Select your Top Menu from wp menus

واہ واہ کی ضرورت نہیں ، واہ رہے واہ کی ضرورت ہے 

واہ واہ کی ضرورت نہیں ، واہ رہے واہ کی ضرورت ہے 
از قلم : مدثر احمد
ایڈیٹر ۔ روزنامہ آج کاانقلاب ، شیموگہ
اردو زبان کی بقاء کی جب بات کی جاتی ہے تو عام طورپر ہمارے یہاں مشاعروں اور سمیناروں کے انعقاد کو ہی بقاء کا ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے اور ہر ایک تنظیم یا ادارے کی جانب سے مشاعروں کاانعقاد کرنا ایک طرح سے فرض سمجھ لیاگیاہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان مشاعروں اور سمیناروں سے اردو زبان کی ترقی و بقاء ممکن ہے ؟۔ جہاں تک ماہرین اور اہل ادب کی مانیں تو مشاعرے اور سمینار موجودہ وقت میں دل بہلائی ، وقت گذاری اور اسراف کے علاوہ کچھ نہیں ہے کیونکہ ان مشاعروں میں ایک آدھا درجن شعراء اور دو تین درجن سامعین کے علاوہ کوئی اور شریک نہیں ہوتا اور یہاں سنے سنائے کلام کو سناکر صرف لوگوں  سے وا ہ واہی لوٹنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا اور مشاعروں میں شریک وہی لوگ ہوتے ہیں جو پہلے سے ہی اردو ادب کے دلدادہ ہوتے ہیں ، یعنی کہ جنہیں معشوقہ سے محبت ہے وہی اسکے دیدار کے لئے جاتے ہیں باقی کسی کو اس معشوقہ سے دلچسپی نہیں رہتی اس وجہ سے وہ اسکے دیدار کے لئے نہیں آتے ۔ اسی طرح سے سمیناروں کا انعقاد بھی کیاجارہاہے جس میں ایسے مضامین اور عنوانات لئے جاتے ہیں جو کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی معاملے میں عوام کو دلچسپی پیدا کرنے کے عنوانات ہوتے ہیں بلکہ میر ، غالب ، فیض ؔاور کچھ جدید شعراء کی شاعری میں نقص نکالنے یا انکی خوشنودی پر منحصر ہوتے ہیں ۔ موجودہ سمیناروں کے مقالوں پر فکر پیدا کرنے کے بجائے چاپلوسی پیداکرنے کے عنوات لئے جارہے ہیں ۔ جن اردو سمیناروں کاانعقاد کیاجارہاہے وہاں پر اردو زبان کی ترقی ، بقاء اور استعمال کے تعلق سے ایک بھی مضمون نہیں ہوتا اور ان سمیناروں میں اکثر مقالہ نگار اپنے مقالوں میں جو حوالے پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مانو کہ وہ درس حدیث اور درس قرآن دیتے وقت جس طرح سے حوالے دیتے ہیں اسی طرح سے اپنے مضامین کے حوالے پیش کرتے ہیں ۔ پہلے ہی اردو سمیناروں میں گنے چنے لوگوں کی شرکت ہوتی ہے بعض تو صرف اردو کا احترام کرنے شریک ہوتے ہیں ایسے میں مقالہ نگاروں کی جانب سے پیش کئے جانے والے فصیح و بلیغ اردو انکے سمجھ سے باہر ہوتی ہے اور وہ اردو کے ان سمیناروں سے اکتا جاتے ہیں ۔ اگر واقعی میں ہمیں اردو زبان کی ترقی ، بقاءو تحفظ کے لئے کام کرنا ہے تو اسکے لئے یہ واہ واہی والے جلسوں سے اجتناب کرتے ہوئے اردو زباں کی ترقی کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اردو کی بقاء کی خاطر جن منصوبوں کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے ان پر توجہ نہیں دی جارہی ہے بلکہ ایسے غیر ضروری کاموں کو اختیار کیاجارہاہے جس سے اردو کو نقصان ہی پہنچ رہاہے ۔ آئے دن اردو اسکولوں میں طلباء کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے اور کچھ مقامات پر اردو بطور زبان پڑھنے والے طلباء کو اردو زباں پڑھانے والے نہیں ہیں ، ہمارے ادارے اردو اسکولوں کی بقاء کے لئے بنیاد ی سطح پر کام کرتے ہوئے اردو زبان کو روزگار سے جوڑنے کی سمت کام کرنے لگیں گے تو یقیناً اس سے نئی نسلوں کی دلچسپی بڑھنے لگے گی اور اردو اسکولوں میں تعداد بھی بڑھے گی ، کئی پی یو اور ڈگری کالجوں میں اردو پڑھنے کا شوق رکھنے والے طلباء ہیں ایسے طلباء کے لئے اساتذہ مقرر نہیں کئے جاتے وہاں پر اردو ادارے ، اردو اکادمی اور اردو دان طبقہ کالجوں کے ذمہ داروں پر دبائو ڈالے کہ وہ اردو اساتذہ کا تقرر کریں اگر انہیں تنخواہ دینے میں دشواری آرہی ہوتو ادارے ہی اسکا کچھ حصہ بطور تنخواہ ادا کرسکتے ہیں بجزاسکے کہ لاکھوں روپئےکے مشاعرے منعقد کریں ۔اردو رسالوں اور اخبارات کو گھر گھر پہنچانے کا کام کیا جائے ، لائبریریوں کو مخصوص کرنے اور لائبریریوں کی تعمیر کروانے کے بجائے موجود ہ سرکاری و غیر سرکاری لائبریریوں میں اردو کتابوں ، رسالوں اور اخبارات کو پہنچانے کا کام کیاجائے اس سے اردو عام ہوگی ، مخصوص لائبریریوں سے اردو زبان کا بھلا نہیں ہوگا۔ جس طرح سے کنڑا و کلچرل ڈیپارٹمنٹ کنڑا زبان کی ترویج کے لئے حکومتی سطح پر احکامات جاری کرواتا ہے اسی طرح سے اردو اکاڈمی اور اردو ادارے حکومتوں پر دبائو ڈالیں کہ وہ اردو والوں کے لئے ریزرویشن دیں یا پھر انکے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرے ۔ اردو کی فلاح و بہبودی کا ٹھیکہ صرف اردو اساتذہ ، اردو لکچررس اور پروفیسران نے نہیں اٹھایا ہے بلکہ عام لوگ بھی اردو زبان سے دلچسپی رکھتے ہیں ، دینی مدارس میں سب سے زیادہ اردو کی بقاء کا کام ہورہاہے وہاں پر اردو ادارے اور اکاڈمیاں کیوں نہیں پہنچ رہی ہیں ، کیونکر ان دینی مدارس سے دوریاں اختیار کی جارہی ہیں ۔ اردو کا بھرم بھرنے والے کئی ایسے نوٹنکی بھی ہیں جو بات اردو کی کرتے ہیں ، اسٹیج اردو کا ہونا چاہئے اور انکی ذات اردو سے دور رہتی ہے ۔ انکے اپنے بچے اردو سے ناآشنا ہوتے ہیں ، صبح ہوتے ہی انہیں انگریز ی اخبار کی ضرورت ہے ۔ اردو اخبار لینا انکے لئے شرم کی بات ہوچکی ہے اور انگریزی اخبار کو اپنے ہاتھ میں لے کر گھومنا انکا اسٹیٹس ہوچکاہے ۔ ایسے نوٹنکیوں کو دور رکھتے ہوئے اردو سے حقیقی محبت کرنے والوں کی ہمت افزائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ کتنے ہی ایسے آٹو رکشاڈرائیور، ترکاری فروخت کرنے والے ، پھل فروخت کرنے والے لوگ ہیں جو نہ صرف اردو اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں ، اردوسے محبت کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے دکانوں ، ہوٹلوں اور آٹورکشائوں پر اردو زبان کا استعمال کرتے ہیں ۔ اگر مشاعروں اور سمیناروں سے کسی زبان کی ترقی ممکن ہے تو بتائیں کہ آج انگریزی زبان کے کتنے مشاعرے ہورہے ہیں ، کتنے سمینار منعقد کیے جارہے ہیں ، کنڑا زبان میں کتنے مشاعرے کئے جارہے ہیں ، کنڑا اور کلچرل ڈیپارٹمنٹ سال میں کتنے مشاعرے کرتا ہے ؟۔ پہلے ہمیں اردو زبان کی زمین کوذرخیز بنانے کی ضرورت ہے پھر اسکے بعد اس میں مشاعروں کی بیج بوئیں یا پھر سمیناروں ، اس زمین پر لائبریریاں بنائیں یا پھر اردو گھر بنائیں وہ بعد کی بات ہے ۔ مگر یہاں زمین بنجر رکھ کر اچھی فصلوں کی امید کرنا بے وقوفی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔صرف واہ واہ واہ واہ کے مشاعروں سے اردو زبان پر آہ آہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ جب حقیقی کام کرنا ہے، اگر وہ کیا جائے تو واہ رے واہ کہہ سکتے ہیں ۔
  • 1
    Share
  • 1
    Share