Select your Top Menu from wp menus

پارٹی کوئی بھی انصاف اور روادی سے سرکار چلائے،!

پارٹی کوئی بھی انصاف اور روادی سے سرکار چلائے،!
محمد سیف الاسلام مدنی  پکھرایاں کانپور یوپی!
قارئین کرام یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ملک ہندوستان بین الاقوامی سطح پر، جمہوری ملک تسلیم کیا جاتا ہے مختلف مذاہب کے علمبرادر اور پیروکار اس ملک میں زندگی بسر کرتے ہیں، جنکے پاس اپنے سول قانون ہیں، اور سول معاملات میں انکو آزادی حاصل ہے ‘
ملک کوئی بھی ہو اسکی ترقی اور نیک نامی وہاں کی تہذیب، اکانمی، معیشت کی مضبوطی، اور امن و امان سے ہوتی ہے، ہمارا وطن عزیز عرصہ دراز سے انہی چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے ‘
لیکن اگر گذشتہ بیس سالوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہمارا ملک مذہبی تشدد، بین المذاہب، معاشرتی تفریق، عدم معیشت، اور عدم انصاف کی طرف گامزن ہورہا ہے، یہاں مذہب کے نام پر معیشت میں، ریزرویشن میں، حصہ دیا جاتا ہے اور ایک عرصہ سے مسلمانوں کے ساتھ عدم انصاف سے کام لیا جارہا ہے، اس ملک کی ساری ہی پارٹیاں چاہے وہ سیکولر ہو یا کمیونل، سب جانتی ہیں کہ مسلمانوں کی اس ملک میں ایک روشن تاریخ رہی ہے،
انگریزی استعمار کو ختم کرنے اور انکے ناپاک عزائم کو سرنگوں کرنے میں مسلمانان وطن اور علماء ہند پیش پیش رہے ہیں، لیکن اسی ملک میں مسلمان اضطراب کی حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں، ہر سال ہزاروں مسلمانوں کو ناکردہ جرائم کے سلسلے میں جیلوں کے اندر ڈال دیا جاتا ہے،
ہر سال بہت سے مسلمانوں کو تشدد کے ساتھ ہلاک کردیا جاتا ہے، اور مجرموں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی “موجودہ حکومت میں ظلم و سفاکی، ہندو مسلم، بابری مسجد ایشوز نےخوب ترقی ہے اور زمینی میدان میں ایجوکیشن، مہنگائی، اکانمی اور ملک کے داخلی معاملات بی جے پی بلکل فیل ہوچکی ہے، اور انکی یہ ناکامی 2019 کے لوک سبھا الیکشن کی ناکامی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی دکھائی رہی ہے ‘
میں عرض کرونگا کہ اس ملک میں جتنا ہمارا بھی برابر کا حصہ ہے، اس لئے جو بھی سرکار آئے، وہ انصاف کے ساتھ اپنی سرکار چلائے ‘
2019 کے الیکشن کے لئے کئی لائحہ عمل سامنے آئے ہیں، کانگریس نے اتحاد کا بگل کافی پہلے پھونکا تھا، لکین حال میں ہی جس طرح سے سیاسی اسٹنٹ میں تبدیلی رونما ہوئی ہے، اسنے ہونے والے لوک سبھا الیکشن کو دلچسپ بنایا دیا ہے ‘
مجلس اتحاد المسلمین ایک عرصہ سے بی جے پی اور کانگریس مکت کا نعرہ لگایا تھا جو کافی اثر بھی لایا، اور اب تو ملک کے اندر تیسرا مورچہ تیار ہورہا ہے جو ایک خوش آئند قدم ہے، اور اتر پردیش کے اندر، بی ایس پی اور ایس پی کا اتحاد بھی خوش آئند ہے، یقیناً اس تیسرے آپشن سے کانگریس اور بی جے پی کا غرور ضرور توڑےگا، ساتھ میں مجلس اتحاد المسلمین کو بھی چاہئے کہ وہ اس تیسرے مورچہ کا ساتھ دیں تاکہ فرقہ پرست طاقتوں کا غرور کم ہو!
  • 5
    Shares
  • 5
    Shares