"انا”

0
عباس دهالیوال
ملیرکوٹلہ پنجاب
رابطہ .9855259650
           "انا”
تیری وہ خمار بھری نظر
جو اکثر میری طرف
ٹکٹکی باندھے دیکھتی
میرے من میں اک احساس
جاگتی آنکھوں کا خواب
 کتنے اَن کہے! ان چھوئے جزبات واحساسات
تیری اُن جھیل سی آنکھوں کے بیچ
آتے تھے تیرتے ہوئے مجھکو نظر
زندگی کی بھاگ دوڑ میں…شاید تم..!
 کسی کی تلاش میں تھے.
جو تمہارے دل میں پنہاں
خواہشوں کو پورا کر ے.
لیکن ہم دونوں تھے اب تک
اجنبی ایک دوجے کے لیے .
پھر اِک دن اتفاق سے دونوں ملے
اب ہم ایک تھے.
اتنے قریب! اتنے قریب..!
 کہ قربت کی پربھاشا کہیں
تو بالکل ٹھیک.
 زندگی کے سفر پہ پھر
 دونوں ہمسفر بن کر چلے
اور مسلسل چلتے رہے
 پھر نہ جانے کب
 کسی حادثہ کے پیش نظر.!
ایک دوجے کے ذہن ودل سے.
 دور تھے ہم ہونے لگے..
اِک جھوٹی” انا” کی خاطر.!
دونوں نے اپنے بیچ پیدا
صدیوں کے فاصلے کر لیے
پھر سے اجنبی بن گئے
زندگی کے سفر میں اب
دونوں نے تھے نئے ہمسفر چن لیے.
غیروں سے، رشتے بن لیے.
لیکن کہاں.! پھر بھی ہم.
زندگی سے اپنی تھے مطمئن ہو سکے.!
ایک دوسرے کو کھو کر جانے کہاں..!
 یہاں.!وہاں بھٹکتے رہے.
بے شک تھے اب دونوں کے دل،
 ملنے کے لیے بہت مجبور.
لیکن وہ جھوٹی "ا نا”
اب بھی تھی دونوں کے بیچ موجود
تمہاری "انا "کہ پہلے میں بلاؤں.
میری ” انا "کہ پہل تو کرے.
اسی "انا ” کے جھگڑے میں
 تھی کتنی صدیاں بیت گیئں.!
لیکن پھر یہ انا بھی ہوئی ،
ٹوٹ کر چُور.! چور.!
لیکن اب ہم کیسے ملیں..
 کس لیے کیونکر ملیں..
اب کہ جب ہے زندگی
 جانے کو خود سے بہت دور..
 بہت دور… بہت بہت دور…. !

Leave A Reply

Your email address will not be published.