Select your Top Menu from wp menus

لہو لہو لفظ میں بہبودی کی داستان!

لہو لہو لفظ میں بہبودی کی داستان!
جہانگیرایاز قادری (کشمیر )
زیر نظر کتاب ’’لفظوں کا لہو‘‘ سلمان عبدالصمد کا ایک ناول ہے۔ یہ مصنف کا پہلا ناول ہے جس کی اتنی پذیرائی ہوئی کہ اس کے کئی ایڈیشن شایع ہوئے۔ اس ناول میں مصنف نے زندگی کے مختلف گوشوں کو ابھارا ہے۔ جس میں صحافت اور آزادئ نسواں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی خو د مختاری اور بہبودی قابل ذکر ہے۔ مصنف نے ناول میں دکھایا ہے کہ جب الفاظ زخمی ہوتے ہیں تو اس کے لہو سے کون کون سے ادارے اثر انداز ہوتے ہیں اور لفظوں کے لہو سے انسانیت کس طرح داغ دار ہوتی ہے۔ انھوں نے ابتدائی صفحات میں لکھا ہے:
’’لفظوں کے لہو سے لہولہان تھے، عدالتیں، میڈیا گھرانے، غریب خانے، امیر خانے….اس کے باو جود سب مگن ہیں لفظوں کا لہو بہانے میں‘‘۔
اس کتاب میں مصنف نے کرداروں کی ذہنی کش مکش کو موضوع بنایا ہے۔ جس سے ناول میں ایک الگ ہی رنگ نظر آتا ہے۔ لفظوں کے لہو کے بارے میں مصنف ایک جگہ اور رقم طراز ہیں:
لفظوں کا لہو جب بہہ نکلتا ہے تو آسمان کانپ جاتا ہے۔
لفظوں کا لہو جب بہہ نکلتا ہے تو زمین کا نپ اٹھتی ہے۔
لفظوں کا لہو جب بہہ نکلتا ہے تو ناانصافی کا شیطان پیدا ہوتا ہے۔
یہ ناول تین حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں مصنف نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ صحافت میں ایک با صلاحیت انسان کی قیمت کیا ہوتی ہے اور صحافت میں صلاحیت کا معیار کیا ہے۔ اخبار چلانے کے لیے ایک انسان کس حد تک گر سکتا ہے اور اخبار کو اونچائی پر لے جانے کے لیے ہر قیمت چکانے کو تیار رہتا ہے۔ مصنف نے صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیا اور اگر اس چوتھے ستون میں کچھ کمزوری رہی تو ساری جمہوریت بیمار نظر آئے گی۔ صحافت مشن سمجھنے والے ہی اس کے ساتھ انصاف کرسکتے ہیں اور اس چوتھے ستون کو اگر سیاسی پارٹیوں کے دفتروں میں بیچا گیا تو جمہوریت کھڑی نہیں رہ سکتی۔
دوسرے حصے میں مصنف نے صحافت کے ساتھ ساتھ حقوق نسواں اور ان کے حقوق کی پاسداری کے لیے مر د کے کرداروں کو ابھارا ہے اور اس بات کی طرف قاری کے ذہن کو مبذول کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ حقیقت میں مرد وہ ہے جو معاشرہ میں عورتوں کو حق دلاسکتا ہے۔ جو مرد کمزور ہے، جسے خوف ہے معاشرہ کا، پولس کا، عدالتوں کا وہ کیسے کسی کمزور عورت کی مدد کرپائے گا۔ تیسرے باب میں ناول کے دونوں باب کو مربوط کرکے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مصنف نے ناول کے شروع میں ہی دکھایا کہ انسان کے ذہن کو کئی جنگوں کا سامنا ہے۔ جمہوریت ، معاشرہ ، نئی دوستوں ، بے رنگ آب وہوا وغیرہ سے اس کو ہمیشہ برسر پیکار رہنا پڑتا ہے۔ جملوں کے زہریلے بم ، لفظوں کے ننگے ہتھیار ، لاقانونیت کی بے آواز بندوقیں اور رشتوں کے کمان سے نکلے ہوئے تیر ہر وقت اس کے ذہن پر برس رہے تھے لیکن انسان کے لیے یہ فیصلہ کرنا دشوار تھا کہ وہ کس جنگ کے لیے سب سے پہلے ہتھیار مہیا کرے ۔ مصنف انسانیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ انسان کے اندر سے جب انسانیت جل جاتی ہے تو اس کی بو بہت ہی ناگوار ہوتی ہے ۔ مصنف نے صحافیوں کے بارے میں اظہاررائے کرتے ہوئے لکھا ہے ’’جائز اور ناجائز کے درمیان ایک صحافی لفظوں کی دیوارکھڑی کرکے سماج کو سکون پہنچاتا ہے‘‘۔
جب لفظوں کی دیوار سے پانی آرپا ر ہوجائے تو صحافی کہاں کا صحافی ۔ اس ناول میں یہ دکھایا گیا کہ صحافی کو کن کن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے اور جو بھی صحافت کے میدان میں قدم رکھتا ہے اس کو بے ایمان کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جس کے آگے چند ٹکرے پھینک کر اس کا ایمان خریدا جاسکتاہے۔ صحافت کے بارے میں مصنف نے کہا کہ ضمیر کی سودا گری کرنے والا ہمیشہ اپنے آپ کو خوف زدہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا راز کہیں فاش نہ ہوجائے لیکن صحافت کی دنیا میں ہونے والی ضمیر فروشی پردے کے پیچھے ہوتی ہے اور کوئی اس پردے کو نہیں ہٹا سکتا ۔ آگے جا کر مصنف نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ جب ایک صحافی اپنے قلم سے نااہل فرد کو اہل بتا تا ہے تو وہ نااہل فرد اس صحافی کے لفظوں کا لٹیرا بن جاتا ہے اور اس کے بعد وہ صحافی لفظوں کے جال میں نہ جانے کتنے کو پھانستا ہے۔ صحافت کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے مصنف نے چھوٹی چھوٹی کہانیوں کو ناول میں جگہ دے کر اس کے حسن میں اضافہ کیا ہے ۔ مصنف اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’سیاسی پارٹیوں کے آفس میں جہاں جہاں جمہوریت کے چوتھے ستون کی فروختگی کا میلا لگتا اکمل خان حاضر رہتے۔ ہر ایک کے یہاں ان کا اٹھنا بیٹھنا ہوگیا ۔ جنھوں نے اکمل خان یا دائمی پرواز کو کھڑا کیا تھا، ان کی ہدایت پر وہ کام کرتے ۔ کن سے ملنا ہے ، کس مقصد سے ملنا ہے ، یہ سب ان کے ذمے تھا۔ اکمل جو جو کام کررہے تھے ، اگر کوئی یہ سب کرتا تو شاید وہ فرقہ پرستوں کو مضبوط کرنے والا تسلیم کرلیا جاتا ، تاہم صحافت کے پانی میں سب کچھ دھل دینے کی طاقت ہوتی ہے شاید ، اس لیے وہ ….پولنگ کے قریبی دنوں اکمل کا مکان بھی پارٹی آفس بن گیا تھا۔‘‘
مصنف نے آگے چل کر اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ عورت بھی مضبوط ہے مگر شروع سے ہی کسی کا سہارا لینا چاہتی ہے ۔ پہلے ماں باپ اور پھر شوہر کا ۔ اور جس عورت کا محافظ اس کو چھوڑ کر چلاجائے تو حالات ہی اس بے یارو مددگار کو حوصلہ دیتے ہیں ۔ مصنف نے ناول میں یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ایک مرد کے پاس جمع ہونے والی دورعورتیں اپنے محافظ کو بٹاہوا محسوس کیوں کرتی ہیں؟اس کے برعکس اگر دو عورتیں ایک ساتھ رہیں گی تو ممکن ہے کہ وہ متحدہ طور پر اپنے آپ کو مضبوط محسوس کرنے لگ جائیں اور ساتھ ہی دیگر عورتوں کو بھی مضبوط کرنے کا عزم کرلیں ۔
صحافت کے بارے میں مصنف اظہار خیال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب صحافیوں میں حقیقی بھوک ہو اور اس کو مٹانے کی کوشش نہ کی جائے تو صحافت بے موت مرے گی جو بھی حق کی پرورش کرے گا معنوی لحاظ سے وہ صحافی کہلانے کے لائق ہے۔ چمکتی ہوئی ڈگریاں یا صحافتی اداروں کا پریس کارڈ ہونا لازمی نہیں ہے۔ صرف حق کا مطالبہ ہی نہیں ، حق پیداکرنا اور حق کی پرورش کرنا بھی صحافیوں کا فریضہ ہے ۔ جس ماحول میں حقوق کی حصولیابی آسان ہو ، ایسا ماحول پیدا کرنا بھی صحافیوں پر فرض ہے اور ان حقوق کی حصولیابی کے لیے عوام کی صحافی بنانا بھی ان کی ذمے داری ہے ۔ حق دلانا بھی صحافت کا اصول ہے اور جو اس حق دلانے کے بارے میں سوچے وہ بھی صحافی ہے ، جو معاشرہ میں ہورہا ہے ایک صحافی کو وہ دکھانے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک صحافتی کو وہ بھی دکھانا ہے جو ہوسکتا ہے اور جو ہونا چاہیے اور جو لوگوں کے حق میں مفید ہو۔مصنف نے صحافت کے پردہ میں زندگی کا فلسفہ پیش کیا ہے۔ ناول کا پلاٹ بہت ہی عمدہ اور مربوط ہے۔ ناول میں کرداروں کی ذہنی کش مکش پوری طرح چھائی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ناول کا قابل قدر پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں عورتوں کے باہمی تعلقات اور نفسیات کو بہتر طریقے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس ناول کا میں شدت سے منتظر تھا اور جیسے ہاتھ آیا پڑھتا چلا گیا۔کیوں کہ اس میں پڑھوانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس قیمتی تحفے کے لیے ناول نگار کو مبارکباد اور نیک خواہشات۔