Select your Top Menu from wp menus

اپنی بے مثال تعلیمی و سماجی خدمات کی وجہ سے مولانا قاسمی ہمیشہ زندہ رہیں گے مولانااسرارالحق قاسمی ایم پی کی وفات پرآل انڈیامومن کانفرنس کی جانب سے تعزیتی جلسہ کا انعقاد

اپنی بے مثال تعلیمی و سماجی خدمات کی وجہ سے مولانا قاسمی ہمیشہ زندہ رہیں گے مولانااسرارالحق قاسمی ایم پی کی وفات پرآل انڈیامومن کانفرنس کی جانب سے تعزیتی جلسہ کا انعقاد
نئی دہلی:ممتاز ملی و قومی رہنما و رکن پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی کے انتقال پر آل انڈیامومن کانفرنس کی جانب سے غالب اکیڈمی بستی حضرت نظام الدین میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیاگیا،جس میں مختلف علمی ،دینی،سماجی و سیاسی شخصیات نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے صاحبزادگان سہیل اختر،مولانا سعود عالم ندوی ازہری،فہد عالم اور ان کے بھائی زاہدالرحمن اور دیگر پسماندگان سے خصوصی طورپر اظہار تعزیت کیا ۔اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مفتی عطاء الرحمن قاسمی نے کہاکہ مولانا مرحوم نے ملت کی سماجی و تعلیمی ترقی کے لئے جو تاریخی کارنامے انجام دیے ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں اور اپنی ان خدمات کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔مٹیامحل اسمبلی حلقہ سے ممبر اسمبلی عاصم احمد خان نے مولانا مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے سیاست میں رہتے ہوئے جس شرافت،سادگی اور انکساری و حسن اخلاق کا مظاہرہ کیاوہ موجودہ سیاست دانوں کے لئے قابل تقلید ہے اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ بہارکے سابق وزیر ڈاکٹر شکیل الزماں انصاری نے کہاکہ مولانا نے سیاست میں رہ کرذاتی فائدہ اٹھانے کے بجائے ہمیشہ ملت کے مفاد کو ترجیح دیا اور ہر معاملے میں مسلمانوں کی بروقت اور درست قیادت کی۔مولانا مرحوم کے بھائی بہار کے سابق وزیر زاہدالرحمن نے مولانا اسرارالحق قاسمی کی زندگی اور ان کے گوناگوں کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے اوصاف و کمالات اور سیمانچل جیسے پسماندہ علاقے میں تعلیم و ترقی،عوام کی فلاح و بہبود اور سماجی ہم آہنگی و یکجہتی کے فروغ کے لئے کی گئی ان کی کوششوں کا تذکرہ کیا اور کہاکہ مولانا مرحوم ہمیشہ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق قائم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔مولاناکے معاون رہے منظر امام نے مولانا کی تعلیمی کوششوں اور خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے خصوصاً مسلم خواتین اور بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے مولانا کی فکر مندی کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ مولاناخواتین کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں بہت زیادہ فکرمندرہتے تھے اور اسی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود کشن گنج میں بچیوں کے لیے دینی ماحول میں عصری تعلیم و تربیت کے لئے ملی گرلزاسکول قائم کیا،جو بارہویں تک سی بی ایس ای سے ملحق ہے اور اس وقت وہاں بہار کے مختلف علاقوں سے تقریباً پانچ سو بچیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔اس کے علاوہ مسلمانوں میں دینی تعلیم کے فروغ کے لئے بہار،جھارکھنڈومغربی بنگال میں سو سے زائد مکاتب اورچار مدارس بھی قائم کیے جہاں ہزاروں بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔کشن گنج میں اے ایم یو سینٹر کا قیام بھی مولاناکاایک تاریخی تعلیمی کارنامہ ہے جسے اہلِ سیمانچل کبھی فراموش نہیں کرسکتے ہیں۔ پروگرام کے کنوینر حاجی عمران انصاری نے مولانا مرحوم سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شفقتوں کو یاد کیا اور کہاکہ مولانا نے پوری زندگی تواضع،سادگی،بے نفسی اور انکساری کے ساتھ گزاری،بڑے سے بڑے عہدے پر پہنچے مگر دیانت داری کا دامن اس مضبوطی کے ساتھ تھامے رہے کہ ان کے دامن پر کوئی داغ نہیں تھا،ان کی شخصیت ہر اعتبار سے قابل رشک تھی۔اس موقع پرحال ہی میں وفات پانے والے آل انڈیامومن کانفرنس کے نائب صدر حاجی احمد علی انصاری کے صاحبزادگان و متعلقین کو بھی تعزیت پیش کی گئی۔جبکہ بڑی تعدادمیں علمی،دینی،سماجی و سیاسی رہنماوسامعین اس جلسے میں شریک رہے۔
  • 1
    Share
  • 1
    Share