ بات یہیں نہیں مکمل نہیں ہوتی ۔

نئی نسل کے ساتھ ایک زیادتی اور شروع ہوئی سرکاری شعبوں میں ریٹائرڈ ملازمین کونصف ریٹا ئرمنٹ کے وقت ملنے والی تنخواہ کا نصف دیکر  بطور کنسلٹینٹ دوبارہ بلانے کی رواج قائم ہوگئی اس سے نئے لوگوں کے لیے مواقع مزید منجمد ہوگئے ۔ اس کی آسان دلیل یہ تلاش کر لی گئی کہ چونکہ نئے سرکاری افسران کی مستقل تقرری نہ ہونے کے سبب پالیسی کی سطح کی کوئی غلطی نہ سرزد ہو اس لیے ریٹائرڈ ملازمین کا ساتھ لینا زیادہ بہتر ہے ۔ انہوں نے سسٹم میں رہ کر حکومت کی پالیسیوں کو بہتر سمجھا ہے، نیزکیزویل اور کنٹریکچویل ملازمین سے زیادہ ذمہ دار  ثابت ہوں گے ۔  

 جب سے حکومت نے یہ استحصالی فارمولا اپنانا شروع کیا تو پہلے سے معاشی دباو کا شکار نجی ادارے بھی اسی راہ پر چل پڑے ۔ اس طرح کے اقدام سے لوگوں کو وقتی طور پر کچھ فائدہ تو ضرور ہوا لیکن وہ اپنے بہت سے حقوق سے محروم کر دیے گئے ۔ ایسے لوگوں کی نہ تو نوکریاں محفوظ ہوتی ہیں اور نہ ہی انہیں ادارے کی جانب سے سماجی تحفظ کا حق حاصل ہوتا ہے ۔ یوں تو گزشتہ 30 برس میں مزدوروں نوکری پیشہ افراد  کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتوں نے وقفے وقفے سے اصلاحات  بھی کیے۔  لیکن پھر بھی حالات مزید خراب ہوتے چلے گئے۔ عدلیہ اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے دباو میں اصلاحی اقدامات ضرور ہوئے ، لیکن سفارشات پر عمل کبھی نہیں ہوا ۔ جس معاشرے میں انسانی وسائل کو نعمت کے بجائے زحمت تصور کیا جائے وہاں ایسی صورت حال پیدا ہونا فطری ہے ۔

 ہندوستان کو بے روزگاری کے دلدل سے نکالنے کے لیے مضبوط قوت ارادی اور مستقل منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ زیادہ نہیں اگر ہر برس ساٹھ تا ستر لاکھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے رہیں تو یہ مسئلہ بہت آسانی سے قابو میں آجائے گا ۔

 لیکن موجودہ حکومت کا بے حد غیر ذمہ دارانہ رویہ سامنے آیا ہے ۔ تمام یونیورسٹیوں میں ہر طرح کے تقرری پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایسے افراد جو پہلے سے کام کر رہے ہیں انہیں مستقل کرنے کا کام ہوتا ۔ آزاد معیشت کے فیصلے نے عام آدمی کی زندگی کو بری طرح  متاثر کیا ہے۔  معاشرے میں جس تیزی سے کروڑوں کمانے والے سرمایہ داروں  کی تعداد بڑھی ہے اسی تیزی سے غربت اور افلاس کا دائرہ بھی بڑھتا چلا گیا امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی چلی گئی اس بات نے معیشت ، معاشرت اور سیاست سب کو متاثر کیا ہے ۔

  • 2
    Shares
  • 2
    Shares