وہ مشن تعلیمی آگہی کے شہسوار  تھے

0
۔             نقاش نائطی
۔     +966562677707
وہ معشیتی  طور مفلس تھے مگر قوم و ملت کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے، بڑے سے بڑے تونگروں پر بھاری دھنوان تھے۔ وہ جس نےاپنی کسم و پرسی باوجود نہ صرف اپنی اولاد کو اعلی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا وہیں پر پورے کرناٹک کاروار ڈسٹرکٹ کے انیک بیسیوں مرد و زن غریب و مفلس بچوں بچیوں کو ، اپنےخلیج کے یار دوستوں سے، خود بھیک مانگ مانگ کر،انہیں آعلی تعلیم دلواتے رہے۔ ان کی زندگی کا مقصد ہی معاشرے کے بچوں میں اعلی تعلیم کی آگہی پیدا کرنا تھا
تین دہے قبل ان کا ایک نہایت اعلی تعلیم یافتہ دوست خلیج سے آیا ہوا تھا،اسے قائل کر، کمٹہ کیسرکوڈی ساحلی دیہات کے مسلم طالبات کا اسکول دکھانے لے گئے ۔ دوبئی امریکی اسکول میں طب کی تعلیم حاصل کرتی ان کی جوان بیٹی بھی  ان کے ساتھ تھی۔ کمٹہ اس مسلم دیہات کے ہائر پرائمری اسکول کی عمارت ان ہی کے تعاون سے جو بن رہی تھی جتنے کمرے بن چکے تھے اس سے ایک کلاس زیادہ بچے پڑھتے تھے۔ چونکہ ایک کلاس روم بچے زیادہ اسکول میں تھے اس لئے معمول تھا ایک گھنٹہ کی بیل کے بعد،ایک کلاس کے تمام بچے کھیل کے میدان میں جمع رہتے تھے کچھ ورزش تو کچھ پیڑ پودے گلستان تزئین کے کام میں مشغول رہتے تھے اور باقی کلاس کے بچے اپنے اپنے کلاس روم میں پڑھائی میں مشغول  رہتے تھے۔ باری باری سب ہائیر سیکنڈری کی طالبات  یکے بعد دیگرے ایک گھنٹہ کھلے میں کلاس لینے پر مجبور تھیں  اس پر بھی اس اسکول کی کچھ طالبات نے، پورے ریاستی امتحانات میں امتیازی کامیابی حاصل کی ہوئی تھیں۔ انہوں نے مہمان کو اس کسم و پرسی کا دھکڑا بتاکر، ان سے ایک دو کلاس تعمیر اخراجات برداشت کرنے کی بات انکے سامنے رکھی۔ قبل اسکے کہ، انکے دوست کچھ کہتے، اس پیاری بچی نے اپنے ابو سے کہا آبی دے دیجئے نا انہیں کچھ کلاس تعمیر کے اخراجات۔ کل ملاکر بھی یہ اتنا نہیں ہوگا جتنا آپ صرف میری تعلیم پر خرچ کرتے ہیں
یہ اکیلا اسکول نہ تھا پوری کاروار  ڈسٹرکٹ  میں ڈانڈیلی کمٹہ ہلیال سرسی کاروار پتہ نہیں کتنے ایسے چھوٹے چھوٹے مسلم ادارے تھے جنہیں انہوں نے، اپنے تعلیمی مشن آگہی سے کھڑا کیا تھا۔ ان کا مشن تھا پورے ڈسٹرکٹ کے تعلیمی اداروں کو امداد دیتے ہوئے، انہیں انجمن حامی المسلمین کے ابتدائی منصوبے کے تحت،  مرکزیت کے ماتحت لانا تھا۔ ہمیں اس کا علم تھا سرسی کے ایسے ہی چھوٹے تعلیمی ادارے کا طالبات کا مدرسہ کبھی بھی گرنے والی مخدوش عمارت کی پہلی منزل میں چلتا تھا، انہی کی کوششوں سے، مستقبل کے شاندار اسکول تعمیر کے لئے کافی بڑی زمین خریدنے، ایک بڑی رقم اس شرط پر انہیں دلوائی تھی کہ ان کا یہ تعلیمی ادارہ انجمن حامی المسلمین کی مرکزیت میں اپنا تعلیمی سفر آگے جاری رکھے گا۔ سرسی کے اس اسکول زمین کے پیسے انہوں نے خلیج اپنے دوستوں سے دلوائے بھی تھے اور اسکول سنگ بنیاد پر، ہمارے بشمول بہت سارے خلیجی دوستوں کو سرسی ہلیال دورے پر بھی لے گئے تھے۔ اب انکے انتقال ایک دیے بعد، ان کے تعاون سے آگے بڑھے، ڈسٹرکٹ کے تمام چھوٹے چھوٹے مسلم تعلیمی اداروں کو، کیا انجمن حامی المسلمین کی مرکزیت میں لایا جاسکا ہے؟ ایک دہے قبل ان کے انتقال بعد اس مفلس کے تعزیتی اجلاس میں، پورے ڈسٹرکٹ سے جمع شدہ اعلی تعلیم یافتگان و چھوٹے چھوٹے تعلیمی اداروں کے وفود، انکے تعلیمی مشن آگہی کے زندہ ثبوت تھے۔  کاش کہ ان کے تعلیمی مشن تحت پورے کاروار ڈسٹرکٹ کے تمام چھوٹے چھوٹے مسلم تعلیمی اداروں کو انجمن حامی المسلمین کی مرکزیت میں لانے میں کامیابی حاصل ہوگئی ہوتی تو  انجمن حامی المسلمین کے ماتحت چلنے والے ربع صد کے قریب مختلف اداروں کو راء میٹیریل کے طور اعلی کورسز کے طلباء  ملنے میں کوئی دشواری نہ ہوتی اور کب کا ہمارا انجمن حامی المسلمین اعلی تعلیم کا مرکزجامعہ یا یونیورسٹی بن  چکا ہوتا*
*آج انہی کے فرزند پروفیسر  طالوت بدرالحسن معلم کو،انجمن حامی المسلمین کےماتحت چلنے والے،انجمن انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ کمپیوٹر اپلیکیشن کے وائس پرنسپل عہدے پر   ترقی دئیے جانے کی نوید نؤ نے،عمر کے کافی بڑے فرق باوجود اس وقت کے ہمارے سب سے عزیز اور سب سے قریبی ساتھی کی یاد اور انکے تعلیمی آگہی مشن اور انجمن حامی المسلمین کو ڈسٹرکٹ کے مرکزی تعلیمی ادارے میں منتقل کرنے کے انکے جنون نے،باد نسیم کے ہلکے ہلکے تھپئڑوں کی دوش پر،  ہمارے ذہن افکار کو مسلسل دستک دے، ہمیں قومی تفکر میں مستغرق سا کردیا ہے*
*انیسویں صدی کی ابتداء تھی۔ عالمی یہود و نصاری سازشوں کے دوش پر  خلافت عثمانیہ ترکی اپنے 8 سو سال تابناک ماضی باوجود روبہ زوال تھا۔ خلافت عثمانیہ ترکیہ کے مرکزی شہر استنبول سے ہزاروں کلومیٹر دور انگریز کی غلامی میں جکڑے بھارت کے جنوب میں ساحل سمندر پر ہزار سال آباد، آہل عرب نسل پر مشتمل اہل نائط  تاجر  قبیلہ، نہ صرف علاقے کے مسلمانوں بلکہ صوبے و ملک کے ساتھ عالم کے مسلمانوں کے اتفاق و یگانگت کی فکر اپنے میں کروٹ لیتے پاتا ہے۔ اس لا سلکی دور میں بھی،یہود و نصاری مشترکہ طاقتوں کے ہاتھوں ایک حد تک زخم خوردہ،  اپنے خلافت عثمانیہ  کی مالی اعانت کی خاطر چندہ اوصول کرتا ہے اور اپنے حج و عمرہ قافلوں کے توسط سے مالی امداد ترسیل بھی کرتا ہے۔بعد ترسیل اوصول پائی بچت امدادی کچھ رقم کو، قوم و ملت کی یکجہتی پر خرچ کرنے کی نیت ہی سے، انیسویں صدی کی ابتداء میں،وقفے وقفے سے سماجی سیاسی معاشرتی آگہی کےلئے،پوری ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کی خاطر مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کو جہاں 1912 کے آس پاس وجود بخشا جاتا ہے، وہیں پر ڈسٹرکٹ کے مسلمانوں کی علیگڑھ طرز تعلیمی آگہی کے لئے1918 کے آس پاس انجمن حامی المسلمین کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ پتہ نہیں کیا اسباب تھے  ڈسٹرکٹ کو مرکزیت میں لینے کا نظم تعطل کا شکار  رہتا ہے پھر 80 کی دہے کی ابتداء، ڈاکٹر بدرالحسن معلم، اپنے تین دہے ممبئی مایانگری ، قومی لیڈر سابق سفیر ھند برائے سعودی عرب،  عبدالقادر حافظکا مرحوم کی قربت و ذاتی  نگرانی میں،تربیت پائے، قومیت و ملت کی نیابت  کا جذبہ اپنے گلو میں لئے، بھٹکل منتقل ہوتے ہیں اور بطور محرر ابتداء میں مجلس اصلاح میں متعین کئے جاتے ہیں، خیراتی ادارے کے  سالانہ بارہ تیرہ ہزار کے، 500 روپیہ خسارے والے سالانہ بجٹ کو، پہلے ہی سال 65 ہزار سالانہ میزانیہ تک لے جاتے ہوئے، اپنی دنیوی زندگی کے حادثاتی موت اختتام تک صدر مجلس اصلاح و تنظیم کی حیثیت، اس خیراتی ادارے کے بجٹ کو کروڑوں تک پہنچانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ بھٹکل ان کے رفاعی خدمات کے اس دور میں انکے سرپرست عبدالقادر حافظکا مرحوم کے سنڈیکئٹ ساتھی محترم رام کرشنا ھیگڑے کے کرناٹک چیف منسٹر رہتے کاروار ڈسٹرکٹ وقف بورڈ اور مائیبورٹی کمیشن چیرمین رہتے، پورے ڈسٹرکٹ  کے مسلمانوں  کی نیابت و تدریب کا سنہیں موقع ملتا ہے۔ ہمارے آباء  واجداد کے ملی مفاد مرکزیت والے ایجنڈے پر کم از کم ڈسٹرکٹ سطح پر علاقے کے مسلم تعلیمی و سماجی رفاعی اداروں کو مجلس اصکاح و تنظیم اور انجمن حامی المسلمین کی زیر سر پرستی لانے کی سعی شروع ہوتی ہے۔ علاقے کے مسلم ادارے تعاون کرنے تیار بھی پائے جاتے ہیں۔ساوتھ کینرا اڈپی سے لیکر نارتھ کینرا  ہوناور تک مختلف ساحل علاقوں میں آباد اہل نائط برادری کی متعدد نشستیں منعقد ہوتی ہیں۔ مالی امداد ہی کے بہانے کاروار ڈسٹرکٹ کے مختلف تعلیمی اداروں کو انجمن حامی المسلمین کے قریب تر کرنے کی کوششیں شروع ہوتی ہیں لیکن مسلم امہ کے بکھرے منتشر شیرازے کا اجماع  مقدر کو وقتی عمل پذیر ہونا شاید منظور نہ تھا اپنی تین جوان بیٹیوں کے ساتھ،24 مئی 2011 کسی دوست کی شادی میں سرسی جاتے وقت انکی کار حادثہ کا شکار ہو اپنی تینوں بیٹیوں اور ایک داماد کے ہمراہ ہی، اس فانی دنیا سے اس ابدی دنیا کی طرف محو پرواز وہ چلے جاتے ہیں اور انکا مشن آگہی تعلیم و مسلم مرکزیت التوا کو شکار ہو معلق ہی رہ جاتا ہے*
*آج  انکے چھوٹے فرزند طالوت کے انجمن ڈگری کالج آف مینجمنٹ کے نائب پرنسپل کے عہدے پر  ترقی پاجانے کی خبر نے، مرحوم بدرالحسن معلم علیہ الرحمہ کے تعلیمی آگہی و قومی ملی مرکزیت والے مشن کی یاد تازہ کردی ہے۔ اللہ ہی سے دعا ہے کہ وہ انکی بھرپور مغفرت کرتے ہوئے،انہیں اپنی جوار رحمت میں لیتے ہوئے،جنت کے اعلی مقام متمیز کو انکے لئے محجوز رکھے۔ اور  ان کی قابل اولاد میں، انکے وہی آگہی مشن کو آگے بہت آگے لیجانے کی توفیق عطا کرے اور پورے عالم و ھند و کرناٹک کے نہ صحیح   کاروار ڈسٹرکٹ کے مسلم تعلیمی سماجی رفاعی ادارے تو مجلس اصلاح  وتنظیم و انجمن حامی المسلمین کی مرکزیت میں علاقے کے مسلمانوں  کی خدمات بہتر اندا کریائیں۔ واللہ الموافق بالتوفئق الا پاللہ*

Leave A Reply

Your email address will not be published.