یہ کہاں آگئے ہم؟

0

ہمارے دیش کے موجودہ حالات بڑے نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ مسلمان ہر جگہ ہی ناگفتہ بہ حالات سے گزر رہا ہے۔ حالات نازک مرحلہ میں ہیں۔ ان حالات کا علم سب کو ہے اس لیے اس موضوع پر بات نہ کرتے ہوئے ہمیں اس بات پر دھیان دینا ہوگا کہ اب جب کہ ان حالات میں تبدیلی اور بدلاؤ لانے کی انتہائی ضرورت ہے، ہمیں کیا کرنا چاہئے؟؟
جن حالات سے آج مسلمان ہر جگہ دوچار ہیں، نفرت اور اور تعصب کا شکار ہیں، نفرت کی آندھی چل رہی ہے ۔۔۔۔۔ تو یہ حالات کوئی پہلی مرتبہ پیش نہیں آئے ہیں۔ اس حیوانیت کی آگ میں ہمیشہ مسلمان ہی جلا ہے اور اس کو ہی نقصان پہنچا ہے۔ ایسے درندے تو پہلے بھی تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔لگتا ہے کہ رہتی دنیا تک ایسے ہی حالات رہیں گے بلکہ اور زیادہ بگڑتے جائیں گے ۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو مختلف علاقوں میں ایسے ہی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔
اس وقت ہمارا دیش جس دوراہے پر کھڑا ہے، اس تناظر میں ہم سوچتے ہیں کہ سماج کے بگڑتے ہوئے حالات کا نسل نو کے دل و دماغ پر کیا اثر ہوگا۔۔۔۔ تو ذہن ماؤف ہوجاتا ہے۔۔۔ اس کے حقیقی اثرات تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔۔۔۔ اسلام کی غلط شبیہہ دکھائی جا رہی ہے۔ اس کو بدنام کیا جارہا ہے اور ایک فرقہ اس کو مٹانے کی کوشش میں ہے۔۔۔۔۔ باطل نے اپنی بھرپور طاقت جھونک دی ہے کہ جیسے بھی ہو اس کو مٹایا جائے اور اس کی چمکتی روشنی کو جیسے بھی ہو مدھم کیا جائے اور اس کی شان کو داغدار بنایا جائے اور امت مسلمہ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جائے۔ مسلمانوں کو مٹانے کی جدوجہد جاری ہے۔ ۔۔۔۔مگر یہ تو وہ چراغ ہے جو پھونکنے سے نہ بجھ پائے گا بلکہ اس کی روشنی پورے جہاں میں اور پھیلے گی اور دوسروں کو بھلائی کا درس دیتی رہے گی ۔تاریخ ایسے بہت سے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہ چراغ تو اپنی علم کی روشنی سے دنیا کو منور کرتا رہے گا۔ یہ چراغ تو تا قیامت جلنے کے لئے آیا ہے ۔مذہب اسلام ایسی آندھیوں کے زور سے کبھی نہیں بجھے گا اور نہ اس پر آنچ آئے گی۔۔۔۔۔ کیوں کہ ہمارے سینوں میں قرآن مجید محفوظ ہے۔ جب بھی ایسے واقعات اور نازک مرحلے آئے ہیں، ہم نےاپنے عزم و حوصلوں سے اس کا مقابلہ کیا ہے۔
موجودہ حالات میں ہمیں اپنے حوصلوں میں پختگی لانے کی ضرورت ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نماز اور قرآن کو پابندی کے ساتھ پڑھا جائے۔ دینی تعلیم کو عام کیا جائے۔ ہمارے پاس یہی ہتھیار باقی ہے۔ ہم فرقوں میں بٹ گئے ہیں۔ ہمیں فرقوں میں بانٹ دیا گیا ہے ۔۔۔ابھی بھی وقت ہے۔ اس فرقہ بندی سے باہر نکل کر ایک جٹ ہو جاؤ تو ہم پر کوئی حاوی نہیں ہو پائے گا۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہم سے تو ایک دوسرے کا اچھا بھی دیکھا نہیں جاتا۔ کوئی آگے جا رہا ہو تو اسے کیسے ذلیل کیا جائے اس کی سازشیں تیار کی جاتی ہیں۔علامہ اقبال نے کہا ہے:

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

ان سب باتوں سے نکلنے کے لیے سیرت النبیﷺ کا مطالعہ زیادہ سے زیادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں یہ زمانے کی گردشیں کیا مٹاپائیں گی۔ ہم طوفانوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔بس اللہ پر پختہ یقین رکھیے گا ۔ حالات پر قابو پانے کے لیے امت مسلمہ کو ایک ہونا ہوگا۔ جو دلوں میں نفرت ہے اور آپس میں نا اتفاقی ہے، اسے دلوں سے نکال کر پھینکنے کی ضرورت ہے۔ تعلقات اچھے بنائیں اور جو ہوا ہو بھول جائیں ۔دلوں کو صاف کریں۔ دلوں کا گردو غبار دور کریں اور سماج سے رابطہ قائم کریں ۔ سیاسی جماعتوں سے بھی تعلق بنائے رکھیں ۔ خوشگوار ماحول ایسے پیدا کیے جائیں جس میں سب کی بھلائی کا سبب ہو۔ پڑوسی کے حق نبھائے جائیں پھر وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔ وقت پڑنے پر جیسے بھی ہو ان کی مدد کریں۔ جس چیز کا درس ہمارے پیارے نبیﷺ نے دیا ہےاس پر عمل کریں جیسے غیر مسلموں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا، ان کے ساتھ محبت سے پیش آنا وغیرہ ۔یہ اسلامی تعلیم کا بہترین نمونہ ہے۔ اعلیٰ کردار اور انصاف پسند لوگوں کو اللہ تعالیٰ بھی پسند کرتا ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ بھی محبت سے رہنا حسن سلوک کا ایک معاملہ ہے۔ کسی قوم کا ہدایت پانا ، صراطِ مستقیم پر آنا اور مذہب اسلام کو قبول کرنا،ہمارے رب کی حکمتیں ہیں اور جسے خدا توفیق دے۔ اسلام میں مایوسی کفر ہے اور نہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے کسی سے بے تعلقی کرنا درست نہیں ہے مسلمان کو اسی کا اجر ملے گا جیسے اعمال ہوں گے۔ حدیث میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ مکہ میں بہت قحط پڑا لوگ مردار کھانے پر مجبور تھے۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں اور مشرکین میں زبردست تناؤ تھا اس کے باوجود قربان جایئے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر مکہ کے مشرکین کے لیے پانچ سو دینار بھیجے اور اس وقت مدینہ کے لوگ بھی فاقہ کشی پر مجبور تھے۔
آج جھوٹ کی بنیاد پر سماج کو دوحصوں میں بانٹا جارہا ہے۔ ہم جھوٹ کا مقابلہ جھوٹ سے نہیں کرسکتے۔۔۔۔ لازمی ہے کہ ہم اپنے کردار کی بلندیوں سے اس جھوٹ کی دیوار کو ڈھادیں۔ برادرانِ وطن سے ہماری ہمیشہ ہی قربت رہی ہے۔ اب اس قربت میں اپنے سچے اور اعلیٰ کردار کی چاشنی کو بھی شامل کردیں تاکہ ہمارے قریبی برادرانِ وطن کے سامنے سچائی زیادہ بہتر طور پر ابھر کر سامنے آسکے اور وہ جان سکیں کہ ہماری اصل کیا ہے اور ہمارا مذہب کن اعلیٰ اقدار کی تعلیم دیتا ہے۔ کرونا وبائی حالات میں مسلمانوں کی بے لوث خدمات زبردست طریقے سے میڈیا میں واضح ہوگئی تھیں۔ اس کے بعد بھی ہماری خدمات کا سلسلہ جاری رہا جس سے ماحول کی دھند صاف ہونے میں کافی مدد ملی۔ کیا ہی بہتر ہوگا کہ ہم اپنے ان ہی بے لوث خدمات کے حوالے سے زہر آلود ماحول کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔
اب بھی وقت ہے بیدار ہو جاؤ۔ ایک جٹ ہو جاؤ ۔ پہلے خود میں تبدیلی لانے کی زیادہ ضرورت ہے اور پھر دوسروں کی اصلاح کریں اور بیدار کریں۔ ہماری سوئی ہوئی قوم کوجگانا ہے جسں کی کشتی منجھدار میں ہے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم ایک دوسروں کے دکھ درد کو سمجھیں گے اور ایک دوسرے کے لئے دلوں میں نفرت، بغض ،کینہ ،منافقت رکھے بغیر ایک دوسرے کے کام آئیں گے۔ یہی ہمارا دین سکھاتا ہے اور دنیا و آخرت کی بھلائی بھی اسی میں ہے۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر ۔ ممبئی
ایڈیٹر غزلوں کا سفر رسالہ
ایڈیٹر،گوشہ خواتین و اطفال ،اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر ،گوشہ خواتین و اطفال، ہندوستان اردو ٹائمز
ایڈیٹر، گوشہ خواتین و اطفال، نوائے ملت
9870971871

Leave A Reply

Your email address will not be published.