Select your Top Menu from wp menus

پریم ناتھ بسمل کی شاعری

پریم ناتھ بسمل کی شاعری
پریم ناتھ بسمل کی شاعری
پروفیسر ڈاکٹر رام داس راجکمار دلیپ کپور
خدیجہ نرسنگ ہوم، رانچی ہل سائڈ امام باڑہ(رانچی)

اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں، بلکہ یہ بھاشا سیکولر(Secular) اور باادب ہندؤں، سکھوں، عیساؤں، پارسیوں، جینیوں اور بدھشٹوں وغیرہ کی بھی ہے۔ تمام دھرموں کے لوگوں نے اردو زبان و ادب میں اپنا مقام بنایا ہے۔ اگر ابوالحسن امیر خسرو، نواب قلی قطب شاہ معانی، نواب واجد علی شاہ اخترؔ ، شاہ حاتمؔ ، شاہ نصیرؔ ، سراج الدین خان آرزوؔ ، مرزا محمد رفیع سوداؔ ، شیخ ابراہیم ذوقؔ ، خواجہ میر دردؔ ، غلام ہمدانی مصحفیؔ ، میر تقی میرؔ ، خواجہ حیدر علی آتشؔ ، مرزا اسد اللہ خان غالبؔ ، حکیم مومن خان مومنؔ ، نواب مرزا داغؔ ، سر ڈاکٹر علامہ شیخ محمد اقبالؔ وغیرہ سیکولر مسلمان عظیم شعرا اردو، فارسی، عربی، ترکی، سنسکرت، ہندی، پنجابی وغیرہ زبانوں کے شیدائی ہوئے تو چودھری جگت موہن لال رواں،پنڈت دیا شنکر نسیم، جوالا پرساد برقؔ ، منشی درگا سہائے سرور، پنڈت برج نارائن چکبستؔ ، منشی دھنپت نواب رائے پریمؔ چند، پروفیسر رگھوپتی سہائے فراقؔ ، پروفیسر جگن ناتھ آزادؔ ، آنند نارائن ملاؔ ، راجندر سنگھ بیدی سحرؔ ، رامؔ داس راج کمار دلیپ کپور، پریم ناتھ بسمل وغیرہ سیکولر ہندو عظیم شعراء بھی اردو، عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت، ہندی، پنجابی، بنگالی و بنگا، اوڈیا وغیرہ بھاشاؤں کے ساہتیہ کے پریمی بنے۔
جدید نسل کے نوجوان ادیب و شاعر پریم ناتھ بسملؔ اس پرآشوب زمانے میں اردو زبان و ادب کے سچے عاشق ہیں۔ یہ حیرت و مسرت کی بات ہے۔ مزید تعجب اور شادمانی کی بات یہ ہے کہ وہ ڈاکٹر راجندر پرساد، مولانا محی الدین ابوالکلام آزادؔ ، اسرار الحق مجازؔ ، عبدالجبار غنی حزیںؔ ، جاوید اشرف فیض اکبرآبادی وغیرہ کی طرح نہایت کم عمری میں ہی اپنی ذہانت و فطانت کا ثبوت علمی و ادبی دنیا میں پیش کر چکے ہیں۔ وہ ایک عظیم کلاسکل پوئٹ (Classical Poet) اور افسانہ نگار (Story Writer)بھی ہیں۔
شعر و شاعری کی دنیا میں وہ منفرد غزل گو شاعر حکیم مومن خان مومنؔ کے رنگ و اسلوب سے بے حد متاثر رہے ہیں۔ اسی لیے ان کے زیادہ تر اشعار میں شوخیاں، نازک خیالی، عشوہ و غمزہ، جدت طرازی، معنی آفرینی، نجوم و رمل کی اصطلاحات، رموز تصوف، فلسفیانہ مباحث عشقیہ کا بیان، خارجی و داخلی کیفیات، سہل ممتنع وغیرہ کی امثال یعنی تمام و استیعاب اقسام کی فکری و فنی مثالیں موجود ہیں۔ پریم ناتھ بسملؔ کے چند اشعار پیش کر رہا ہوں ؂
ہر گھڑی رہتا ہے خیال اُس کا
جیسے جادو سا کر گیا کوئی
۔۔۔۔
آپ نفرت سے دیکھتے ہی رہے
پڑھ کے اردو سنور گیا کوئی
۔۔۔۔
آج پھر سے اداس ہوں دلبر
دے کے ایسی خبر گیا کوئی
۔۔۔۔
اُس نے دل سے مٹا دیا سب کچھ
جس کی الفت میں مر گیا کوئی
۔۔۔۔
بے خودی میں جو لے لیا بوسہ
ہنس کے اُس نے برا کہا مجھ کو
۔۔۔۔
تو جو مجھ سے خفا ہوا ہمدم
زندگی لگتی ہے قضا مجھ کو
۔۔۔۔
میں تڑپتا ہوں رات دن تنہا
سوچتا ہوں یہ کیا ہوا مجھ کو؟
۔۔۔۔
پریم ناتھ بسملؔ کے ہاں غزل اپنے حقیقی رنگ و روپ میں نکھر کر سامنے آتی ہے۔ جب حسن و ناز کا پیکر غصے میں ہوتا ہے تو اُس کی خوب صورتی اور بڑھ جاتی ہے۔ تب پریم ناتھ بسمل کہتے ہیں ؂
تیرا شکوہ کروں صنم کس سے
رسمِ الفت کو میں نبھاتا ہوں
۔۔۔۔
دل نہیں تجھ پہ جان دیتا ہوں
عشق تجھ سے ہے آج بھی جانم
۔۔۔۔
میں مسافر ہوں عشق ہے منزل
راستہ پیار کا بتا دیجیے
۔۔۔۔
مجھ کو دکھتی ہے بس تو ہی ہر سو
تجھ کو ہر اک دیار سے دیکھوں
۔۔۔۔
ائے جگن ناتھ رام داس، تجھے
میں خلوص اور پیار سے دیکھوں
۔۔۔۔
قبلہ استاد رام داس کو بھی
احترام اور پیار سے دیکھوں
۔۔۔
پریم ناتھ بسمل ؔ سب سے خلوص، محبت، احترام اور شفقت و بھائی چارگی کے طرفہ و عمدہ جذبوں کے ساتھ ملتے رہتے ہیں اور وہ دوسروں کو بھی سب سے پریم کرنے کا صحیح مشورہ دیتے ہیں۔ وہ ہندوؤں، مسلمانوں اور دوسری قوموں کو بھی مل جل کر رہنے کا مفید مشورہ دیتے ہیں کیوں کہ ذات پات، دھرم، رسم و رواج اور الگ الگ تہذیب کے نام پر باہمی تصادم، ٹکر، ضرب، یورش، فساد (Riot and Percussion) بھارت جیسے عظیم ملک میں ستیاناس اور ابدی عذاب و عتاب (Perdition) کا باعث ہیں۔ لہٰذا ہم تمام بھارتیوں اور دوسرے لوگوں کو بھی کائنات میں امن و امان اور خلوص و اخلاص قائم کرنے کے لیے ضروری و لازمی اقدام اٹھانے ہوں گے۔
ابھی ہمارے وطن عزیز ہند میں ایک طرح سے خزاں کا موسم ہے۔ لیکن بہار آئے گی، ان شاء اللہ و ایشور!
سچا ہندوستانی سب سے پریم کرتا ہے۔ وہ اپنے پڑوسی دیش کے اپنے روٹھے ہوئے بھائی یا غلط فہمی کے شکار دوست کے گھر کے دروازے پر بھی بار بار جاتا ہے اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ بقول بسملؔ ؂
آج پھر اس کے در کو جاتا ہوں
شاید اس دل میں پیار باقی ہے

رابطہ:6201728863
  • 20
    Shares
  • 20
    Shares