ڈاکٹرحاظ کرناٹکی کے اعزاز میں شکاری پور میں تاریخی جلسہ

0

ہمیں بے حد خوشی ہے کہ ڈاکٹرحافظ کرناٹکی جیسے مہان ادیب ہمارے گاو¿ں کے رہنے والے ہیں۔جن کی وجہ سے ہمارے گاو¿ں کی عزت بڑھی ہے:سابق وزیر اعلی بی ایس ایڈیورپا جی
ےہ اردو زبان ہے جس مےں ہندوستان کی روح خوشبو بن کر رچی بسی ہے۔ڈاکٹرحاظ کرناٹکی
آج بروزجمعرات ۵۲/نومبر۱۲۰۲ئ کو حافظ کرناٹکی کو ساہتیہ اکادمی ایورڈملنے کی خوشی میں انجمن اسلام جامع مسجدشکا ری پور ا ور باشندگا ن شکا ری پور نے ایک نہایت زرق برق اعزازی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔
ڈاکٹرحافظ کرناٹکی تقریبا تین دہوں سے سماجی، فلاحی، رفاہی ،علمی و ادبی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ ادب اطفال کی آبیاری میں بھی لگے ہوئے ہیں وہ ایک ہر دل عزیز انسان اور شاعر و ادیب ہیں ۔ایک طرف ادب اطفال میں ان کی خدمات نہایت نمایاں اور مثالی نوعیت کی ہیںتو زمینی سطح پر بھی ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔حافظ کرناٹکی جس طرح ادب میں مقبول ہیں،اور اردو سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں دھڑکن بن کر دھڑکتے ہیں اسی طرح عوام میں بھی مقبولیت کے لئے مثالی سمجھے جاتے ہیں۔
بہر حال شکاری پور کی ہر چھوٹی بڑی عوامی تنظیموں ، انجمنوں ، اساتذہ کی انجمنوں ، ائمہ¿ کی کمیٹی ، مدارس کے علماء، حفاظ ، اور دوسرے تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حافظ کرناٹکی کے شاندار اعزاز کے لئے ایک خاص طرح کے جشن کا نظم کیا،لوگوں کی محبتیں دیکھنے سے تعلق رکھتی تھیں۔اسٹیج کو بھی بہت ہی معنی خیز انداز میں سجایا گیا،اسٹیج پر بہت بڑا اسکرین لگا گیا تھا۔جس پر حافظ کرناٹکی کے گذشتہ اعزاز وانعامات کی یادگار ویڈیوز ان کو ملنے والی کامیابیوں کی یاد گار تصویر یں ، ان سے لئے گئے ، انٹرویوزکے چنندہ حصوں ، یوٹیوب اور فیس بک پر دھوم مچانے والی ان کی حمدوں ، نعتوں ، نظموں اور لوریوں کی ویڈیوز کو تسلسل کے ساتھ چلایا گیا۔ انہوں نے جو یادگار جشن اردو منایا تھااس کے بھی کچھ حصے بیک گراﺅنڈ میں دکھائے گئے ۔ اسٹیج کے نیچے بھی ایک بڑا اسکرین لگایا گیا تھا۔
جس پر انہیں مبارکبادیاں پیش کرنے والوں اور مختلف اوقات میں انہیں اعزاز دینے والے لوگوں کی تصویریں چل رہیں تھیں۔ سارے لوگ بے حد خوش تھے ۔ آس پاس کے گاو¿ں اور شہر شیموگہ سے بھی ان کے چاہنے والے بڑی تعداد میں آئے تھے۔ اس موقع سے میڈیا کی بھی کئی ٹیمیں موجود تھیں۔اس اعزازی جلسے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست کرناٹک کے سابق وزیر اعلی بی ایس ایڈیورپا جی بھی انہیں مبارک باد دینے کے لئے شریف لائے ان کے ساتھ اس علاقے کے ایم پی شری بی وائی راگھویندراجی بھی آئے۔ سابق وزیر اعلی بی ایس ایڈیورپا جی نے اپنی تقریر میں کہا کہ حافظ کرناٹکی کو مبارک باد دیتے ہوئے مجھے مسرت ہورہی ہے۔ انہوں نے سچ مچ شکاری پور اور ریاست کرناٹک کا نام روشن کیا ہے ، آ پ تعلیمی ادارے بھی چلاتے ہیں ۔ بڑی بات یہ ہے کہ آپ نہایت سیکولرذہن کے ساتھ تعلیمی ادارے چلاتے ہیں ، حافظ کرناٹکی جیسے مہان لوگوں کی وجہ سے سماج کا وقا ر بڑھتا ہے۔اس جلسہ کا باضابطہ آغازتلاوت کلام پاک سے ہوا ، فیاض شاہی نے حافظ کرناٹکی کی نعت پڑھ کر جلسے کا ماحول بنایا۔ استقبالیہ تقریر کرتے ہوئے محمد اظہر الدین ازہر ندوی نے کہا کہ حافظ کرناٹکی کی شخصیت اتنی عظیم ہے کہ ہم ان کے اعزاز و استقبال کے لائق خود کو نہیں سمجھتے مگر دلی جذبات سے مجبور ہیں۔ہم ان کا دل کی گہرائیوں سے استقبال کرتے ہیں۔ محمد اشفاق فاتح مدنی نے جلسے کی غرض و غایت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حافظکرناٹکی شکاری پور کی اسی خاک سے اُٹھے ہیں۔اور اپنی محنت، لگن علم اور ادب سے سچے لگاو¿ کی وجہ سے آسمان کے درخشاں ماہتاب بن گئے ہےں۔ ہم آج کا ےہ جلسہ ان کے اعزاز کے لےے منعقد کررہے ہےں۔
اس کے بعد شہر شکاری پور کی تمام انجمنوں ، تنظیموں ، کمیٹیوں ، مختلف اداروں ، ائمہ¿ مساجد ، اساتذہ ، اسکول و مدارس، اور حافظ کرناٹکی کے دوست و احباب اور شہر کے عمائدین نے ان کا نہایت ہی پُر جوش انداز میں اعزاز کیا۔
انجمن اسلام جامعہ مسجد کے سکرےٹری جناب مقبول صاحب نے حافظ کرناٹکی کی ادبی اور علمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تن تنہا اےک انجمن اور اےک اکادمی کی طرح کام کےا ہے۔ وہ جس خلوص سے سماج، معاشرے کی خدمت کرتے ہےں، اس سے بھی زےادہ لگن اور چاہ سے ادب اور ادب اطفال کی خدمت کرتے ہےں۔ ہم ان پر جتنا بھی فخر کرےں کم ہے۔ کےوں کہ وہ ہماری انجمن کے صدر بھی ہےں۔ جب اعزاز و اکرام کا ہنگامہ ذرا تھما اور جلسہ اپنے اختتام کو پہونچنے کو ہوا تو حافظ کرناٹکی نے اپنی اعزازی تقرےر سے سامعےن کو نوازا۔ انہوں نے اردو زبان کی اہمےت وافادےت اس کی شےرےنی اور اس کی دلکشی کا ذکر کےا اور کہا کہ اردو وہ زبان ہے جس مےں ہمارے والدےن نے ہم سے پےار و محبت کی باتےں کےں۔ اردو وہ زبان ہے جس مےں ہمارے ملک کی تہذےب سانس لےتی ہے۔ ہماری آزادی کی جدّوجہد کا ہر لمحہ مسکراتا ہے۔ ےہ اردو ہے جس نے ”انقلاب زندہ باد“ کا نعرہ دےا۔ ےہ اردو زبان ہے جس مےں ہندوستان کی روح خوشبو بن کر رچی بسی ہے۔ ےہ اردو ہے جس مےں قرآن مجےد کی تفسےرےں محفوظ ہےں۔ احادےث مبارکہ کے ترجمے موجود ہےں۔ اس لےے اس زبان کا پڑھنا، لکھنا، سےکھنا اور دوسروں کو اس زبان سے جوڑنا اےک بڑا اور محترم کام ہے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات گرامی جن مےں ہمارے وہ بزرگ بھی شامل ہےں جن کے سامنے مےں نے ہوش سنبھالا، وہ احباب بھی شامل ہےں جن کے ساتھ بچپن کے خوب صورت اوقات گذارے، وہ نوجوان اور بچے بھی شامل ہےں جنہےں مےں نے اپنی شاعری سنائی، ان کے درمےان آج معززبن کر رہنے سے زےادہ اپنائےت کے ساتھ گلے ملنے کا مزہ اور خوشی اہم ہے۔ انہوں نے ےہ بھی کہا کہ آج اگر مےں کسی لائق اور قابل ہوں تو اس مےں آپ بزرگوں کی دعاو¿ں کے ساتھ ان بچوں کا بھی خاص رول ہے۔ جنہوں نے مےری نظموں کو اپنی خوب صورت آواز مےں گاکر مےرے حوصلوں کو بلند کےا۔
اس جلسے کی نظامت محمداظہرالدّےن ازہر ندوی نے کی اور انہےں کے شکرےہ کے ساتھ جلسہ اختتام کو پہونچا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.