اس دور کو پھر سید احمد کی تلاش ہے 

0
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ہر سال فرزندان علیگڑھ مسلم یونیورسٹی 17 اکتوبر کو یوم سر سید مناتے ہیں ۔ اس موقع پر سرسید، ان کے کارہائے نمایاں اور اپنے زمانہ طالب علمی کو یاد کیا جاتا ہے ۔ سید کے آستانہ سے اٹھنے والا ابر اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سارے جہاں پر برس رہا ہے اس کا فخریہ بیان ہوتا ہے ۔ سرسید کے مشن کو آگے بڑھانے، ان کی یادگار قائم کرنے، اپنے گریبان میں جھانکنے اور احسانات کا حق ادا کرنے کا سرسید کے سفیر عہد کرتے ہیں ۔ پھر ترانہ پڑھا جاتا ہے "یہ میرا چمن ہے یہ میرا چمن میں اپنے چمن کا بلبل ہوں” اس سے آنکھیں تو نم ہوتی ہی ہیں ساتھ میں دل کے جزبات بھی دھل جاتے ہیں ۔ ڈنر کی جھوٹی پلیٹ ڈسٹ بن کے حوالے کر کے تمام عہد و پیماں اور جزبات سے بے نیاز ہو کر اگلے دن سے اپنی دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں ۔ یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے اور شاید آگے بھی اسی طرح جاری رہے ۔ اکبر الہ آبادی نے ایسے ہی ہوائی شہسواروں کے لئے کہا تھا؛
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں، حکام کے ساتھ،
رنج لیڈر کو بہت ہیں، مگر، آرام کے ساتھ،
اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ سرسید کے وارثوں نے کچھ کام نہیں کیا بلکہ وہ اپنی صلاحیت، وژن، اختیار، وسائل اور سماجی اعتماد کی بنیاد پر ملک میں علم و عمل کی بستیاں آباد کرنے کا جو کام کر سکتے تھے اس سے غافل رہے ۔ خاص طور پر شمالی ہند میں علیگڑھ کے سالاروں کی پوری توجہ سرسید اور ان کے رفقاء کی آرزؤں کے مطابق سماجی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے خود پر مرکوز رہی ۔ سیاسی جماعتوں نے اس کا فائدہ اٹھایا لیکن قوم کا کوئی بھلا نہ ہو سکا ۔ اس کی وجہ سے قوم کے دل میں علیگڑھ کی جو محبت، احترام اور وقار تھا جس کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی وہ جاتا رہا ۔ یہ سرسید اور ان کے رفقاء دعا اور بے پناہ کوششں کا نتیجہ تھا ۔ اسی کے طفیل علیگ برادری کے درمیان بھائی چارہ، عزت و احترام کا جو جزبہ پایا جاتا ہے وہ بھی اپنے آپ میں مثال ہے ۔ علی گڑھ کے سابق طلباء سماج کے بھروسے، ان کے عل گڑھ سے لگاؤ اور ملک کے ہر شہر، قصبہ، دیہات میں اپنی موجودگی کا استعمال اصلاح قوم اور تعمیر ملت کے لئے کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ووٹ کی سیاست کے لئے اس کا استحصال کیا ۔ نتیجہ کے طور پر علی گڑھ تحریک دھیرے دھیرے عوام میں غیر محترم ہو گئی ۔ بقول پروفیسر اخترالواسع پنڈت نہرو نے اپنی آپ بیتی میں سرسید کے سیاست سے گریز کو صحیح قرار دیتے ہوئے لکھا ہے؛
"بغیر تعلیم کے میرا خیال ہے کہ مسلمان جدید طرز کی قومیت کی تعمیر میں کوئی حصہ نہیں لے سکتے تھے بلکہ یہ اندیشہ تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہندوؤں کے غلام بن جائیں گے جو تعلیم میں بھی ان سے آگے تھے اور معاشی اعتبار سے بھی زیادہ مضبوط تھے ۔”
سرسید کا کارنامہ محض محمڈن کالج قائم کرنا، رسائل و کتب شائع کرنا یا پورے ملک میں تعلیمی کانفرنسیں منعقد کرنا نہیں تھا ۔ یہ ان لامحدود تحریک کا ایک جز ہے ۔ سرسید کا اصل کارنامہ قوم کے مرض کی تشخیص اور اس کا علاج کرنا ہے ۔ مسلمان "پڑھے فارسی بیچے تیل” کی کیفیت سے گزر رہی تھی ۔ انہوں نے محو غم دوش امت کو فکر فردا کا راستہ دکھایا ۔ ان کے ذہنوں پر طاری جمود اور احساس کمتری کو دور کر شعور بیدار کیا ۔ مسلمانوں کی اس بد اعتقادی کو کہ انگریزی و جدید تعلیم ان کے بچوں کو دین سے گمراه کر دے گی دور کر تعلیم حاصل کرنے کے لئے رضا مند کیا ۔ ان کے لئے تعلیم وتربیت کا نظم کیا ۔ سرسید عصری تقاضوں سے بھی واقف تھے اور وقت کی رفتار بھی ان کے سامنے تھی ۔ انہوں نے عصری تقاضوں اور وقت کی رفتار کو ہم آہنگ کرنے کے لئے قوت آزمائی کی جگہ مصالحت، حریف کے بجائے حلیف، مجادلہ اور مناظرہ کے بدلے مکالمے سے شکستہ و تاراج ملت کے معاملات حل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ان کی یہ حکمت عملی کام آئی، انہوں نے اسباب بغاوت ہند لکھ کر1857 میں مسلمانوں کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا انگریزوں کو احساس کرایا ۔ سرکاری تنظیموں میں ہندوستانیوں کی نمائندگی کا مطالبہ کیا اور علیگڑھ سے تعمیر ملت کی تحریک شروع کی ۔ وہ چاہتے تھے کہ قوم تاریکی سے نکل کر اپنا کھویا تشخص عزت و وقار دوبارہ حاصل کرے ۔
سرسید نے قوم کی اصلاح وترقی کا بیڑا اس وقت اٹھایا جب مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ تھا ۔ اہل وطن اپنے سماج کی اصلاحی کے بہانے انگریزوں کے قریب ہو کر ترقی کر رہے تھے ۔ ان کی اصلاحی تحریک میں انگریزوں کی مدد سے مسلم اقتدار سے نجات، مسلمانوں سے فاصلہ قائم کرنا اور سناتن دھرم کے ماننے والوں کو متحد کرنا شامل تھا ۔ مسلمان اسی ملک میں بیگانے ہو کر رہ گئے تھے جہاں کبھی ان کا اقتدار تھا ۔ سرسید نے اپنی بصیرت سے ان تبدیلیوں کا مشاہدہ کر تہذیب کا نیا تصور دیا ۔ اور دور غلامی میں تعلیمی آزادی کا معرکہ کامیابی کے ساتھ سر کیا ۔ انہوں نے مسلم ایجوکیشن کانفرنس کے ذریعہ پورے ملک (جس میں بنگلہ دیش، پاکستان بھی شامل تھا) کو یہ باور کرایا کہ آزادی اور ترقی کا حقدار وہی معاشرہ ہوگا جو سیاسی شعور کا حامل ہو ۔ سیاسی شعور ان کا مقدر ہوگا جو تعلیم کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہوں ۔ ان عوامل پر دھیان دیں تو سرسید کی فکر سے اب بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے ۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ قوم کو پھر مشکل اور نامساعد حالات کا سامنا ہے ۔ اپنے وجود، مستقبل کو لے کر فکر مندی اور تاریکی نظر آتی ہے ۔ سرسید کے زمانہ میں جو حالات تھے ان میں اور تنزلی آئی ہے ۔ پہلے شاید کبھی بھی آج جیسی مذہبی تفریق اور ڈر کا ماحول نہیں تھا ۔ اکثریتی طبقہ کی ہر محرومی کے لئے مسلمانوں کو ذمہ دار بتانے کی سوچ اور انتظامیہ سے لے کر عدلیہ تک قانون کے نفاذ میں مذہب کی بنیاد پر تفریق کبھی دکھائی نہیں دی ۔ مسلمانوں سے ملک کی اکثریت کو ڈرانے کے بول بھی کبھی اتنے سر چڑھ کر نہیں بولے گئے ۔ پہلے رواداری اور لوگوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کی شرم تھی لیکن نئی نسل اس سے عاری ہے ۔ وہ گاندھی کے عدم تشدد کے نظریات سے بھی ناواقف ہیں ۔ اس لئے حالات بد سے بد ترین ہوئے ہیں ۔ اس صورتحال میں ملک کو پھر کسی سرسید کی ضرورت ہے ۔ دو سو سال میں سرسید جیسا کوئی دوسرا رہنما پیدا نہیں ہوا یہ غور کرنے کی بات ہے ۔ سرسید کے سالار یا ملت کے سفیر مستقبل قریب میں کیا کوئی ایسی تحریک چلا پائیں گے، جو قوم کی موجودہ حالت بدلنے میں معاون ہو؟ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ۔ مگر اس دور کو کیا پھر کسی سید احمد کی تلاش ہے ۔ اس بات پر غور ضرور کیجئے گا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.