یہ تو چمنستان بھارت کو معشیتی طور برباد  ہونا ہی تھا

0
۔          نقاش نائطی
۔    +966562677707
آج 8 ستمبر 2021 نوٹ بندی پر پورے 5 سال گزرنے کے بعد بھارت کی معشیتی درگت دیکھ کر، اورگوا اپنے عوامی اعلان مطابق اگر مہان مودی جی8 ستمبر2016 اپنے نوٹ بندی ناکامیابی پر عوامی سزا پاچکے ہوتے تو چمنستان بھارت ان ساڑھے چارپانچ سالوں میں معشیتی طور اتنا تباہ و برباد نہ ہوا ہوتا۔ شاید بھگوان،ایشور،اللہ کو ان نام نہاد دیش بھگتوں کے ہاتھوں  معشیتی طور تباہی منظور تھی۔ مودی جی کے نوٹ بندی اعلان کی وجہ جو باتیں گئی ہے بھارت میں لین دین  نقد ہونے کی وجہ سے بھرشٹار بڑھا کرتا ہے۔ لیکن اب یکم نومبر نوٹ بندی پر تقریبا پانچ سال گزرنے کے بعد بھارت میں تجارت نقدی 50 فیصد بڑھی ہے۔دوسری وجہ نوٹ بندی کی جو بتائی گئی تھی وہ بھی  آربی آئی کے اس اعلان کے بعد کے متروک کئے گئے 500 اور ہزار کے پرانے نوٹ   3۔99% پرانے نوٹ ریزرو  بینک میں جمع ہوچکے ہیں، نوٹ بندی کے لئے بتائے تمام اسباب غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ تیسری وجہ نوٹ بندی کی نقلی نوٹوں سے ملک کو بچانے کی، آج بھی حکومت نقلی نوٹوں کے کاروبار  کوختم نہیں کر پائی ہے۔ اپنے گوا عوامی تقریر میں ببانگ دہل مہان مودی جی نے یہ اعلان کیا تھا کہ انہیں11 نومبر سے 31 دسمبر 2016  صرف 50 دنوں کی مہلت دی جائے  کہ اگر ان 50 دنوں میں انکی نوٹ بندی کا فیصلہ بھارتیہ عوام کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا پایا جائے تو وہ  بھارت کے کسی بھی شہر کے چوراہے پر عوامی جن سبھا میں عوام کی دی ہوئی سزآ بھگتنے کے لئے تیار ہیں
8 ستمبر 2016  دیش واسیوں پر نافذ کی گئی نوٹ بندی کتنی دیش کے ھت میں ہے اور کتنی نقصان دہ، یہ بات اب معشیتی صلاح کاروں کے علاوہ دیش کے بچہ بچہ کی زبان زد عام ہے کہ مودی سرکار کے رام راجیہ مہاں بھارت کے معشیتی  طور تباہ و برباد ہونے کی اصل اور بڑی وجہ مودی جی کا یہ معشیتی سرجیکل اسٹرائک ہی ہے۔ دراصل مودی جی کا یہ نوٹ بندی اقدام دیش کے ھت میں نہیں تھا بلکہ انکے الیکشن پر پیسا لگا انہئں۔پردھان منتری بنانے والے بڑے گجراتی برہمن پونجی پتیوں کو الیکشن میں خرچ کئے ہآعوں کروڑ سود سمیت انہیں واپس لوٹانا ہی تھا۔عام سے بات ہے ایک مختصر عرصے میں اتنی کڑی شرائط کے بعد اس وقت مارکیٹ میں گھوم رہے 500 اور 1000 کے نوٹ 15,41793 لاکھ کروڑ روپئے جو تھے نوٹ تبدیل کرنے کی مہلت کے اختتام تک 15,310.73 لاکھ کروڑ روپئیے تقریبا    3۔93% پرانے نوٹ تبدیل کئے جاتے ہیں یقینا کسی بھی ملک کی معشیت کے لئے ناممکن ہے۔ دراصل ان نوٹ بندی ایام گجراتی تاجروں کی کی طرف سے دیش کے بڑے شہروں میں بنکوں کے مقابلے 20 سے 30 فیصد کم قیمت پر کتنی بھی بڑی سے بڑی نقد خاکے دھن کو تبدیل کر نئے 2000 کے چمچاتے نوٹ دئیے جانے کا علم تو ہر دیش واسی  کے علممیں ہوگا۔ اتنے ہزار کروڑ  کے کالے دھن کو تبدیل کرنے والوں نے آخرکس طریقے سے وہ کالا دھن  بنکوں میں جمع کروائے؟ یہ سب حکومت کے اعلی عہدوں پر فائز سنگھی حکمرانوں کی ملی بھگت کے بغیر کئا ممکن یے۔ کیا دیش واسی بھول چکے ہیں ان ایام گھرات و مہارشٹرا بی جے ہی حکومت والے صوبوں کے مختلف کو آپریٹیو بنکوں میں کروڑوں کے کالے دھن فرضی نام سے جمع کرتےپکڑے گئے تھے۔ لیکن ان پانچ سالوں میں ان۔پر کیا کاروائی ہو پائی ہے۔ ایسے موقع پر ہمیں تیس ایک سال پہلے گجرات میں ہورہے عالمی تبلیغی اجتماع میں، تبلیغیوں کو مشہور زمانہ پاکٹ ماروں سے بچانے کے لئے اجتماع سے پہلے پاکٹ مار ایسوسیشن کے ذمہ داروں کو گجرات کی عزت کا حوالہ دیتے ہوئے، لاکھوں کی تعداد جمع ہونے والے تبلیغیوں  کو، پاکٹ مار  چوروں سے بچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اگر کوئی بھی حکومت کسی بھی عمل میں مخلص پائی جائے تو انکے  کسی بھی عمل ناکام نہیں یوسکتا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ساڑھے پندرہ ہزار کروڑ پرانے نوٹ سنگھی حکومت کی مرضی کے بغیر کیسے ممکن ہے۔ یقینا نوٹ بندی نافذ کر دراصل تین چار لاکھ کروڑ حاصل کرنے کا مودی حکومت کا یہ نوٹ بندی اعلان تھا تفصیل جاننے کےلئے لنک کھول دیکھئے

Leave A Reply

Your email address will not be published.