تریپورہ کا فساد اور ہمارے قائدین

0

نقی احمد ندوی، ریاض ، سعودی عرب
Naqinadwi2@gmail.com

ادھر تین چار دنوں سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے دفتر جامعہ نگر میں بہت ہی گہما گہمی دکھائی دے رہی ہے۔ تریپورہ کا معاملہ جب سے سامنے آیا ہے، نقی احمد ندوی کے سارے دعووں پر پانی پھر گیا ہے۔ جیسے ہی تریپورہ میں حالات خراب ہوئے، سب سے پہلے بورڈ کے صدر اپنی نقاہت کے باوجود دلی پہونچ گئے۔ بورڈ کے کارگذار جنرل سکریڑی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب اپنی ساری مصروفیات چھوڑ کر پہلے کئی دن پہلے ہی دلی پہونچ چکے تھے اور تریپورہ کے حالات کا جائزہ لے رہے تھے۔ کل پوری رات قائدین ملت بورڈ کے آفس میں مصروف دکھائی دے رہے تھے۔ اسی دوران مولانا سلمان ندوی، مولانا سجاد ندوی، مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی بھی پہونچ چکے تھے۔ بورڈ کے پلیٹ فارم پر تریپورہ کے حالات پر ایسی مخالف شخصیتوں کا ایک ساتھ بیٹھ کر امت کے ناگفتہ بہ حالات پر باتیں کرنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ یہ الزام کہ یہ لوگ کبھی ایک ساتھ نہں بیٹھ سکتے بلکل غلط ثابت ہورہا تھا۔ صبح ہوتے ہوتے شیعہ اور بریلوی اور اہل حدیث کے قائدین بھی دفتر پہونچ گئے۔ حالات کی سنگینی اور مصروفیات کے باعث ہمارے قائدین نے صبح کا ناشتہ تک نہ کیا، جب گیارہ بج گئے تو مشاورت کے کچھ اراکین کی ذبردستی پر صرف کچھ توش پر قناعت کی ۔
میٹنگ جاری تھی اور اسی بیچ جمعیہ علماءہند کے ممبران تریپورہ ہاوس دلی پر صبح مظاہرہ کرنے پہونچ چکے تھے۔ بورڈ یہ فیصلہ لینے جارہی تھی کہ تریپورہ کے حالات پر سنٹرل گورمنٹ سے ایک وفد ملاقات کرے، مگر اسی دوران یہ خبر آی کہ بورڈ کے کچھ عہدیداران تریپورہ ایرپورٹ پر پہونچ چکے ہیں اور فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، مگر وہاں کو گورمنٹ نے انھیں روک دیا ہے۔
بورڈ کے صدر اور جنرل سکریٹریز رات بھر اپوزیشن کے حکمرانوں اور لیڈروں سے وہاں کی کشیدگی پر باتیں کرتے رہے۔ تریپورہ کے چیف منسٹر سے بھی بات کرنے کی کوشش کی گئی مگر بات نہیں ہوسکی۔ اب پرسنل لاءبورڈ کے عہدیداران حرکت میں آچکے تھے، اور لوگوں کے اس خیال کو غلط کردکھایا تھا کہ ہمارے قائدین کچھ نہیں کرتے۔ مولاناارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے تعلقات حکومت سے اتنے گہرے ہیں کہ وہ جب چاہیں حکومت کے کسی بھی منسٹر سے مل سکتے ہیں ، اس وقت حکومت سے ان دونوں کے ذاتی تعلقات امت کے کے لیے مفید ثابت ہورہے تھے ، دونوں صبح سے حکومت کے وزراءاور ہوم منسٹری کے اہل کاروں سے بات چیت میں مصروف دکھائی دے رہے تھے۔ مولانا سلمان ندوی اور مولانا سجاد ندوی نے یہ فیصلہ کیا کہ بورڈ کے متفقہ فیصلوں کا انتظار کرنے کے بجاے وہ کل تریپورہ روانہ ہوجائیں گے۔ تو خالد فرنگی محلی اور شیعہ اور بریلوی رہنماوں نے اپنی انا کا گلا گھونٹتے ہویے ان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ ادھرمسلم مجلس مشاورت اور ملی کونسل کے ذمہ داران بھی حرکت میں آچکے تھے۔ دلی میں بورڈ کے سارے رہنماﺅں کو لوجسٹک سپورٹ ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم دے رہے تھے تو دوسری طرف مشاورت کے عہدیدیران ہنگامی میٹینگوں کے انعقاد اور کورآرڈینشن کا کام کررہے تھے اور کھانے پینے کی ساری ذمہ داری اپنے سر لے رکھی تھی۔ جماعت اسلامی نے بھی اپنے عالی شان انفرااسٹرکچر کو استعمال کرنا شروع کردیا تھا، جو بھی دلی آرہے تھے سب جماعت کے بلڈنگ میں قیام کررہے تھے، ادھر تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد صاحب نے بھی یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اب صرف جماعت کو دعوت وتبلیغ تک محدود کرنا امت کے ساتھ دھوکہ ہوگا، لہذا وہ بھی کئی دنوں سے نظام الدین اور جامعہ نگر کے درمیان کے فاصلہ کو مٹاکر میٹنگ میں پوری طرح شریک تھے۔ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر حالات اسی طرح خراب ہوتے رہے تو ہماری جماعت کے لوگ جتنے بھی ہیں ان سب کو بھی سڑکوں پر اترنے کی اپیل کی جائے گی اور اب ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں رہا جائیگا۔ حالات نے سبھی جماعتوں کے ذمہ داران کو حرکت میں لادیا تھا، بورڈ کے صدر اپنی نقاہت ، کمزوری اور پیر سنی کے باوجود جب حرکت میں آئے اور جب مولانا ارشد مدنی اور محمود مدنی نے اپنے ذاتی تعلقات کو امت کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ، اور جماعت ، مشاورت، ملی کونسل، بتلیغی جماعت کے عہدیدارن اپنے اپنے اداروں اور تنظیموں کے مفاد کو پس پشٹ ڈال کر قوم کے حالات پر اقدامات لینا شروع کیا، تو پوری امت کے اندر ایک میسیج گیا کہ ہم ابھی بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنے تمام ذاتی مفادات کو ترک کرکے اپنے ملک کے حالات کو خراب نہیں ہونے دینگے، اور ہندو مسلم فساد سے اپنے ملک کوجلنے نہیں دینگے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ امن وشانتی کے فضا قائم نہ کرے۔
مولانا ولی رحمانی کیے بعد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کو کارگذارجنرل سیکریٹری بنانے پر نقی احمد ندوی نے جو اپنی مخالفت کا بازار گرم کررکھا تھا اور یہ کہا تھا بورڈ کو فل ٹائم جنرل سکریٹری کی ضرورت ہے نہ کہ پارٹ ٹائم صدر اور سکریڑی کی۔ بورڈ کے جوبھی موجودہ عہدیداران ہیں وہ اپنے اپنے اداروں کی مشغولیات میں مصروف ہونے کے باعث امت کی مشترکہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے لیے کام نہیں کرتے ،وہ اپنے اپنے اداروں اور تنظیموں کے لیے کام کرتے ہیں، اور ہندوستان کے چودہ کروڑ مسلمانوں کی قیادت کے لیے ہمیں پارٹ ٹائم تنظیم، یا پارٹ ٹائم صدر اور جنرل سکریٹریز کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں فل ٹائم صدر، جنرل سکریٹری وغیرہ کی ضرورت ہے بالکل غلط ثابت ہورہا تھا۔
مگر افسوس کہ کچھ ایسا نہیں ہوا، اور نقی احمد ندوی کی بات صد فیصد صحیح ثابت ہوئی کہ مسلم پرسنل لاء کو جب تک فل ٹائم کام کرنے ولا صدر، سکریٹریز، اور عہدیداران نہیں دیا جائگا، اور جب تک ہمارے قائدین اپنے اپنے اداروں اور تنظیموں کے مفاد پر امت کے مفاد کو ترجیح نہیں دینگے کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آنے والی۔ یہ بات بلکل صد فیصد درست ہے جو قرآن نے کہا ہے کہ اللہ تعالی اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے اور کسی قوم کے اندر تبدیلی کامطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے اداروں، اسکی تنظیموں ، اسکے سماجی ، سیاسی ، معاشی اور دینی تنظیموں کے ڈھانچوں کے اندر تبدیلی پیدا ہو، اور اسکے ڈھانچہ میں تبدیلی خود بخود نہیں آسکتی بلکہ اس کے لیے اسکے ذمہ داروں اور سربراہوں کو ایکشن لینا ہوگا اور اسی تبدیلی کا امت کو انتظار ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.