Select your Top Menu from wp menus

ایک ملاقات پروفیسر احمد القاضی کے ساتھ

ایک ملاقات پروفیسر احمد القاضی کے ساتھ

1 – سب سے پہلے آپ اپنے خاندانی پس منظراور ابتدائی تعلیم کے بارے میں تفصیل سے بتائیں؟

میرا نام احمد محمد احمد عبد الرحمن القاضی ہے اور میرا تعلق صوبہ “سوھاج” ضلع “البلینا” کے ایک گاؤں “بنی حمیل” میں القاضی خاندان سے ہے یہ ایک معروف خاندان ہے جس کے اکثر افراد ازہر شریف کے فارغ التحصیل ہیں، میں نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب سے حاصل کی، میں نے دس سال کی عمر میں مکمل قرآن پاک حفظ کر لیا تھا، اس کے بعد میں نے ازہر شریف میں داخلہ لیا اور تقریبا چودہ سال کا عرصہ میں نے یہاں گزارا حتی کہ 1980 میں میں یونیورسٹی لیول تک پہنچ گیا، اپنی تعلیم کے آغاز میں  اپنے والد گرامی کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے میڈیکل فیکلٹی میں داخلے کا خواہش مند تھا لیکن میں اس وقت میڈیکل میں داخلے کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ کرسکا ۔

سکینڈری میں نمبروں کی وجہ سے میں نے فیکلٹی آف لینگویج اینڈ ٹرانسلیشن میں داخلہ لے لیا کیونکہ میں مختلف زبانیں بالخصوص انگلش پڑھنا پسند کرتا تھا ۔

اتفاق سے ایک سال پہلے ہی 1979 میں اردو شعبہ قائم ہو چکا  تھا اور یہ بھی حسن ِاتفاق ہی کی بات ہے کہ میری ملاقات ڈاکٹر سمیر عبد الحمید صاحب سے ہو گئی جو کہ پہلے مصری شخص  ہیں جنہوں نے پنجاب یونیورسٹی پاکستان سے اردو زبان میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی اور ازہر یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں تدریس کی خدمات سرانجام دے رہے تھے، انہوں نے مجھے شعبہ اردو میں داخلے کی نصیحت کی تاکہ میں یونیورسٹی میں استاذ بن سکوں بشرطیکہ میں اعلی نمبر حاصل کر کے نمایاں پوزیشن حاصل کر سکوں ، یہ ایک نیا تخصص تھا اور اس میں Competition بھی کم تھا ۔

ابتداء میں میں نے کچھ جھجک محسوس کیا کیونکہ اردو زبان مصر میں زیادہ مانوس  نہیں تھی اور اس کے نام کی وجہ سے بہت کم افراد اس کو جانتے تھے، دوسری زبانوں کی طرح یہ کسی قوم یا کسی خطہ یا قطعہ ارض کی طرف منسوب نہیں ہے لیکن ہم ہند وستان کی طرف نسبت کی وجہ سے ہندی زبان کو جانتے ہیں، آخرکار میں نے شعبہ اردو میں داخلہ لے لیا اور پڑھائی کے دوران مجھے پتہ چلا کہ دونوں زبانیں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں، قواعد کی سطح پر ان دونوں میں زیادہ فرق نہیں ہے، فرق صرف مفردات اور رسم ِخط  میں  ہے ۔

1980 سے لے کر 1984 تک چار سال میں نے اردو زبان پڑھی اور جب میں نے فراغت حاصل کی تو میں فارغ ہونے والوں میں  پوزیشن ہولڈرز میں سے تھا، 1985 کو شعبہ میں میری تقرری ہوئی اور میں نے اردو زبان  اور اردو ادب کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کیا ۔

میں نے پاکستان اور بھارت دونوں میں اردو زبان سیکھنے کے لیےا سکالرشپ  کے لیے اپلائی کیا اور بہت سی مشکلات کے بعد ایک ہی وقت میں مجھے دونوں ملکوں کی اسکالرشپ مل گئی لیکن میں نے بھارت کی مختلف تہذیبوں اور اس کی تاریخی حیثیت کی وجہ سے بھارت جانے کو ترجیح دی اور اس کی ایک وجہ  یہ بھی تھی  کہ اردو زبان نے اپنی  سرزمین دہلی، لکھنواورحیدرآباد وغیرہ جیسے مختلف  شہروں کی آغوش میں پرورش پائی اور پروان چڑھی ۔

اکتوبر 1987 میں میں نے ذاکر حسین کالج دہلی میں داخلہ لیا،اردو میں ابھی  میں روانی کے ساتھ بات چیت نہیں کرسکتا ، یہاں سےباضابطہ میرا اردو زبان کا سفر شروع ہوتا ہے ۔ دہلی  یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں فاضل اساتذہ   کے ہاتھوں جن کے احسانات اور محبتوں کا میں مقروض ہوں، میں نے بھارت اور اہل بھارت کی محبت میں اپنے اس طویل سفر کا آغاز کیا، انہوں نے میرے لیے تمام سہولیات مہیا کیں اسی طرح وہاں کچھ دوست ایسے ملے جن کے احسانات سے میں گراں بار  ہوں، احباب کے اسی گھرمٹ میں  ایک شیخ عقیل احمد صاحب ہیں جودہلی یونیورسٹی کے ستیہ وتی کالج کے اردو پروفیسر ہیں اور اس وقت قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان  کے ڈائریکٹر بھی  ۔

2-  مصر جیسے تاریخی وعلمی امتیاز کی حامل مملکت آپ کی جائے پیدائش ہے اور عربی آپ کی مادری زبان ہے ۔آپ کے اندر اردو زبان سیکھنے کا داعیہ کیسے پیدا ہوا ؟ اُدھر سے اِدھر کے سفر کے پسِ پردہ کون سے محرکات رہے؟

یقین جانیں اردو زبان سے میرے عشق کا آغاز دہلی یونیورسٹی میں اردو زبان کے اساتذہ کو جاننے کے بعد ہوا جن میں بطور خاص  ڈاکٹر شریف احمد، مغیث الدین فریدی، فیروز دہلوی، امیر عارفی، قمر رئیس، عبد الحق صاحب، ڈاکٹر عبدالحیی، عتیق اللہ، ڈاکٹر صادق، شارب ردولوی، ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی اور شمیم نگہت فضل الحق وغیرہ قابل ذکر ہیں۔  میں ان کے ساتھ بیٹھتا، ان  کے گھر جاتا اور ان کےاہل ِ خانہ سے ملتا تھا، میں نے ان کے زیرِ سایہ  اردو زبان کے آداب اور اس کے محاورات کی چاشنی سے واقف ہوا۔ ان میں  شعراء اور اردو ادب کی مختلف اصناف کے تخلیقی فنکاربھی تھے، اردو  بہت سے شعرا ء سے  میری ملاقات ہوئی اردو اشعار کے حافظ سے بھی میں ملا ، ان کے علاوہ دہلی، حیدرآباد اور لکھنو کے بہت سے مسلم علاقوں کی سیر و تفریح نے بھی مجھے اردو زبان وادب کی زلف ِ گرہ گیر کا اسیر بنایا ۔

3 – آپ کے علمی وادبی سفر میں کوئی موثرشخصیت یا شخصیات ؟ آپ کے پسندیدہ موضوعات،مصنفین اور کتابیں کیا ہیں ؟

میری زندگی میں مؤثر شخصیات میرے اساتذہ ہیں خواہ وہ مصر کے  ہوں یا بھارت کے ، ان کا ذکر کرنا  یا ان کا شمار کرنا ذرا مشکل ہے کیونکہ میری زندگی اور میری تعلیم وتربیت میں ہر استاذ کا اپنا ایک اثر ہے لیکن بالخصوص بھارت کے اساتذہ کی تاثیر زیادہ قوی ہے، میں نے ان سے اس وقت علم حاصل کیا جب میں ذہنی طور پر پختہ  تھا اور میں تاریخ  اور سوانح عمری پڑھنے کی طرف میلان رکھتا تھا کیونکہ میں اس سے دوسروں کے تجربات سیکھتا تھا۔

4- زبان زیادہ اہم ہے یا ادب ؟ اور کیوں ؟ 

میری نظر میں زبان اور اس میں مہارت حاصل کرنا زیادہ اہم ہے کیونکہ اس سے آپ ادب کی چاشنی حاصل کر سکتے ہیں  اور زبان ہر چیز کی کنجی ہے۔

5- آپ کے نزدیک ادب اور مذہب کے مابین کوئی تصادم ہے یا پھریہ ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہے ؟

ادب اور عقیدہ انسان کی روح کو غذا بخشتے ہیں، ان میں سے ایک کا دوسرے کے مخالف ہونا ناممکن ہے، ہمارے پاس اردو ادب میں بہت سے ادیبوں کی  مثالیں ہیں جو عالم دین ہیں مثلا  شبلی نعمانی،  مولانا ابو الکلام آزاد، سر سید احمد خان وغیرہ ۔

6- اسلامی ادب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے عربی و اردو کے تناظر میں ؟

میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ یہ اسلامی ادب ہے یا یہ غیر اسلامی ادب ہے، کیونکہ ایک تخلیق کار جب لکھتا ہے تو وہ سب کے لیے لکھتا ہے، اگر وہ اپنے آپ کو ایک متعین مچوکھٹے  میں خود کو  محصور کر لے تو وہ ادیب ہرگز نہیں ہو سکتا  بلکہ وہ نِراداعی اور مبلغ بن جائے گا۔

7- آپ بادئ النظر میں ایک سادہ مزاج اسکالر لگتے ہیں، پیشے سے زبان وادب کے معلم ہیں لیکن آپ کا اپنے تہذیبی ورثے سے شغف اور ہند ومصر کے مابین تہذیبی تبادلے کا جو جذبۂ خلوص آپ کے اندر موجزن ہے وہ دیدنی ہے ۔ اس سلسلے میں ہمیں کچھ بتائیں ؟

میں ولادت کے اعتبار سے مصری اور تعلیم وتربیت کے اعتبار سے ہندی ہوں اور میں دونوں ملکوں کی تہذیبی حیثیت کی وجہ سے دونوں ملکوں سے عشق کرتا ہو ں، دونوں تہذیبوں کے درمیان بہت زیادہ مماثلت ہے ،اس باہمی قرب کو واضح کرنے کے لیے تحقیق ضرورت  ہے ، اس سلسلے میں میرا جنون مجھے تسکین بخشتا ہے اس لیے کہ  عرب دنیا  کے لیے  ہندی اور مصری عوام کے درمیان باہمی ارتباط کو  وسعت دینا  میرا وظیفہ  حیات بن چکا  ہے ۔

8- ادب کی مختلف اصنافِ نظم ونثر میں طبع آزمائی کی بجائے زیادہ تر آپ کا ارتکاز ترجمے پر رہا ۔ آپ نے شبلی کی شہرہ آفاق کتاب ’سیرت النبی‘ کی تیسری اور چھٹی جلد کا، سید سلیمان ندوی کی، عرب وہند کے تعلقات کا، انور ہاشمی کی ’تاریخِ پاک وہند ‘کا، عطاء الرحمن قاسمی کی ’دلی کی تاریخی مساجد‘ (دوجلدیں ) اور پریم چند کے ’گؤ دان ‘ (ناول) کا عربی میں ترجمہ کیا ہے، اسی کے ساتھ نزار قبانی اور فاروق جویدا کی عربی شاعری کو بھی آپ نے اردو کا خوب صورت جامہ پہنایا ہے۔ حال میں ابن کنول کے افسانوں کا ترجمہ ’ اہل الکہف ‘ بھی آپ نے شائع کیا ۔ اس بارے میں کچھ اظہار خیال فرمائیں ؟

سب سے پہلے  تو میں یہ واضح کر دوں کہ  گئودان کا ترجمہ میں نے  نہیں کیا ، میری ایک شاگردہ نے کیا ، میں نے صرف اس کا مقدمہ لکھا ہے ۔

 ترجمے کی طرف میری توجہ زیادہ اس لیے ر ہی کہ ترجمہ مختلف اقوام کے درمیان ترجمان کی حیثیت رکھتی ہے، اگر ترجمہ نہ ہوتا تو قوم نہ ایک دوسرے کے قریب ہوتی،  نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کوسمجھتا، اسی وجہ سے میری دلچسپی ترجمہ میں زیادہ ہے مگر مجھے اس بات کے اعتراف کرنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ میں کسی بھی فطری تخلیقی صلاحیت کا مالک نہیں ہوں ، شاعری یا  دوسری  تخلیقی اصناف میں طبع اآزمائی  ایک خداوندی عطیہ ہے ۔

میں نے شعر، نثر اور تاریخ کے ترجمے کے جو مختلف کام سرانجام دیے ہیں ان کا بنیادی مقصد عربی قاری کو فرزندان برصغیر کی تخلیقی صلاحیتوں سے  براہ راست متعارف کرانا ہے، بھارت کے بارے میں عرب کی زیادہ تر شناسائی  انگریزی یا دوسری زبانوں کے ذریعے تھی، الحمد للہ ہم نے بعض ساتھیوں اور شاگردوں کے ساتھ مل کر بہت سی اردو کی تخلیقی سرمایوں  کو عربی زبان میں منتقل کر دیا ہے، جہاں تک عرب شعراء کے بعض اشعار کے میرے ترجمے کا تعلق ہے تو یہ کاوشیں اردو زبان والوں میں سے دوسروں کی مدد کے ذریعے پایہ  تکمیل تک پہنچی ہیں میرا خیال ہے  کہ مادری زبان میں  ترجمے کا اکتسابی زبان کے معیار کے مطابق ہوجانا ناممکن ہے، اسی لیے عربی سے اردو میں ترجمہ کرنے کی میری کاوشیں بہت کم ہیں ۔ اس عمل کی  میں اسی شخص کو رائے دوں گا جو اکتسابی زبان میں بھی مادری زبان ہی  کی طرح مہارت رکھتا ہو۔

9- آپ نے درس و تدریس کے ساتھ ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی رشتہ قائم رکھاہے، ان پروگراموں میں آپ کا مطمحِ نظر کیا رہتا ہے: تدریس، تحقیق، زبان وادب یا پھر عرب وہند تعلقات ؟
ٹی وی یا عموما میڈیا انٹرویوز کا مقصد صرف مصری اور ہندی تعلقات پر روشنی ڈالنا یا دونوں قوموں کے درمیان بعض مشترکہ عادات وتقالید کا ذکر کرنا ہے ۔

10- چند ماہ قبل آپ نے ایک کتاب ’ ہندوستان : سیاسی پارٹیاں اور حکومتیں ‘ تحریر کی اور اب ’ انتہا پسند ہندو تنظیمیں ‘ زیرِ تصنیف ہے ۔ آپ کا اگلا منصوبہ یا لائحۂعمل کیا ہے ؟

جب میں نے کتاب ” الہند ۔۔۔۔احزاب وحکومات ” شائع کی تو اس کا مقصد صرف بالخصوص بھارت میں موجودہ سیاسی صورتحال کو واضح کرنا تھا، گزشتہ ایام  میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی اکثریت اس سیکولرزم سے کنارہ کشی کرنے لگی ہے جس کے لیے  ہند وستان بالخصوص عرب دنیا میں مشہور ہے، اسی لیے میں نے متشدد ہندو تحریکوں کے بارے میں لکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ عربی قاری جان سکے کہ یہ ہندی عوام کی خوبیوں میں سے نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد سیاست اور نچلے طبقوں میں فقر اور جہالت کا ناجائز فائدہ اٹھانا ہے، جہاں تک میرے آئندہ کام کا تعلق ہے تو وہ ہندی معاشرے کی عادات وتقالید کے بارے میں ہوگا ۔

11- مصر میں (اسکول، کالج ویونیورسٹی اور بازار کے تناظر میں ) اردو زبان کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بھی بتائیں کہ وہاں اردو کا اسکوپ کتنا ہے ؟

مصر میں ہم اردو زبان کو مندرجہ ذیل اسباب کی وجہ سے سیکھتے ہیں:

ا- اسلامی ورثہ کے اردو زبان میں ذخیرے سے واقف ہونا ۔

ب- ادبی اور غیر ادبی کاموں کا اردو سے عربی زبان میں ترجمہ کرنا۔

ج- مصر میں مارکیٹ کو کسی حد تک اردو زبان کی ضرورت ہے  ۔

12- ایک ہندوستانی یا مصری اردو اسکالر کے لیے مصر میں ر وزگار کے کس قدر مواقع ہیں ؟

موجودہ وقت میں اردو زباں کے لیے کام کے زیادہ مواقع میسر نہیں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ طالب علم اسے ابتدائی عمر یعنی یونیورسٹی مرحلہ کے آغاز میں پڑھتا ہے اور اس کے پاس اس زبان کے بارے میں کوئی سابقہ پس منظر نہیں ہے اور نہ ہی اس نے قبل ازیں اس کے بارے میں سنا ہے کیونکہ اخبارات یاریڈیو یا ٹیلیویژن جیسے میڈیا وغیرہ میں اس کا وجود نہیں ہے، اس کے برعکس مثال کے طور پر انگریزی یا  فرانسیسی زبان ہے جس کو طالب علم بچپن ہی سے پڑھتا ہے اور وہ میڈیا اور اسی طرح اسپیشل سنٹرز کے ذریعے معاشرے میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہو‏ئی ہے ۔

 13 – آپ کی مختلف صلاحیتوں کو دیکھ مصر کی حکومت نے تین سال کے لیے بحیثیت کلچرل کاؤنسلر ہندوستان بھیجا، اب آپ اپنے وطن میں دوبارہ اپنے سابق منصب پر فائز ہیں اور تدریسی وادبی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ہندوستان کے ان ایام کی یادوں اور اپنے تجربات و مشاہدات کو شِیَر کریں ۔

بلاشبہ انسان کی زندگی میں ہر مرحلے کے مثبت  اورمنفی پہلو ہیں، ثقافتی مشیر کی حیثیت سے کام کرنے کا مثبت پہلو میزبان ملک کی طرف سے حاصل ہونے والی سہولیات کے نتیجہ میں اس ملک کے تمام سیاسی، تہذیبی اور معاشرتی پہلوؤں سے متعارف ہونا ہے یہاں آپ کام کرتے ہیں، میں نے بھارت کے تجربے سے بہت استفادہ کیا، جہاں تک اس  کے منفی پہلوؤں کا تعلق ہے تو وہ آپ کا  تعلیمی کام سے دور ہونا ہے ۔

14ادب کے مستقبل کے نئے ستاروں، بطور خاص اردو اور عربی سے تعلق رکھنے والے اسکالوں کے لیے آپ کا کوئی پیغام؟

پڑھنے والوں کے لیے میرا نیک مشورہ یہ ہے کہ وہ زبان میں مہارت حاصل کرنے اور اس میں پختگی کے لیے جدوجہد کریں اور میڈیا کے مختلف ذرائع سے نئی اصطلاحات اور مفردات سے واقفیت حاصل کریں ، یہ آپ  کی اکتسابی زبان کو سمجھنے کی کنجی ہے ۔

قاضی صاحب ان قیمتی باتوں کے لیے وقت نکالنے کا بہت بہت شکریہ ۔
فاروق اعظم قاسمی (ریسرچ اسکالر)

160 پیریار ہوسٹل ، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی ،نئی دہلی ۔۶۷
faqasmijnu@gmail.com/9718921072

  • 34
    Shares
  • 34
    Shares