Select your Top Menu from wp menus

ایم آئی ایم چکھلی کے زیر اہتمام مسلم ریزرویشن دھرنا اندولن

ایم آئی ایم چکھلی کے زیر اہتمام مسلم ریزرویشن دھرنا اندولن
چکھلی ضلع بلڈانہ ۱۱ جنوری :ذوالقرنین احمد: ایم آئی ایم چکھلی کے زیر اہتمام مسلم ریزرویشن کیلئے بروز جمعہ ۳ بجے سے ۵ تک تہسیل آفس کے سامنے دھرنا اندولن کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ملکاپور بلڈانہ سے ایم آئی ایم کے ذمہ داروں نے شرکت کی مسلمانوں کی پچھلی حکومتوں سے لے کر اب تک دلتوں سے بھی بد تر حالت ہوچکی ہے تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی تعداد چند فیصد ہے جبکہ دیگر طبقوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور انہیں آزادی کے بعد سے ابتک ریزرویشن دیا جارہا ہے، ملکاپور کے ایم آئی ایم کے نگر سیوک شہزاد خان نے کہاں کے مسلمانوں کو موجودہ حالت سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سے مسلمانوں کو آج ریزرویشن سے مطالق کوئی لینا دینا نہیں انہیں اس کی بارے میں معلومات ہی نہیں ہے ضرورت ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھے، اسی کے ساتھ احمد نگر کے توسیف شیخ کی خودسوزی کا زمہ دار حکومت کو ٹھہرایا وقف کی زمین پر سے  قبضہ ہٹانے کی اطلاع دینے اور اس پر کوئی عمل درآمد نہ کرنے پر خودسوزی کی طرف اشارہ کیا گیا تھا لیکن توسیف شیخ کی عرضی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، چکھلی شہر ایم آئی ایم کے صدر منور شیخ نے کہاں کے مسلمانوں کو ریزرویشن ملنا چاہیے کیونکہ آج مسلمانوں کو تعلیمی حالات کافی خستہ ہے، ذوالقرنین احمد نے ابتدائی تقریر میں کہا کہ اس جمہوری ملک میں آزادی کے بعد سے بھارت کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے ۱۹۵۰ میں آرٹیکل ۳۴۱ کے دفعہ ۱ کا سہارا لے کر ریزرویشن کے قانون میں تبدیلی کر کے صرف ہندوں کو ریزرویشن کا قانون بنایا اور غیر ہندو اور دلتوں کو ریزرویشن سے محروم کر دیا گیا، لیکن اس وقت زندہ دل سکھوں نے اس کے خلاف زبردست احتجاج درج کیا اور پھر اس ریزرویشن کے قانون میں سکھوں کو بھی ضم کر لیا گیا، مسلمانوں کو کانگریس کے دور حکومت سے نظر انداز کیا گیا، موجودہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کے مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاں کے اگر کانگریس کے دور اقتدار میں مسلمانوں کو ریزرویشن نہیں بھی دیا گیا تھا تو انسانیت کے ناطے اس حکومت کو مسلمانوں کو ۵ فیصد ریزرویشن دینا چاہیے تھا، اسی طرح ملک کی جمہوریت کو داغدار کرنے والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاں کہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر آلوک ورما کو جبراً چھٹی پر بھیجنے کے معاملے پر کورٹ نے اسے غلط کہتے ہوئے آلوک ورما کو عہدے پر بحال کرنے کے بعد ۴۸ گھنٹوں میں وزیراعظم کی رہائش گاہ میں ہوئی میٹنگ کے زریعے آلوک ورما کو اس وجہ سے عہدے سے برطرف کرنا کہ وہ رافیل ڈیل کی تفتیش کا حکم نہ صادر کر دے کو جمہوری اقدار کی پامالی کہاں۔ طلاق ثلاثہ کے بل کو پاس کرنے پر  کہاں کہ وزیر اعظم کو صرف مسلم خواتین کی ہی اتنی فکر کیوں ہیں ؟اگر وزیراعظم کو مسلم خواتین کی اتنی فکر ہے تو وہ مسلم خواتین کو تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں ۱۰ فیصد ریزرویشن بحال کرکے محبت کا ثبوت پیش کریں، دھرنا اندولن کو کامیاب بنانے میں  چکھلی کے مجلس کے ذمہ دار منور شیخ شعیب جمعدار، وغیرہ نے انتھک کوشش کی،آخر میں تہسلدار کے زریعے وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم پیش کیا گیا جس میں مسلمانوں کو ۵ فیصد ریزرویشن دینے کا مطالبہ کیا گیا اور ساتھ ہی توسیف شیخ کی خودسوزی والے معاملے پر کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا اس دھرنا اندولن کی نظامت عاقب ضمیر نے انجام دی۔