Select your Top Menu from wp menus

تین طلاق بل مسلم مردوں کوجیل بھیجنے کی سازش

تین طلاق بل مسلم مردوں کوجیل بھیجنے کی سازش
اگرکوئی آپ سے ہمدردی کرتا ہے تو ہم کواس پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے اس کے پس پردہ مقاصد کابھی پتہ لگانا چاہیے ورنہ بعض اوقات ایسا دیکھاگیا ہے کہ شکاری ‘شکار پرسیدھا حملہ نہیں کرتابلکہ اس کوپھانسے کے لیے گل ڈالتا ہے ۔ذکیہ جعفری ‘عشرت جہاں‘ نجیب کی ماں اور لاکھوں مسلم خواتین ہیں جوفسادات میں بیوہ ہوئیں‘ ان کاگھر اجڑگیا ‘ ان کے بچوں کو شہید کیاگیا‘ معصوم بچیوں کی عصمتوں سے کھیلاگیا ‘ تلوار کی نوک پرحمل گراکربچوں کوٹانکاگیا۔ ان کاروائیوں میں ملوث شرپسندوں کے خلاف آج تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی لیکن آج یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی سازش کے تحت تین طلاق بل کی آڑ میں مسلم خواتین کو بلی کا بکرابنایاجارہا ہے۔یہ بل مسلم خاندان کوبرباد کرنے اور نئی سازشوں کے دروازے کھولنے کے مقصد سے لایاجارہا ہے۔بل میں خواتین کوفائدہ پہنچانے کی بات نہیں کی گئی ہے اور صرف اور صرف مرد کوجیل بھیجنے کی بات کہی گئی ہے۔اگر شوہر جیل جاتا ہے تو گھر کا پورا نظام ہل جاتا ہے۔ پہلے ہی مسلمانوں میں غربت پائی جاتی ہے اورمرد ہی چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے ماں باپ اوربیوی بچوں کاپیٹ پالتے ہیں ایسے میں اگر گھر کا مرد جیل چلے جاتا ہے توبزرگ ماں باپ کوصدمہ ہوگا اورگھر کاچولہا بجھ جائے گاپھرایک بارجیل جانے کے بعد جب دوبارہ وہ مر د سماج میں آئے گا تو امکان ہے کہ وہ اس ہتک کوبرداشت نہ کرتے ہوئے کوئی غلط نہ اٹھالے ۔ ایسے میں اس کی آنے والی نسل پربھی ایک داغ لگ جائے گا اور اس کے معصوم بچوں کوجواسکول جاتے ہیں وہاں پریشانی ہوگی اور اس کی لڑکی کوآگے چل کر اچھے گھرانوں میں رشتہ کیلئے بھی دشواریاں آئیں گی۔ یہ بل دستور میں دیئے گئے مذہبی آزادی کے حقوق کوچھینتا ہے ۔اس بل کی پیشکشی کے دوران یہ بات خوشی کی دیکھی گئی کہ پارلیمنٹ قرآن کی آیتوں سے گونج رہاتھا۔ پارلیمنٹ میں غیر مسلم ممبران قرآن کی آیتوں کا حوالہ دے رہے تھے۔ کانگریس کی رکن پارلیمنٹ رنجن نے کہاکہ اس بل پرمباحث میں حصہ لینے کے لیے انہوں نے دل سے قرآن پڑھا ہے اور سورۃ النساء کا حوالہ دیااورپوری سورۃ النساء کی تفسیر پیش کی اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ مسلم رہنماؤں نے اپنی قوم کو صحیح طریقہ سے قرآن سے واقف نہیں کروایا۔میناکشی لکھے نے بھی قرآن کی آیات کا ذکر کیا اورسمرتی ایرانی بھی سورہ النساء کی آیات کو پیش کیا اور حضرت عمرؓ کے دورمیں تین طلاق پردی گئی سزا کا حوالہ دیاگیا ۔مگرتمام لوگ اپنے اپنے مقاصد کے تحت قرآن کی آیات کاحوالہ دے رہے تھے۔اب ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم خود قرآن سمجھ کرپڑھیں اور غیرمسلموں کواس سے واقف کروائیں۔ مجھے امید ہے کہ جن قرآنی آیات اوراسلامی واقعات کا پارلیمنٹ میں ذکرہوا اس سے غیرمسلم لوگ قرآن کی طرف رجوع ہوں گے اور دین قبول کریں گے اورہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان تک صحیح تعلیما ت پہنچائیں ۔ اور یہ بات حقیقت ہے کہ جب بھی اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی وہاں اتنا ہی پھیلا ہے نائن الیون کے بعد امریکہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے ‘اتناہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤگے۔
دشمن سے ترے ہم کوئی پیماں نہ کریں گے
جینے کے لیے موت کا ساماں نہ کریں گے
رسوائی ملت پہ چراغاں نہ کریں گے
مرجائیں گے ایمان کا سودا نہ کریں گے

محسن خان
پان منڈی۔حیدرآباد
9397994441

  • 2
    Shares
  • 2
    Shares