Select your Top Menu from wp menus

جانا سبھی کو ہے مگر اس طرح حضور

جانا سبھی کو ہے مگر اس طرح حضور

از قلم ۔ فضل المبین
خيروا ، ڈھاکہ مشرقی چمپا رن
آج صبح آنکھیں کھلی ، نیند سے بیدار ہو کر نئے امنگوں کی آنگڑائیاں لے رہا تھا ، آنکھوں کو ملتے ہوئے نئے عزائم کی سوچ میں مبتلا تھا تبھی میر ا موبائل حرکت میں آیا اور ٹی ٹی کرنے لگا میں نے دیکھا تو کسی دوست کا وہاٹس ایپ تھا ….. پھر کیا تھا ایک کربناک میسیج تھا وہ یہ کہ:عالم اسلام کے مشہور و مقبول عالم دین، قد آور صحافی، ندوۃ العلماء کے معتمد تعلیم، صحیفئہ الرائد کے رئیس التحریر، مجلۃ البعث الاسلامی کے شریک ادارت، جنرل سیکرٹری رابطہ ادب اسلامی، درجنوں عربی و اردو کتابوں کے مصنف استاد محترم جناب مو لانا محمد واضح رشید حسنی ندوی نہیں رہے ۔١٤٤٠ھ مطابق ١٦ جنوری ٢٠١٩ء کے فجر کی اذان نے دو خبروں کے ساتھ امت مسلمہ کو بیدار کیا نماز فجر اور نماز جنازہ، جی ہاں ایک طرف صبح کی کرن پھوٹ رہی تھی تو دوسری طرف علم کا ستارہ سورج کی روشنی میں چھپتا چلا جارہا تھا حتی کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے عالم فانی سے جدا ہو کر عالم فانی کی طرف کوچ کرگیا۔
میں تو براہ راست حضرت کا شاگرد نہیں تھا لیکن نہ جانے دارالعلوم ندوۃ العلماء اور وہاں کے اساتذہ کرام سے گہری محبت کیوں ہے ؟؟ یہ مجھے بھی نہیں پتہ  ۔  لیکن ایک رشتہ حضرت سے تھا وہ یہ کہ حضرت میرے والد محترم مولانا نذر المبین ندوی صاحب کے استاد تھے۔
حضرت تو چلے گئے ۔خود تو آنکھیں بند کرلیں لیکن میرے جیسے ہزاروں کی آنکھیں کھول دیں ، لاکھوں کی آنکھوں سے اشکوں کی لڑی لگ گئی اور دارالعلوم ندوۃ العلماء ماتم کدے میں تبدیل ہو گیا نوابوں کا شہر لکھنؤ پر سکوت طاری ہو گیا۔ اور آخرت کا مسافر بیک جست اپنی منزل کو جا پہنچا ۔
آج پورا ندوہ گھرانہ ، ہزاروں شاگرد ،بے شمار اور لاتعداد اہل تعلق اور نجانے کتنے عقیدت مندوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہے اور دل صدمے سے لالہ زار ہے سخت سے سخت دل کا آدمی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ :
مجھے تو ناز تھا ضبط غم درد محبت پر
یہ آنسو آج کیوں بے تاب ہو کر نکلتے ہیں

حضرت مولانا واضح رشید ندوی  کی ولادت لکھنؤ کے قریب واقع ضلع رائے بریلی میں ہوئی۔ دار العلوم ندوۃ العلماء سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی میں بی اے کیا۔
بی۔ اے۔ کرنے کے بعد آل انڈیا ریڈیو میں بحیثیت مترجم و اناؤنسر 1953ء سے 1973ء تک کام کیا، اس کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء واپس آ گئے اور بحیثیت استاد ادب عربی ان کا تقرر ہوا۔ دار العلوم ندوۃ العلماء کے کلیۃ اللغۃ العربیۃ و آدابہا کے عمید رہے پھر عبد اللہ عباس ندوی کے بعد ندوہ کے معتمد تعلیمات مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ مدرسہ فلاح المسلمین، رائے بریلی کے ناظم اور دار عرفات کے نائب صدر تھے۔ نیز دار العلوم ندوۃ العلماء کے عربی ماہنامہ البعث الاسلامی کے تاحیات مدیر رہے۔

عربی زبان و ادب کے میدان میں مولانا کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدر جمہوریہ ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا تھا ۔

حضرت ، مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بھانجا تھے اور اپنے بڑے بھائی محمد رابع حسنی ندوی( مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو و صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ) کے خلیفہ مجاز بھی تھے۔ وہ درجنوں عربی و اردو کتاب کے مصنف تھے ۔ وہ قلم کے شہسوار تھے ،ان کی تحریروں میں فکر کے جگنو چمکتے نظر آتے تھے ۔ لیکن ان کا اس پر قلم سازی تھا راہوارِ قلم عربی تھا انداز بیان ہوشمندانہ اور سنجیدہ تھا ۔ مولانا کی تحریریں عالمی حالات مدنظر ہوا کرتی تھی ان میں جوش کا عنصر بہت کم اور ہوش کا عنصر بہت غالب ہوتا تھا ۔ان کی زیادہ تر تحریروں موضوع یہی ہوا کرتا تھا کہ قافلہ کیوں لوٹا اور مسلمانوں کی عزت و عظمت کا روشن چاند شکست و زوال کے بادلوں میں کیسے روپوش ہو گیا ۔ حضرت کی تصنیف کی ہیں کتابوں میں سے چند یہ ہیں ۔

(اردو میں)
محسن انسانیت ﷺ
سلطان ٹیپو شہید ایک تاریخ ساز قائد شخصیت
مسئلۂ فلسطین
ندوۃ العلماء ایک رہنما تعلیمی مرکز اور تحریک اصلاح و دعوت
نظام تعلیم و تربیت اندیشے، تقاضے اور حل
اسلام مکمل نظام زندگی حدیث نبوی کی روشنی میں

(عربی میں)

أدب الصحوة الإسلامية
الدعوة الإسلامية و مناهجها في الهند
حركة التعليم الإسلامي في الهند و تطور المنهج
تاريخ الأدب العربي، العصر الجاهلي
من صناعة الموت إلى صناعة القرارات۔
نحو نظام عالمي جديد
حركة رسالة الإنسانية
الإمام أحمد بن عرفان الشهيد
مصادر الأدب العربي
أدب أهل القلوب
المسحة الأدبية في كتابات الشيخ أبي الحسن على الحسني الندوي
الشيخ أبو الحسن قائدا حكيما
مختصر الشمائل النبوية
أعلام الأدب العربي الحديث
(اردو سے عربی ترجمہ)
فضائل القرآن الكريم للشيخ محمد زكريا الكاندهلوي
فضائل الصلاة على النبي الكريم صلى الله عليه وسلم للشيخ محمد زكريا الكاندهلوي
الدين و العلوم العقلية للشيخ عبد الباري الندوي

مولانا شمار ہندوستان کے صف اول کے علماء کرام میں ہوتا تھا ۔ عربی زبان و ادب مولانا کا خاص موضوع تھا، درس و تدریس اور صحافت کو مشغلہ بنا یا تھا، آپ کا علم و فضل رشک اقران و امثال تھا، تحریر رواں اور ادیبانہ تھا، زبان میں بے ساختگی اور برجستگی ہے، أسلوب میں بیک وقت ایک ٹھہری ہوئی سنجیدگی اور سنبھلی ہوئی شوخی باہم ملی جلی پائ جاتی تھی ،یہ اسلوب ایسا ہے کہ نازک سے نازک فکری، اجتماعی اور سیاسی مسائل پر بھی شگفتگی اور دالوزی مولانا کا ساتھ نہیں چھوڑتی تھی۔ادب مولانا کا کوئی تفریحی مشغلہ نہیں تھا بلکہ اسے ایک فطری اور مقدس منصب سمجھ کر انجام دے رہے تھے، کبھی بھی اپنی عربی دانی کو کمائ یا دنیاوی عزو جاہ کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ علم و ہنر ہی موالنا کی زندگی تھی۔
ع نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پروا۔
مولانا کی اہم خصوصیت علم کی وسعت و گہرائی تھی، آپ نے اپنا مطالعہ کبھی کسی ایک فکر و خیال یا ایک تھذیب و تمدن تک محدود نہیں رکھا آپ کی عادت تھی کہ کہاں سے یا کس سے کیا چیز لیں ” خذ ما صفا و دع ما كدر ” کی حکمت آپ کے طرز عمل سے عبارت ہے تعصب و گروہ بندی یا تنگ نظری کا یہاں گزر نہیں۔
آفتاب علم و فضل آج صبح طلوع ہونے سے قبل ہی ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔
جانا سبھی کو ہے مگر اس طرح حضور
جاگے نہ پھر کبھی ایسے ہوئے بے شعور
آج یہ نیک انسان نہا دھوکر نئے کپڑے پہن کر اپنے جسم کو خوشبو سے لپیٹ کر اپنے رب کے دربار میں عاجزی کے ساتھ پہنچ چکا ہے ۔ لاکھوں فرشتے قطار میں بندھے ہیں اور سورانی خلد بریں چشم برا ہے کہ ایک مومن کامل آج نفس مطمئنہ کے ساتھ اپنے دائمی سفر سے لوٹ کر ہمیشہ ہمیش کے لئے آبادی مکان میں آ چکا ہے اور کیوں ایسا نہ ہو کہ یہی تو اداب زندگی ہے اور یہی مسافر کا صحیح اکرام ہے کہ
تھکے ہارے پرندے جب بسیر ا کے لیے لوٹیں
سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے
خد اپنی اس بندے کی نیکیوں کو قبول فرمائے، سیئات سے درگزر کرے اور خلد بریں کے اعلی سے اعلی مقام میں جگہ دے ، پسماندگان کے ساتھ پورے ندوہ حلقہ بالخصوص ان کے بڑے بھائی مولانا سید رابع حسنی ندوی کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین

  • 1
    Share
  • 1
    Share