قدرت کے کاموں میں دخل اندازی کرنے کی سزا بھی، عبرت ناک ہوا کرتی ہے

0 157
             نقاش نائطی
      +966504960485
بایولاجیکل وار فیر کے لئے چائینا کو بدنام کرنے کی امریکی سازش چور کی داڑھی میں تنکے والا معاملہ تو نہیں ہے؟
کسی ملک کے سائینس داں عام سے، انفلوینزا کے  غیر متعدی وائرس کو اپنی تحقیقی مختبر گاہوں میں  خطرناک تیز تر متعدی وائرس میں تبدیل کر اسے بایولاجیکل بم کی صورت ڈھالنے میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔ "انسانی فطرت راز کی بات ہضم نہیں کی جاتی” اس اوصول کے تحت کسی بھی بہانہ سے اس سائینس دان کے منھ سے وہ راز نکل کر کسی لیکھک یا لکھاڑو ناول نگار تک پہنچ جاتی ہے۔ وہ ناول نگار  کسی اور دشمن ملک کے نام سے، اسے "اندھیرے کا سچ” نامی جاسوسی ناول کی شکل1981 چھاپ، مارکیٹ میں عام کردیتا ہے۔ اس ناول کی کہانی پر 2011میں بڑے بجٹ کی  "متعدی”  ہالی ووڈ فلم بنائی جاتی ہے اور اچانک  دو دہوں والی  افغانستان جنگ میں، اپنی بربادی بعد، بے یارو مددگار افغانیوں کے ہاتھوں ہار تسلیم کرتے یوئے، "بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے” مثل مصداق، عالمی طاقت صاحب آمریکہ افغانستان سے نکل جاتا ہے۔ پھر اچانک امریکہ ہار ہر فن یا والوں کی تنقید کا سامنا کرنے سے قبل،اس   کے دشمن ملک چائینا کے "ہوہان” شہر میں یہ کورونا وائرس کا قہر شروع ہوجاتا ہے۔ایک زمانے سے  کتے بلی سانپ بچھو چمگاڈر سمیت مختلف حشرات الارض کھانے والی چائینیز قوم کو،1981 والے "اندھیرے کا سچ” ناول اور 2011 والے "متعدی” فلم میں درشائے جیسا، چمگاڈر سے یہ کورونا مرض چائینیز لوگوں میں منتقل ہوا جیسے، مغربی الیکٹرونک میڈیا اپنی 24/7 نشریات سے دنیا والوں کو یہ باور کرانے میں،نہ صرف  ایک حد تک کامیاب ہوجاتے ہیں بلکہ کرونا قہر بعد والے "ہوہان”شہر کے مناظر کو، 2011 کی کامیاب فلم  "متعدی” کے مناظر سے موازنہ کرتے، یہود و ہنود و نصاری والے الیکٹرونک میڈیا پر درشاتے دوہرے مناظر کو دنیا والوں نے دیکھا بھی ہے۔ دراصل دنیا والوں کی نظروں میں کرونا وائرس سے  پوری طرح معاشی طور  برباد ہوتے چائینا ہی کو،اس حادثاتی بایولاجیکل سقم کورونا تباہ کاری کے لئے بدنام کرنے کی مغرب کی سازش، خود انکے گلے کا پھندا بنی لگتی ہے۔چائینا کے ساتھ ہی ساتھ، امریکہ کے لئے عسکری طور خطرہ مسلم ایٹمی طاقت پاکستان اور اسکے دوست پڑوسی ملک ایران کو سبق سکھانے چائینا کے ساتھ ہی ساتھ ایران میں اس کورونا مرض کو پھیلاتے ہوئے، دراصل پورے ایشائی مہاساگر کی بڑھتی آبادی کو کم کرنے اور افغانیوں کے ہاتھوں لٹے پٹے، بڑے بے آبرو ہوکر افغانستان سے نکلے عالمی طاقت کو، عالم پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کی ضرورت کی کڑی کے طور دیکھا کیا نہیں جانا چاہئیے؟ وہ تو اچھا ہوا چائینا  اپنی تمدنی ترقی یافتگی کے سبب، امریکی ناول اور فلم  میں "ہوہان” شہر کے   برباد ہوتے درشائے مناظر ہی کی وجہ سے، پہلے سے کم و بیش اس بایولاجیکل وار فیر کے لئے، ایک حد تک تیار تھا اسی لئے اس نے بلاکی تیزی اور اپنی ہی رعایا پر ظلم کرتے جیسا دکھتے کڑے فیصلوں سے امراض کورونا سے گھرے "ہوہان” شہر کو کچھ ایسا کورنٹائین جیل میں تبدیل  کردیا اور پہلے سے ایک حد تک تیار بایولاجیکل مدافعتی طبی تیاری کے پیش نظر، نہ صرف کورونا قہر سے اپنے "ہوہان” شہر کو بیماری مکت بنانےمیں کامیابی حاصل کی، بلکہ "ہوہان” شہر کے پڑوسی چائینیز شہروں تک اس کورونا قہر کو پہنچنے نہیں دیا، لیکن مغربی پابندیوں کو جھیل رہے ایران ، نہ صرف کورونا کے قہر کو روکنے میں ناکام رہا وہیں پر دنیا بھر سے ایران آئے شیعی مذہبی مسافروں کے ذریعہ سے، یہ کورونا قہر دنیا بھر میں پھیلنے کا موجب بنا۔
دوسروں کےلئے کھودے گئے گڑھے میں،اکثر گڑھا کھودنے والے ہی گرا کرتے ہیں۔اس مثل مصداق، چائینا کے  انڈسٹریل شہر "ہوہانگ” سے کاروباری تعلق رکھنے والے، یوروپئین تجار، انجانے میں اسے معمولی نزلہ زکام سمجھ کر، اسے اپنے ساتھ یورپ و امریکہ کے ترقی پذیر ملکوں میں لے گئے، اور اس غیر متوقع کورونا قہر کی زد میں آگئے۔ صاحب امریکہ چونکہ اس سے باخبر تھا اور اسے بچے رہنے کی امید میں،کل تک اسےمعمولی سقم کہنے تک سے باز نہ آتے ہوئے امریکہ میں اس سقم کے آنے کی صورت بھی، اس سے نپٹنے کے دعوے کرتا تھا۔ لیکن قدرت کی مار سے  کوئی  کیسے بچ سکتا ہے۔ جبکہ اگر یہ مفروضہ سچ مان لیا جائے تو، انسانیت کے قاتل کو اللہ کیسےمعاف کرسکتا ہے۔ آج دنیا کا عصری ترقی یافتہ ملک امریکہ کورونا مریضوں کے متاثرین کی تعداد میں، دنیا کا سب سے متاثر ترین ملک بن چکا ہے۔جس رفتار سے امریکی عوام اس سقم کورونا کے شکار بن رہے ہیں، اللہ نہ کرے مہلوکین کی کثرت تعداد میں بھی، عالمی طاقت امریکہ  نمبر ایک پر چلا نہ جائے؟
وہی(مالک دو جہاں) بات دل میں ڈال دیتا ہے ہم تو اسے کاغذ پر ڈھال دیتے ہیں۔اس موقعہ پر مرحوم ذکاء صدیقی کی حمد کی دو لائن یاد آجاتی ہیں
وہ گر چاہے تو رستے پرپہاڑ کھڑا کردے
وہ گر چاہے تو پہاڑ سے رستہ نکال دے
بے شک جیسا کہ گمان کیا جارہا ہے کہ موجودہ عالمی طاقت اور مستقبل کی بننے والی عالمی طاقت کے بیچ، تمغہ رہبر عالم کی کھینچاتانی  کے درمیان، ایک دوسرے کو معاشی طور برباد کرنے لئے، شروع کی گئی  یہ بایولاجیکل وار فیر ہی نے، آج عالم کو اس حشرات الارض (جرثومہ کورونا) کے سامنے بے بس سا کردیا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے رو گردانی ناممکن ہے،جب درخت کا معمولی پتہ بھی، اس مالک دو جہاں  کے حکم کے بغیر خود سے ہل نہیں سکتا تو قدرت کی رضا کے بغیر، کھلی آنکھوں، نظر نہ آنے والےمعمولی جرثومہ کی کیا اوقات؟ کہ وقت کی سرکش طاقتوں کو ، جس نے اپنی انا کی تسکین کے لئے،ابھی دیے دو دیے کے دوران افغانستان عراق سوریہ لیبیا،  کے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام، کیا نہیں کیا تھا؟ہزاروں مسلم نساء کے دامن کو کیا داغدار نہیں کیا گیا تھا؟ لاکھوں مسلم بچوں کو یتیم کر، انسانیت ہی کے نام دو قطرے یمدردی کے بہاتے ہوئے، لاکھوں سوریائی مسلم بچوں کی پرورش کفالت کرنے کا دکھاوا کر، انہیں مسیحیت کے تابع دار بنانے، گود لینے کا ناٹک کیا نہیں رچا گیا تھا؟ آج اپنی تمام تر جدت پسند ترقیات کے باوجود، ان دیکھے جرثومہ کی تباہ کاریوں کے سامنے،وہ بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔کیا ہم نے انہیں اپنی مسند حکومت کے لئے ہزاروں گجراتی مسلمانوں کا قتل عام کرتے نہیں دیکھا تھا؟کیا ہم بھول گئے؟ چاقو تلوار سے، حاملہ نساء  کے پیٹ  کوچیر کر، انکے ان جنمے معصوم زندہ بچوں کو ترشول پر اچھال قتل کرنے والے، ان دو دہایوں میں نہ صرف قانون ارضی سے بچے ہوئے ہیں؟ بلکہ سنگھی  حکومت میں اقتدار کے مزے بھی کیا لوٹ نہیں رہے ہیں؟ گجرات فساد بعد، بازآباد کاری کے بہانہ سے، تمام تر سہولیات سے ماورا گندی تر بستی کو کیا بھارت واسی بھول چکے ہیں؟ حضرت مولانا سجاد نعمانی کے ظاہر کئے سنگھی مشن مطابق،اس کورونا مرض سےمتاثر بےروزگار ہوئے روزانہ کے محنت کشوں کو، ہزار روپیہ دینے کے بہانے، این آر سی معلومات اکھٹا کرنے کی رذیل حرکت کرنے والے سنگھیوں سے، کیا بعید ہے کہ سقم کورونا سے انسانیت کو آمان رکھنے کی کاوشوں کے در پردہ، وہ مسلم معاشرے کو اور سقم زد نہ کررہے ہوں؟اور ذہنی طور مفلوج کر مار بھی رہے ہوں۔ورنہ اس کورونا مرض کا مارا کون عقل مند انسان، ہاسپٹل سے جان بچا کر بھاگتا پایا جاتا؟ اس سمت مسلم رضاکارو ں کو کھلی آنکھوں سے، ان سنگھیوں  کی ہر امدادی حرکات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
قدرت کے بنائے جرثوموں پر ریسرچ کرتے ہوئے، انہیں اور ہلاکت خیز بنانے کی موجودہ سائینسی کوشش، بایولوجیکل وار فیر،قدرت کے کاموں میں انسانی عمل دخل ہی سے ناراض، کیاقدرت نے،ان جدت پسندعصری تعلیم یافتگان کو،ان کی توقعات سے زیادہ کورونا وائرس کو نقصان سے دوچار کر، انہیں تنبیہ کرنے کی صورت، پورے عالم کو اس کورونا قہر میں مبتلا کر، عالم میں یہ کہرام بپا تو نہیں کیا ہے قدرت نے؟ آج سائیندان بھی متفق ہیں اس بات کے لئے کہ یہ کورونا جرثومہ زمانہ قدیم سے جانوروں میں تھے ۔کل تک جو جرثومہ متعددی نہ تھے آج اچانک کیسے متعددی ہوگئے؟ جب پرندوں میں پنپنے والے ضرر رساں غیر متعدی   برڈ فلو جرثوموں کو متعدی خطرناک بایولاجیکل بم میں، صاحب امریکہ ڈھال کر، محفوظ مقفل رکھ  سکتا ہے تو عام جانوروں میں پائے جانے والے سردی زکام کو متحرک کرنے والے غیر متعدی جرثوموں کو، موجودہ تیز تر متعدی شکل میں ڈھالے جانے کا الزام کیوں کر غلط ہوسکتا ہے؟سقم کورونا آج بھی ہلاکت خیز نہ ہوتا اگر تیز تر متعدی نہ ہوتا؟ آج کی تازہ تر خبر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مختلف شہروں کے گورنرس نے دنیا کے شکتی سالی ملک کے شکتی سالی صدر کو تمام تر اختیارات ملکی سے بے دخل کردی گئی خبر میں، اپنے پانچ سالہ دور میں ناکام تر خارجہ پالیسی ہی کی وجہ سے صدر امریکہ کو رسوا تر کر، بے اثر کیا نہیں کیا گیا ہے واللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ
CNN’s Anderson Cooper breaks down a series of breaking news stories regarding President Donald Trump and the impeachment inquiry.
اللہ ہی سے دعا ہے کہ وہ اس امتحانی گھڑی سے بھی عالم کی مسلم امہ کو سرخرو نکال باہر کرے۔ آمین فثم آمین

ممبئی کے آئی پلس دعوتی براڈکاسٹنگ چینل کورونا وائرس مندرجہ ذیل  لنک والی نشریات میں، برڈ فلو غیر متعدی  جرثوموں کو  خطرناک متعدی برڈ  فلو وائرس میں تبدیل کرتے محفوظ منجمد رکھے جانے کی خبر ://

Leave A Reply

Your email address will not be published.