تین زرعی قوانین کی واپسی سے ابھرے سوال

0
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

وزیراعظم کے ذریعہ زرعی قوانین کی واپسی کے اعلان میں کسی کو نظام پر عوام کی جیت نظر آئی ۔ تو کوئی اسے کسانوں کی تاریخی کامیابی بتا رہا ہے ۔ کوئی بی جے پی کا گمان ٹوٹنے اور کوئی کسانوں کے آگے حکومت کے جھکنے سے تعبیر کر رہا ہے ۔ واضح رہے کہ کسانوں کا احتجاج گزشتہ ایک سال سے چل رہا ہے ۔ اس دوران کسانوں کو کیا کچھ نہیں کہا گیا ۔ انہیں خالصتانی، دہشت گرد، موالی، سیاسی جماعتوں کے ذریعہ بہکایا ہوا یہاں تک کہ کسان تک ماننے سے گریز کیا گیا ۔ کسانوں کو روکنے کے لئے سڑک کھود دی گئی، کیلیں، کانٹے دار تار لگا دیئے، بجلی، پانی کاٹ دیا ۔ مقامی لوگوں (بی جے پی کے کارکنوں) کے ذریعہ احتجاج کی جگہ کو خالی کرانے کی کوشش کی گئی ۔ سردی میں ٹھنڈے پانی کی پھوار ماری گئی، لاٹھیاں برسائی گیئں، طرح طرح ستایا اور اکسایا گیا ۔ مگر کسانوں نے صبر، سمجھداری اور گاندھی جی کے اصول عدم تشدد کا دامن نہیں چھوڑا ۔ یہی وجہ تھی کہ جو کسان اس تحریک کا حصہ نہیں تھے ان کی حمایت بھی آندولن کو حاصل ہو گئی ۔ یہ کسی مذہب، ذات یا علاقہ تک محدود نہ رہ کر پورے ملک کے کسانوں کا احتجاج بن گیا ۔ اس کی بازگشت امریکہ، کنیڈا جیسے ممالک میں بھی سنائی دینے لگی ۔ لیکن حکومت اپنا قدم پیچھے کھینچنے کو تیار نہیں تھی ۔ جبکہ اس ایک سال میں سات سو سے زیادہ کسانوں کی موت ہو گئی اور کورونا کی دوسری لہر آ کر چلی گئی ۔ اس لئے فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت گرو نانک جی کی یوم ولادت "پرکاش پرو” کے دن زرعی قوانین واپسی کا اعلان کیوں کیا گیا؟
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنگال الیکشن میں ناکامی، اترپردیش کے پنچایت چناؤ اور حال میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو ملی ہار کسان احتجاج کا نتیجہ ہے ۔ اترپردیش اور ہماچل جہاں اس کی اپنی حکومت ہے وہاں بھی نتیجے اس کے خلاف رہے ۔ خبر کے مطابق کسانوں نے جگہ جگہ بی جے پی کے منتخب نمائندوں کو ان کے اپنے انتخابی حلقہ میں داخل ہونے سے روکنا شروع کر دیا ہے ۔ بی جے پی کو اتنے وسیع پیمانے پر مخالفت کی توقع نہیں تھی ۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی، بغیر تیاری کے لاک ڈاؤن، مہنگائی، بے روزگاری وغیرہ کو عوام نے سر جھکا کر قبول کیا ۔ زرعی قوانین کے بارے میں بھی اس کا خیال ہوگا کہ کچھ دن لوگ شور مچا کر، تھک ہار کر واپس لوٹ جائیں گے ۔ لیکن کسان اپنے مطالبات منوانے سے کم پر راضی نہیں ہوئے ۔ اس صورتحال نے بھاجپا کو مشکل میں ڈال دیا ۔ اسے اگلے سال ہونے والے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں ہار کا ڈر ستانے لگا ۔ بی جے پی اترپردیش کا الیکشن ہر حال میں جیتنا چاہتی ہے ۔ کیوں کہ 2024 کا راستہ یہیں سے گزرتا ہے ۔ یوپی ہارنے کا مطلب ہے مرکز میں اس کی واپسی آسان نہیں ہوگی ۔ اترپردیش کی 200 سیٹوں پر کسانوں کا اثر ہے ۔ کسان مغربی اترپردیش کی مہا سبھا میں بی جے پی کو ہرانے کا اعلان کر چکے ہیں ۔ مغربی یوپی کے 25 اضلاع میں 130 اور شمال مشرقی یوپی میں 117 سیٹیں ہیں ۔ 2017 میں انہیں دو علاقوں نے بی جے پی کو یوپی کے اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بنایا تھا ۔
اس بار حالات بدلے ہوئے ہیں مغربی اترپردیش میں مسلم جاٹ متحد ہیں ۔ جو 2017 میں مظفر نگر فساد کی وجہ سے الگ تھے ۔ اس علاقے کے تین طبقوں دلت، مسلم اور جاٹ میں سے دو جس کے ساتھ ہو جاتے ہیں اسے کامیابی ملتی ہے ۔ پچھلی مرتبہ دلت اور جاٹ ووٹ بی جے پی کے ساتھ تھا ۔ بی جے پی نے ان لوگوں کو پارٹی میں جگہ دی تھی جن پر فساد میں ملوث ہونے کا الزام تھا ۔ کسان احتجاج نے جاٹ اور مسلمانوں کو پھر سے متحد کر دیا ہے ۔ شمال مشرقی اترپردیش میں مسلم، او بی سی خاص طور پر راج بھر، نشاد وغیرہ اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اوم پرکاش راج بھر جو بی جے پی کی حکومت میں شامل تھے اس بار وہ اور جینت چودھری سماجوادی پارٹی کے ساتھ ہیں ۔ ایسے میں بی جے پی کا انتخابی رتھ شمال مشرق کے ایکسپریس وے سے پھسل سکتا ہے ۔ پچھلے دنوں وزیراعظم اس ایکسپریس وے کا افتتاح کر چکے ہیں ۔ رائے دہندگان کو متاثر کرنے کے لئے فوجی طیاروں کا سہارا لیا گیا تھا ۔ مگر اکھلیش یادو کی ریلی میں امڑی بھیڑ نے بھاجپا کی نیند حرام کر دی ہے ۔ دوسری طرف کانگریس کی پرینکا گاندھی بی جے پی کو گھیرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی ہیں ۔ وہ لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو کچلے جانے کے خلاف جس ہمت کے ساتھ ڈٹی رہیں اس سے کسانوں کا حوصلہ بلند ہوا ۔
انتخابی نقصان سے بچنے کیلئے وزیراعظم نے تینوں زرعی قانون پرکاش پرو کے دن واپس لینے کا اعلان کر دیا ۔ اس سے ایک ساتھ دو نشانہ سادھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ایک طرف کسانوں کی ناراضگی دور کر ان کے ووٹوں میں سیندھ لگانا ہے ۔ وہیں دوسری طرف پنجاب میں اپنی زمین کو مضبوط کرنا ہے ۔ یاد رہے زرعی بلوں کی وجہ سے اکالی دل نے بی جے پی سے اپنی برسوں پرانی دوستی توڑ دیا تھا ۔ زرعی قانون واپس ہونے کے بعد اکالی پھر سے ساتھ آ سکتے ہیں ۔ اگر ارمندر سنگھ بھی اس اتحاد کا حصہ بن گئے ۔ تو پنجاب الیکشن میں تکونہ مقابلہ ہو سکتا ہے ۔ ارمندر سنگھ کا اکالی دل سے چھتیس کا آنکڑا رہا ہے لیکن بی جے پی سے انکی نزدیکی کیا گل کھلائے گی یہ آنے والا وقت بتائے گا ۔ وہ زرعی قوانین کی واپسی کو الیکشن میں اپنی کارکردگی کے طور پر پیش کر سکتے ہیں ۔ اس میں وہ کتنے کامیاب ہوں گے اور پنجاب کے لوگ ان پر کتنا بھروسہ کریں گے ۔ اس کے لئے انتخاب کے نتائج کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ لیکن کسانوں نے لکھنؤ میں مہا پنچایت کرکے اپنے ارادوں سے حکومت کو واقف کرادیا ہے ۔
مہا پنچایت میں مشترکہ کسان مورچہ نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں زرعی قوانین واپسی کی کاروائی پوری ہونے، ایم ایس پی کو قانون بنانے، احتجاج کے دوران جن 750 کسانوں کی موت ہوئی ہے ان کے لواحقین کو معاوضہ اور گھر کے کسی شخص کو نوکری دینے اور لکھیم پور کھیری میں جس مرکزی وزیر کے بیٹے نے کسانوں کو کچلا ہے اس کی وزارت برخاستگی کے بعد ہی احتجاج ختم کرنے کے بارے میں غور کیا جائے گا ۔ سوال یہ ہے کہ مودی حکومت نے 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ کیسے ہوگی ۔ جبکہ ڈیزل کی قیمتیں گرنے کا نام نہیں لے رہیں، بجلی، پانی، کھاد اور مہنگا یوریا (جو کہ زرعی پیداواری لاگت کا بڑا حصہ ہے) خرید کر کیسے کسان کی آمدنی دوگنی ہوگی ۔  جو کسان احتجاج کے دوران مر گئے ۔ صرف معافی مانگ لینے سے کیا ان کے زیر کفالت افراد کی ساری تکلیفیں دور ہو جائیں گی؟ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں گزرنے والوں کے بارے میں ہمدردی کے دو لفظ تک نہیں کہے ۔ دس ہزار سے زائد کسانوں کے خلاف مقدمات درج ہیں ان کا کیا ہوگا؟ وغیرہ ایسے بے شمار سوال منہ پھاڑے کھڑے ہیں جن کا جواب ملنا ابھی باقی ہے ۔
یہ پہلا موقع ہے جب وزیراعظم کے زرعی قانون کی واپسی کے اعلان میں بھروسہ نہیں دکھایا گیا ۔ اس کی ذمہ داری حکومت اور بی جے پی کے اپنے طریقہ کار پر عائد ہوتی ہے ۔ مثلاً قانون واپسی کے اعلان کے بعد بی جے پی کے خیمہ سے آواز آنے لگی کہ زرعی قانون پھر سے آئیں گے ۔ یہ قانون پارلیمنٹ کی روایات کو نظر انداز کرکے، بنا بحث، ووٹنگ کے ہڑبڑی میں لائے گئے تھے ۔ اسی طرح اب ایک جھٹکے میں انہیں واپس لینے کا اعلان کر دیا گیا ۔ نہ پہلے کسانوں سے بات کی گئی اور نہ اب انہیں اعتماد میں لیا گیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسانوں کا احتجاج عنقریب ختم ہونے والا نہیں ہے ۔ اس سے حکومت کی ناتجربہ کاری اور من مانی ظاہر ہوتی ہے ۔ اگر حکومت نے اپنا رویہ نہیں بدلا تو ہو سکتا ہے کہ اس کے ساتھ مہنگائی، بےروزگاری، بھک مری، غربت اور لا اینڈ آرڈر کے سوال جڑ کر یہ عوامی تحریک بن جائے ۔ ایسا ہوا تو حکومت کے لئے اس سے نبٹنا آسان نہیں ہوگا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کارپوریٹ کا مفاد سادھنے کے بجائے عوام کی طرف دھیان دے ۔ ان کے مسائل کا مستقل حل پیش کرے نہ کہ انتخابی وعدے ۔
 
 
Dr. M H Ghazali
Sr. Journalist & Columnist
9810371907 

Leave A Reply

Your email address will not be published.