شیخ پورہ قدیم سہارنپور میں عظیم الشان مشاعرہ

0

 

سہارنپور : 17اکتوبر کی شام سہارنپور کے باوقار شاعر مولانا ذاکر الہی مظاہری کے قمر ادبی سوسائٹی مظفر نگر میں دئے گئے مصرع طرح پر۔۔دوم پوزیشن لانے اور موصوف ہی کی کتاب۔۔ہمارا تابناک ماضی اور کرب ناک حال ۔۔کے اجراء کے سلسلے میں ایک محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا

ایک مخصوص اعزازی محفل شعروسخن بہ عنوان ایک شام ایک فنکار کے نام کا انعقاد شیخ پورہ قدیم سہارنپور میں بڑے کروفر کے ساتھ کیا گیا

جس میں عبدالحق سحر مظفرنگری نے صدارت فرمائی

عبداللہ راہی دیوبندی
فیاض ندیم سہارنپور نے بطور مہمانان اعزازی شرکت کی پروگرام کی نظامت آثم پیرزادہ صاحب نے کی
پروگرام کی شمع سکندر حیات کیلاش پوری اور خرم سلطان صاحب نے مشترکہ طور پر روشن کی اس نشست کی نظامت نوجوان ترقی پسند شاعر آثم پیرزادہ نے اپنے خوبصورت اور منفرد انداز سے کی
پروگرام سے قبل ناظم مشاعرہ عاصم پیرزادہ نے عبداللہ راہی کی شخصیت اور ان کی فنکارانہ عظمتوں پر اظہار خیال کیا محترم عدیل تابش نے عبدالحق سحر مظفرنگری کی ادبی خدمات اور ان کے کار ہائے نمایاں پر تفصیل سے روشنی ڈالی

مشاعرہ کے کنوینر اشرف ہلال قاسمی نے تمام مہمانان کرام کی خدمت میں استقبالیہ پیش کیا

پروگرام میں دیوبند اور سہارنپور کے معزز شعرائے کرام اساتذہ کرام صحافی حضرات کے علاوہ سامعین نے خاصی تعداد میں شرکت کی پروگرام بعد نماز عشاء مولانا ذاکر الہی کی نعت پاک سے شروع ہوکر کر دیر رات دو بجے نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جن شعراء کو زیادہ پسند کیا گیا ان کا ایک ایک شعر باذوق سامعین کی خدمت میں پیش ہے

ہم تم اگر ملیں تو مکمل ہو زندگی
خوشیاں تمہارے پاس ہیں غم میرے پاس ہیں
عبداللہ راہی دیوبندی

سب کی نگاہ اٹھتی ہے اس پھول کی طرف
بستا جو لے کے جاتا ہے اسکول کی طرف

عبدالحق سحر مظفرنگری

تمام دن کی تھکن جسم سے لپیٹے ہوئے
اداس شام کی دہلیز پر کھڑا ہوں میں

کاوش ثمر دیوبندی

ہم نئے دور کے تشنہ لب ہیں ہمیں
پیاس ہے اور پانی نہیں چاہتے ہیں

مولانا ذاکر الہیٰ

جوشِ جنوں میں چاک گریبان کر لیا
بے کار اک قمیص کا نقصان کر لیا
عاصم پیرزادہ

 

سورج کو چھو کے دیکھ لیں وہ ہاتھ بھی نہیں
توفیق دے خدا تو بڑی بات بھی نہیں
فیاض ندیم

جوش میں پرچم اسلام نکل آتے ہیں
اور اذاں سنتے ہی کچھ کام نکل آتے ہیں

خرم سلطان

 

دیکھا بلکتے بھوک سے بچوں کو جس گھڑی
ہاتھوں سے گر پڑی مرے تیلی خلال کی

اشرف ہلال قاسمی

دل کو ہوئی ہے آج کسی کی تلاش پھر
یہ جھیل تھی خموش ہوا ارتعاش پھر

عدیل تابش

 

اس موقع پر افضال صدیقی ماسٹر نظام الدین مولانا ارشد مفتاحی اور حافظ بلال مفتی سعدان صدیقی راؤ محمد عرفان کی موجودگی قابل ذکر ہے اس موقع پر فیاض ندیم کے شعری مجموعے بنیاد کی ایک ایک جلد مہمانان کو پیش کی گئ

پروگرام کے اختتام پر عاصم پیرزادہ اشرف ہلال قاسمی اور ذاکر الہی مظاہری نے مہمانان کرام اور شعراء کرام کا شکریہ ادا کیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.