Select your Top Menu from wp menus

تلاق ثلاثہ ہندوستانی مسلمانوں سے اقرار کروانا آسان نہیں

تلاق ثلاثہ ہندوستانی مسلمانوں سے اقرار کروانا آسان نہیں
مکرمی : گزشتہ دنوں جمعرات کو لوک سبھا میں تلاق ثلاثہ کے متعلق بل پاس کیا گیا. اور ایک قانون نافذ گیا کہ اگر کوئی بھی انسان اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہے تو طلاق نہیں ہو گی اور طلاق دینے والے کو تین سال کی سزا ہوگی. اور یہ بھی قانون بنایا گیا کی شوہر اپنی بیوی کو جیل میں رہ کر ہی ساری خرچہ دیں گے. یہ تو بالکل نا قابل قبول بات ہے. جب طلاق ہوئی نہیں تو پھر جیل کیوں ؟ جبکہ حضرت عمر کے دور خلافت میں طلاق دینے والے کو 100 کوڑے  لگایا جاتا تھا. بی جے پی حکومت مسلمانوں کو الجھا کر رکھنا چاہتی ہے. مسلمانوں سے دین چھیننا چاہتی ہے لیکن انہیں پتہ نہیں کہ یہ دین صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ پورے عالم کے انسانوں کے لئے نجات کا راستہ ہے. یہ ان لوگوں کی خوش قسمتی ہے جو لوگ اپنے دلوں میں نبی کی دین کو بیٹھائے ہوئے ہیں اور اسی پر چلتے ہیں. اور اسی دین کا نام شریعت ہے جسے اسلامی قانون کہا جاتا ہے. اور اسی اسلامی قانون پر مسلمان عمل کرتا ہے.  اسلامی قانون کسی صحابی یا کسی پیغمبر کی بنائی ہوئی قانون نہیں ہے بلکہ اللہ تبارک وتعالٰی نے قرآن کا نزول فرما کر قرآن کے ذریعہ اس قانون کو بھیجا تھا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سچا اور پکا مسلمان جس کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول کا خوف ہو چاہے ہندوستان کیا پوری دنیاں  اگر اسلامی قوانین میں ترمیم کردے تو پھر بھی وہ اسلامی قوانین کو چھوڑ کر دنیاں کی بنائی ہوئی قوانین پر عمل نہیں کر سکتا. ایک سچا مسلمان اپنی گردن تو کٹا سکتا ہے لیکن کوئی اسلامی قوانین  میں کسی طرح کی مداخلت کرے یہ ہرگز برداشت نہیں کر سکتا. آج بی جے پی حکومت ہندوستان کی دین سے ناواقف عورتوں سے طلاق کے خلاف آواز اٹھا کر اپنی روٹی سیکنا چاہتی ہے. آج پورے ہندوستانی مسلمان کراہ رہی ہے اور خواہ مخواہ مسلم کمیونیٹی مسلم پرسنل لاء بوڑڈ میں مداخلت کر کے مسلم کمیونیٹی کو پریشان  کر رہی ہے. جب تک ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء بوڑڈ ہے تب تک طلاق ثلاثہ یا شریعت میں مداخلت کی ہوئی کسی بھی قوانین کو ہندوستانی مسلمانوں سے اقرار کروانا اتنا آسان نہیں. کیوں کہ اللہ رب العزت نے انسانوں کو مقررہ وقتوں کے لئے بھیجا ہے اور اسی کی بنائی ہوئی قانون کے مطابق زندگی گزارنا ہے. جیسا کہ طلاق کے تعلق سے قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے..”واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او شرحوھن بمعروف” طلاق کا حاصل نکاح کے معاملے اور معاہدے کو ختم کرنا ہے. مگر اس معاملے کو ختم کرنے کے لئے جس طرح عام معاملات و معاہدات ختم کرنے کے لئے آزاد رکھا گیا ہے اس طرح نہیں ہے. اس کے لئے اسلام نے ایک حکیمانہ قانون بنایا ہے. اور قدم قدم پر قرآن و سنت  نے ہدایتیں دی ہیں. اس لئے کہ یہ رشتہ ہمیشہ مستحکم اور مضبوط ہوتا چلا جائے اور کبھی ٹوٹنے نہ پائے. اسلام میں طلاق ایک ایسا لفظ ہے جس سے دو رشتوں کی بنیاد ختم ہو جاتی ہے. جب کے شریعت میں رشتے کا توڑنا گناہ ہے. اور طلاق کو اسلام میں سب سے آخری درجے میں رکھا گیا ہے اور طلاق کی نوبت اس وقت آتی ہے جب بیوی اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کے لئے قطعی راضی نہ ہو. بس امت مسلمہ سے  میری درخواست ہے کہ اپنی زندگی کو اسلامی طریقے پر گزاریں اور اپنی ازدواجی زندگی کو خوب مستحکم اور مضبوط بنائیں اور دونوں خواندانوں کو تارے بکھیرنے سے بچائیں اللہ ہمارا حامی و مدد گار رہے گا
ارشد انجم مرزاپور مدہوبنی
9955221556
  • 1
    Share
  • 1
    Share