کورونا وائرس اور ہماری بے اعتدالیاں

0 55

 

✏ فضیل احمد ناصری

جب دنیا گناہوں سے بھر جائے تو اللہ کی سنت یہ ہے کہ عذاب بھیج دیتا ہے۔ عذاب کی مختلف صورتیں قرآن و حدیث میں مذکور ہیں۔ فرعون اور اس کی قوم پر جو عذابات آئے تھے، ان میں طوفان، ٹڈی دَل، جوئیں، مینڈک، خون اور اخیر میں غرقِ آب کرنا شامل ہیں۔ قومِ عاد، قومِ ثمود اور قومِ لوط پر بھی سنگین اور عبرت ناک عذاب کا نزول ہوا۔ جب انسان مقصدِ تخلیق سے ہٹ کر نئے نئے تجربے کرنے لگے تو دنیا ظلمتوں کی آماج گاہ اور عصیان و طغیانی کا مرکز بن جاتی ہے۔ پھر خالقِ کائنات صفائی مہم چلاتا ہے اور کوڑے کچرے کے کچھ انبار کو طوفان کی نذر کر دیتا ہے۔

*کورونا وائرس اللہ کا عذاب*

حالیہ دنوں میں بھی اللہ کا ایک عذاب مسلط ہوا۔ یہ عذاب کورونا وائرس کووڈ 19 کی شکل میں ہے، جو چین سے اٹھا اور پوری دنیا میں تہلکہ مچا گیا۔ اب سارے ممالک اس عذاب سے جوجھ رہے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد روز افزوں ہے۔ چین میں ہزاروں افراد اس کی نذر ہو گئے۔ ایران میں ہر دس منٹ پر ایک بندہ مر رہا ہے۔ اٹلی میں اموات اس قدر ہیں کہ لاشیں دفنانے کے لیے زمین ختم ہو گئی۔ امریکہ جیسا مالدار اور طاقت ور ملک 90 ہزار کے آس پاس متاثرین لیے بیٹھا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان اس کی یلغار جھیل رہے ہیں۔ پورا عالم آہ و کراہ میں ہے۔ ادیانِ باطلہ ہی کیا، دینِ اسلام کے ماننے والے بھی اس وبا سے شدید بے چین ہیں۔ دنیا کی ساری حکومتیں اس کے آگے بے بسی ظاہر کر رہی ہیں۔

*طاعون اور وبا ایک معنیٰ میں بھی مستعمل*

یہاں یہ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ طاعون اور وبا ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں۔ طاعون اگرچہ خاص قسم کی بیماری کا بھی نام ہے، جو جسم کے مختلف حصے میں گلٹی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ ذیل کی حدیث میں ہے: *لا تفنَى أمَّتي إلَّا بالطَّعنِ أو الطَّاعونِ قلتُ يا رسولَ اللهِ هذا الطَّعنُ قد عرفناه فما الطَّاعونُ قال غُدَّةُ كغُدَّةِ البعيرِ المقيمُ بها كالشَّهيدِ والفارُّ منها كالفارِّ من الزَّحفِ* ۔
الراوي: عائشة أم المؤمنين المحدث: المنذري – المصدر: الترغيب والترهيب – الصفحة أو الرقم: 2/294۔

میری امت فنا نہیں ہوگی، مگر طعن یعنی نیزوں سے اور طاعون سے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ! طعن کو تو ہم جانتے ہیں، مگر طاعون کو نہیں جانتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: غدۃ کغدۃ البعیر، یعنی اونٹ کی گلٹی کی طرح انسان کے جسم میں بھی گلٹی نکل آتی ہے۔ طاعون کی جگہ پر رہنے والا شہید کا درجہ پاتا ہے اور وہاں سے بھاگنے والا میدانِ جنگ سے بھاگنے والے کی طرح مستحقِ ملامت ہے۔

لیکن کئی احادیث میں طاعون اور وبا ایک ہی معنیٰ میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔ سیدنا حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں شام میں مہلک بیماری ظاہر ہوئی تھی، جس میں لاتعداد مسلمان لقمۂ اجل بنے۔ اس بیماری کو احادیث میں طاعون بھی کہا گیا ہے اور وبا بھی۔ اس سے ظاہر ہے کہ طاعون اور وبا کا ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے۔

*یہ وبا مسلمانوں کے لیے رحمت ہے*

وبا کوئی سی بھی ہو، مسلمانوں کے لیے رحمت ہے۔ اس وبا سے مرنے والا شہادت کا رتبہ پاتا ہے۔ سیدنا حضرت انس ابن مالکؓ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: *الطاعون شہادۃ لکل مسلم* ۔ پورا متن ملاحظہ فرمائیں: *قالَ لي أنَسُ بنُ مالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عنْه: يَحْيَى بمَ ماتَ؟ قُلتُ: مِنَ الطَّاعُونِ، قالَ: قالَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: الطَّاعُونُ شَهادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ* .
الراوي: أنس بن مالك المحدث: البخاري – المصدر: صحيح البخاري – الصفحة أو الرقم: 5732

یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں: *أنَّهَا سَأَلَتْ رَسولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ، فأخْبَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: أنَّه كانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ علَى مَن يَشَاءُ، فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فليسَ مِن عَبْدٍ يَقَعُ الطَّاعُونُ، فَيَمْكُثُ في بَلَدِهِ صَابِرًا، يَعْلَمُ أنَّه لَنْ يُصِيبَهُ إلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ له، إلَّا كانَ له مِثْلُ أجْرِ الشَّهِيدِ* ۔
الراوي: عائشة أم المؤمنين المحدث: البخاري – المصدر: صحيح البخاري – الصفحة أو الرقم: 5734

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ طاعون کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے، وہ جس پر چاہتا ہے، بھیجتا ہے۔ پھر اسے مسلمانوں کے لیے رحمت بنا دیتا ہے، جو مسلمان طاعون میں مبتلا ہو اور وہ اِس عقیدے کے ساتھ طاعون والے شہر میں جما رہے کہ اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں جو لکھا ہے وہی ہوگا، تو اسے شہید کا ثواب ملے گا۔

پیغمبر ﷺ کی یہ رپورٹ بھی پیشِ نظر رکھیں: *أتاني جبريلُ بالحُمَّى و الطاعونِ ، فأمسكَتِ الحمِّى بالمدينةِ ، و أُرْسِلَتِ الطاعونُ إلى الشام ، و الطاعونُ شهادةٌ لأُمَّتي ، و رحمةٌ لهم ، و رِجسًا على الكافرين* .
الراوي: أبو عسيب مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم المحدث: الألباني – المصدر: السلسلة الصحيحة – الصفحة أو الرقم: 761

نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ جبریلِ امین بخار اور طاعون لے کر میرے پاس تشریف لائے۔ بخار کو تو مدینے روک لیا گیا اور طاعون کو شام کی طرف بھیج دیا گیا۔ طاعون میری امت کے لیے شہادت اور باعثِ رحمت ہے اور کافروں پر عذاب۔

*طاعون اور مدینہ منورہ*

کورونا وائرس آیا تو اسلامی ممالک میں سب سے پہلے سعودی عرب نے احتیاطی اقدامات کیے اور اس ہنگامہ خیز انداز میں کہ اگر یہ تدبیریں فوری اختیار نہ کی گئیں تو خدا نخواستہ ملک ختم ہو جائے گا۔ اقدامات بھی ایسے کہ مطاف بند کر دیا گیا۔ طواف کا مقدس اور متواتر عمل ہفتوں کے لیے روک دیا گیا۔ دو چار نمازیوں کے سوا سب پر مسجدِ حرام میں جانا ممنوع کر دیا گیا۔ مدینہ منورہ پر بھی یہی فرامین نافذ کیے گئے۔ پھر پورا سعودی ہی لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ ڈر خوف اور دہشت کا یہ عالم کہ ساری مسجدیں جماعت اور جمعات سے محروم کر دی گئیں۔ سعودیہ کے اس پاگل پن سے پوری دنیا کے مسلمان شدید متاثر ہوئے۔ دشمنانِ اسلام کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ جب مرکزِ اسلام سعودی عرب میں بھی مسجدیں مقفل ہو گئیں تو دنیا کی دیگر مسجدیں کیوں نہ مقفل ہوں!! چناں چہ دنیا بھر میں مسجدیں ویران پڑی ہیں۔ ہندوستان میں تو خوب جبر و تشدد چل رہا ہے اور مسجد جانے والوں پر شدید ضربیں پڑ رہی ہیں۔ ان پر قانونی کار روائی بھی جاری ہے۔ تاریخِ اسلام کا یہ پہلا منحوس موقع ہے کہ پوری دنیا ایک وبا کی وجہ سے جماعت سے بھی گئی اور جمعہ سے بھی۔ یہ نہایت شرمناک ہے اور اس کا سارا ٹھیکرا حجاجِ وقت بن سلمان کے سر پھوڑا جانا چاہیے، جب کہ مدینہ منورہ کے بارے میں حضور ﷺ کی صاف پیش گوئی ہے: *من استطاعَ منكم أن يموتَ بالمدينةِ فليمُتْ بِها فمن ماتَ بالمدينةِ كنت لَهُ شفيعًا وشَهيدًا. الوباءُ والدَّجَّالُ لا يدخلانِها* ۔
الراوي: – المحدث: الهيتمي المكي – المصدر: الزواجر – الصفحة أو الرقم: 1/207

تم میں سے کوئی مدینے میں وفات پا سکتا ہو تو پا جائے، کیوں کہ جس کی وفات مدینے میں ہوئی، اس کا سفارشی اور گواہ میں بنوں گا۔ وبا اور دجال مدینے میں نہیں جا سکتے۔

رسالت مآب ﷺ کا یہ ملفوظِ گرامی بھی دیکھیے: *لا يدخلُ الطاعونُ ولا المسيحُ الدَّجَّالُ المدينةَ* ۔
الراوي: أبو هريرة المحدث: ابن عساكر – المصدر: معجم الشيوخ – الصفحة أو الرقم: 1/484

یعنی طاعون اور دجال مدینے میں نہیں گھس سکتے۔

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ دجال مدینے میں گھسنا چاہے گا، مگر وہاں فرشتوں کو چوکیداری کرتا پائے گا، لہذا دجال اور طاعون وہاں داخل نہ ہو سکیں گے ان شاءاللہ۔ متن دیکھیے: *يأتي الدجالُ المدينةَ ، فيَجِدُ الملائكةَ يَحْرُسُونَها ، فلا يَدْخُلُ الدجالُ ، ولا الطاعونُ إن شاء اللهُ* ۔
الراوي: أنس بن مالك المحدث: الألباني – المصدر: صحيح الجامع – الصفحة أو الرقم: 7991

یہ ساری حدیثیں صحیح ہیں، جب یہ ساری فضیلتیں مدینے کے لیے ثابت ہیں تو مکے کے لیے بدرجۂ اولیٰ ثابت ہوں گی۔ ان سب کے باوجود سعودیہ کا لاک ڈاؤن محض جہالت اور دینِ محمد سے بے وفائی کا شاخسانہ ہے۔

*کیا کوئی بیماری متعدی بھی ہوتی ہے؟*

سعودی عرب کے رسوائے زمانہ حکام نے مساجد پر قفل تو چڑھا دیے، مگر پورے عالمِ اسلام پر ایک برقِ عظیم گرادی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سارے حکام جاہل اور علمِ دین سے میلوں دور ہیں۔ حالانکہ احادیث چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ حرمین شریفین میں کوئی وبا اور طاعون نہیں جا سکتا۔ کسی نے شاید انہیں پڑھا دیا ہے کہ بیماریاں بذاتِ خود متعدی ہوتی ہیں۔ جب کہ ایسا ہرگز نہیں۔ ایسی کئی حدیثیں ہیں جن سے اس خیال کی نفی ہوتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: *لاَ يُعدى شيءٌ شيئًا. فقالَ أعرابيٌّ : يا رسولَ اللَّهِ البعيرُ الجرِبُ الحشفةُ بذنبهِ فيُجرِبُ الإبلَ كلَّها. فقالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّه عليه وسلم فمن أجربَ الأوَّلَ ؟ لاَ عدوى ولاَ صفرَ خلقَ اللَّهُ كلَّ نفسٍ فَكتبَ حياتَها ورزقَها ومصائبَها* .
الراوي: عبدالله بن مسعود المحدث: الألباني – المصدر: صحيح الترمذي – الصفحة أو الرقم: 2143

کوئی بھی بیماری متعدی نہیں ہوتی۔ تو ایک دیہاتی نے اپنا اشکال پیش کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! خارش زدہ اونٹ جب صحت مند اونٹوں کے ساتھ رہتا ہے تو سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے خیال کی نفی کرتے ہوئے تنبیہاً فرمایا: فمن اجرب الاول؟ پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ کیا؟ بیماری متعدی نہیں ہوا کرتی اور ماہِ صفر کی نحوست والی بات بھی غلط ہے۔ اللہ نے ہر جان دار کو پیدا کیا، پھر اس کی زندگی، اس کی روزی اور اس پر آنے والے حادثات لکھے۔

اس حدیث میں صاف ہے کہ کوئی بھی بیماری متعدی نہیں ہوتی، کیوں کہ دیہاتی کے اشکال کے جواب میں ہی آپ نے *لا عدویٰ* کہا ہے۔ بخاری شریف کی یہ حدیث بھی اسی مفہوم کو ادا کرتی ہے: *لا عَدْوَى ولا صَفَرَ ولا هامَةَ فقالَ أعْرابِيٌّ: يا رَسولَ اللَّهِ، فَما بالُ إبِلِي، تَكُونُ في الرَّمْلِ كَأنَّها الظِّباءُ، فَيَأْتي البَعِيرُ الأجْرَبُ فَيَدْخُلُ بيْنَها فيُجْرِبُها؟ فقالَ: فمَن أعْدَى الأوَّلَ؟* ۔
الراوي: أبو هريرة المحدث: البخاري – المصدر: صحيح البخاري – الصفحة أو الرقم: 5717

صحیح ابنِ حبان کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کا ہاتھ بھی اپنی پلیٹ میں داخل کر دیا اور فرمایا: اللہ کے بھروسے کھا لو! متن دیکھیے: *أخَذ النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم بيدِ مجذومٍ فأدخَلها معه في القَصعةِ وقال : ( كُلْ باسمِ اللهِ ثِقةً باللهِ وتوكُّلًا عليه )* ۔
الراوي: جابر بن عبدالله المحدث: ابن حبان – المصدر: صحيح ابن حبان – الصفحة أو الرقم: 6120

غور کیجیے! جذام اس زمانے میں لا علاج مرض تھا۔ لوگ اس سے بہت ڈرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ایسے وقت میں بھی اس کا ہاتھ پکڑ کر اور اپنی پلیٹ میں اس کا ہاتھ داخل کر کے امت کو جتا دیا کہ بیماری خواہ کیسی ہی مہلک کیوں نہ ہو، بذاتِ خود متعدی نہیں ہوا کرتی۔ ہاں! ایسا ممکن ہے کہ جس طرح اور چیزوں کے پھیلنے کے اسباب ہوتے ہیں، اسی طرح مریض سے میل جول بھی بیماریاں پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔ یعنی بیماری بذاتِ خود متعدی نہیں ہوتی، لیکن مریض اگر کسی کے پاس بیٹھ جائے تو اللہ کے حکم سے وہ مرض اسے بھی لگ سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ مریض کے ساتھ جو بھی بیٹھے گا، وہ بہر حال بیمار پڑ جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا تو حضور ﷺ بہرحال متاثر ہوتے اور کوئی بھی ڈاکٹر زندہ نہ بچتا۔

*یہ حدیثیں احتیاطی تدبیر کے طور پر ہیں*

احادیث کے ذخیرے میں پیغمبر ﷺ کے ایسے بہت سے ارشادات ہیں، جن سے احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کی تلقین ہوتی ہے۔ مثلاً آپ ﷺ کا یہ ارشاد: *فِرَّ منَ المَجذومِ فرارَك منَ الأسَدِ* .
الراوي: – المحدث: الزرقاني – المصدر: مختصر المقاصد – الصفحة أو الرقم: 687

کوڑھی سے ایسے بھاگو، جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔

ایک حدیث یوں بھی ہے: *كَلِّمِ المجذومَ وبينَكَ وبينَهُ قيدَ رمْحٍ أوْ رمحينِ* .
الراوي: عبدالله بن أبي أوفى المحدث: ابن عدي – المصدر: الكامل في الضعفاء – الصفحة أو الرقم: 3/104

کوڑھی سے بات کرتے وقت ایک دو نیزے کا فاصلہ رکھا کرو۔
مگر یہ حدیث ضعیف اور کمزور ہے۔

ایک حدیث یہ بھی ہے: *كان في وفدِ ثقيفٍ رجلٌ مجذومُ ، فأرسلَ إليهِ النبي صلى الله عليه وسلم :إنا قدْ بايعناكَ فارجعْ* .
الراوي: الشريد بن سويد الثقفي المحدث: البيهقي – المصدر: السنن الصغير للبيهقي – الصفحة أو الرقم: 3/65

قبیلۂ ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی آدمی بھی شامل تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے پاس اپنا قاصد اس پیغام کے ساتھ بھیجا: کوڑھی سے کہہ دو کہ میں نے تیری بیعت کر لی ہے۔ واپس چلے جاؤ!

اس حدیث سے اگرچہ احتیاطی تدبیر کا پہلو بھی نکالا جا سکتا ہے، مگر یہ پہلو کوئی یقینی نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے قلتِ وقت کی بنا پر اس کو براہِ راست بیعت نہ کی ہو۔

*لا يورِدُ ممرِضٌ على مصِحٍّ* .
الراوي: أبو هريرة المحدث: ابن القيم – المصدر: مفتاح دار السعادة – الصفحة أو الرقم: 3/364

بیمار اونٹ کو تندرست اونٹوں کے درمیان نہ لے جایا جائے!

*طاعون زدہ علاقے میں نہ جایا جائے*

*أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ قالَ في غزوةِ تبوكَ إذا وقعَ الطَّاعونُ بأرضٍ وأنتم بها فلا تخرُجوا منها وإذا وقعَ بها ولستُم بها فلا تقدُموا عليهِ وفي روايةٍ فإذا كانَ بأرضٍ ولستُم بها فلا تقرَبوها* .

الراوي: جد عكرمة بن خالد المخزومي المحدث: الهيثمي – المصدر: مجمع الزوائد – الصفحة أو الرقم: 2/318

غزوۂ تبوک کے موقعے پر آپ ﷺ نے فرمایا: جب کسی سر زمین پر طاعون نازل ہو اور تم وہاں اقامت گزیں ہو تو وہاں سے کوچ نہ کرو، اور اگر ایسی کوئی وبا نازل ہو تو وہاں نہ جایا کرو۔

یہ اور ان جیسے ارشادات احتیاطی تدبیر پر محمول ہیں۔ یہ احتیاط اس وجہ سے ہے تاکہ میل جول کی بنا پر بہ تقدیرِ الہی یہ بیماری اگر کسی کو لگ جائے تو اس کا عقیدہ خراب نہ ہو۔

*کورونا وائرس پر ہماری تجاویز سے عوام کا عقیدہ خراب ہو رہا ہے*

کورونا وائرس کے بعد ہمارے لوگوں نے احتیاط احتیاط کی اتنی رٹ لگائی کہ اس سے اس بیماری کا متعدی ہونا ہی سمجھ میں آتا ہے۔ حیرت اس پر ہے کہ بہت سے علما تو باقاعدہ بیماری کے تعدیہ کے قائل بھی ہیں۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ عالم یہ ہے کہ عملاً صحت مند انسان کو بھی مریض مان لیا گیا ہے اور اس کے ساتھ مریضوں جیسا فاصلہ بنایا جا رہا ہے۔ مصافحہ جیسی سنت سے بھی منع کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے فیصلے کی بے مہار حمایت کی جا رہی ہے۔ لوگوں میں خوف و ہراس مسلسل پھیلایا جا رہا ہے۔ جمعہ اور جماعت کے خلاف تحریریں لکھی جا رہی ہیں۔ ہمارے لوگوں نے مسجدوں کی بندش کے خلاف کوئی پیش بندی نہیں کی، الٹا ان پر قفل ڈالنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ غلط طریقہ ہے۔ امت کو صحیح معلومات دی جانی چاہیے۔ احتیاطی تدبیر کے نام پر عقیدہ بگاڑنا ہرگز ہرگز مناسب نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.