تالی اور تھالی کا کمال

0 61

 

جنتا کرفیو کے دن پانچ بجے جب مودی جی کے اعلان کے مطابق لوگوں نے تالیاں پیٹنا شروع کیا تو مجھے سترہ اٹھارہ سال پہلے کا واقعہ یاد آیا ۔محترمہ سے صبح صبح کچھ تکرار ہو گئی تھی اور میں غصے میں بغیر ناشتہ کئے کام کیلئے نکل گیا ۔شام کو آیا تو دیکھا خاموشی چھائی ہے ۔بچوں سے پوچھا کہ بیٹا کھانا کھایا ۔بچوں نے کہا امی نے کہا ہے کہ تمہارے پاپا ناشتہ کر کے نہیں گئے تو کھانا بھی باہر سے منگوا لیں ۔میرے لئےدوبارہ تکرار کا مطلب ماحول کو مزید خراب کرنا تھا معاملے کو پیار سے ہی حل کرنا بہتر تھا ۔میں نے بچوں سے کہا بیٹا سب لوگ ایک ایک پلیٹ اور تھالی لیکر آؤ اور چلو جہاں پناہ کے اس ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہیں ۔بچے پلیٹ اور تھالی لیکر آگئے اور محترمہ بھی گھور کر دیکھنے لگیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔میں کرسی پر بیٹھ گیا اور بچوں سے کہا جو میں کہوں دہراتے جاؤ اور پھر میں نے فلم شرابی میں امیتابھ پر فلمائے گئے ایک گانے کو ترمیم کر کے تھالی پیٹتے ہوئے گانا شروع کیا کہ

دے دے دال چاول دال چاول دال چاول دے دے دے دال چاول
دنیا والے کچھ بھی سمجھیں ہم ہیں بھوکے پیاسے
دے دے دال چاول
بچوں کو تو کھیل تماشہ پسند ہی ہے انہوں نے بھی مزے لے لے کر خوب تالیاں پیٹیں ۔تھوڑی دیر کے بعد محترمہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ کچن کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دیں اور پھر ہم نے اپنا احتجاج بند کر دیا ۔
میں سوچتا ہوں کہ تالیوں اور تھالیوں کے ڈرامے سے امیتابھ کو اس کا پیار مل گیا اور ہمیں کھانا مگر کیا بھارت کی عوام کا بھی ان تالیوں اور تھالیوں کے پیٹنے سے پیٹ بھر جائے گا ؟
تین ہفتوں کے لاک ڈاؤن کے بعد شادی شدہ مرد تودوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لائق ہو ہی جائیں گے کیوں کہ پاپی پیٹ کا سوال جو ہے وہ جو ۔مودی جی کی طرح کنوارے ہیں ان کے بارے میں تو نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اس حکومت میں کتنے خوش نصیب ہیں لیکن جن کے کندھوں پر بیوی بچوں کا بوجھ ہے مودی جی نے ان سے اچھے دن کا جو وعدہ کیا تھا اچھے دن تو نہیں آئے لیکن نوٹ بندی جی ایس ٹی اور این آرسی کے فیصلے کے بعد جو برے دن آئے سرکار نے اس کا کوئی حل تو ڈھونڈھتا نہیں کرونا جیسے بیرونی عذاب کے دہشت گردانہ ماحول میں بھی مودی جی نے لوگوں سے بہت ہی ڈرامائی اور دیو مالائی انداز میں تالی اور تھالی بجوائی اور اس تھالی بجانے میں فلم شرابی کے اداکار امیتابھ بچن بھی برابر کے شریک رہے لیکن بھارت کے کسی سرمایہ ادار نے اس مشکل صورتحال میں غریبوں اور مزدوروں کی مدد کیلئے کوئی پہل نہیں کی ہے ۔ممبئ کے ناگ پاڑہ اور دلی کے کچھ مسلمانوں نے مزدور طبقات کیلئے اپنے طور پر راشن اور کھانے کا انتظام ضرور کیا ہے لیکن یہی کام وزیراعظم اپنے فنڈ سے خود بھی کر سکتے تھے یاوزیراعظم کو صرف اڈانی اور امبانی جیسے سرمایہ داروں سے اپیل کرنا تھا کہ وہ موجودہ حالات میں آگے بڑھ کر وقتی طور پر لوگوں کو راحت پہنچا دیں ۔وزیراعظم نہ بھی کہیں تو بھی جس طرح اٹلی کے اٹھارہ ارب پتیوں نے مل کر کرونا وائیرس سے متاثر مریضوں کیلئے اٹھائیس ملین ڈالر کا سرمایہ ڈونیٹ کیا بھارت میں ایک سو اٹھائیس ارب پتیوں میں سے کسی ایک نے بھی ابھی تک ایسی کوئی پہل نہیں کی ۔ایک ایم ایل اے کے الیکشن میں سیاستداں آٹھ سے دس کروڑ روپئے خرچ کر دیتے ہیں لیکن یہ سیاستدان بھی صرف جذباتی بیانات , تالی اور تھالی کی آواز سے کرونا وائرس کے خلاف جنگ جیت لینا چاہتے ۔کیا کیجئے گا ہم بھی تو گھر میں بیٹھ کر ہی ہر طرح کی جنگ جیت لینا چاہتے ہیں اور ہمیں گھر میں بٹھا بھی دیا گیا ہے ۔آج اس کا جواز بھی ہے لیکن کل تو اس کا جواز نہیں تھا اور کل پھر نہیں رہے گا اور آپ کو پھر وہی ہندو مسلمان مندر کشمیر اور پاکستان کا گھنگھنا تھما دیا جائے گا بجاتے رہئے۔دنیا کی فطرت میں تبدیلی ہے وہ تبدیل ہوتی رہے گی ۔سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی میں آپ کی حیثیت کیا ہوگی ۔یقینا تبدیل کرنے والے ہمیشہ بادشاہ ہوتے ہیں تبدیل ہونے والے غلام ۔تالی کون بجاتا ہے اور آپ کب تک تالیاں بجائیں گے اس پر بھی وقت رہتے غور کر لیں تو بہتر ہے ۔

عمر فراہی ۔۔۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.