ایک ارب ہندوستانیوں کی ٹیکہ کاری  کووڈ-19 کی ویکسین فراہمی کا ہمالیائی اسکور قابل رشک

0
محمدشرافت علی
ہندوستان ایک ارب افرادکو کووڈکاٹیکہ فراہم کرانے کا ہمالیائی نشانہ چھونے جارہاہے۔حکومت ہند کے اعدادو شمار بتارہے ہیں کہ اب تک 99.12 کروڑ (99,12,82,283)ہندوستانیوں کوکووڈکا ٹیکہ لگایاجاچکا ہے۔ یوں چند ایک روز میں ایک ارب افراد کوٹیکہ لگانے کا عظیم نشانہ ہندوستان پار کرلے گا۔اس نشانے کو حاصل کرنے کیلئے 97,99,506 سیشنوں کا انعقاد کیا گیاہے۔
بھارت کے قومی ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ برائے امیونائزیشن (کووڈورکنگ گروپ)کے صدرڈاکٹر ای کے اروڑاہندوستان کی اس حصولیابی کو ایک سنگ میل سے تعبیر کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آنے والے تین ماہ میں ملک کے پاس تقریباً90 کروڑ خوراک دستیاب ہوں گی۔کووڈ ٹاسک فورس کے اہم رکن ڈاکٹراین کے اروڑاکے اس خیال سے اتفاق نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں کہ ہندوستان نے نہایت کم وقت میں کووڈ19-سے بچاؤکاٹیکہ عام لوگوں تک پہنچایا۔دراصل ہندوستان کیلئے یہ آسان بھی نہیں تھا کہ اتنے کم وقت میں حاشیہ پر کھڑے عام ہندوستانیوں تک مفت ویکسین کی فراہمی کو یقینی بنائے،لیکن ویکسین کی تیاری اور اس کی سپلائی کے معاملہ میں خودکفالت کایہ نتیجہ ہے کہ 10 ماہ سے بھی کم مدت میں ہندوستان 100کروڑافرادکی ٹیکہ کاری کے ہدف کو چھو رہاہے۔کووڈ ٹاسک فورس کے اہم رکن ڈاکٹر این کے اروڑااس حصولیابی کوقابل ذکر تصور کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک بڑی آبادی تک ویکسین اس وجہ سے پہنچ سکی،کیونکہ ہم نے ٹیکہ تیار کیااوراس کی ترسیل بھی قومی سطح پر کی گئی۔یہ کام راتوں رات انجام نہیں پایا بلکہ پورے ایک،ڈیڑھ سال کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
ہندوستان میں کوئی94کروڑبالغ افرادکی آبادی ویکسین لینے کی اہل ہے اوریہ کم حیرت انگیز صورتحال نہیں ہے کہ کچھ ریاستوں میں 100فیصد افرادنے ویکسین کی پہلی ڈوز لے لی ہے۔ویکسین کی تیاری وسپلائی کے تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ آئندہ 3ماہ میں 70-80افرادکی ٹیکہ کاری ہوسکتی ہے۔ چونکہ کوروناسے بچاؤکیلئے ٹیکہ ہی اب تک واحد’علاج‘ہے کہ اس سے مدافعت کی صورت پیدا ہوتی ہے،لہٰذاٹیکہ کاری اس ضمن میں کس حد تک لازمی ہے،یہ ہر کوئی بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ہندوستان جیسے ملک میں جہاں کی70-80فیصد آبادی کوروناکی دوسری لہرکے دوران متاثرہوئی،یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مدافعت کے نظام کو مستحکم کرنا کتناضروری ہے۔اوریہ تبھی ممکن ہے،جب 100 فیصدٹیکہ کاری کے ذریعہ مکمل آبادی کوکوروناسے بچاؤکے لائق بنالیاجائے۔یہی وہ نکتہ ہے،جسے ذہن میں رکھ کرہندوستان نے کووڈ-19 کی ٹیکہ کاری کا عمل شروع کیااورنہایت قلیل مدت میں ایک بڑی آبادی تک ویکسین کی فراہمی کویقینی بنانے میں کامیابی حاصل کی۔
وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق ٹیکہ کاری کے تحت جو رہنماخطوط متعین کئے گئے،اس کی روشنی میں اولیت انہیں دی گئی،جنہیں ہم کوروناویریئر کہتے ہیں۔یعنی حفظان صحت سے متعلق کارکنان اور صف اول سے تعلق رکھنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرس کوترجیحی طورپرکوروناسے بچاؤکیلئے ٹیکہ لگانے کا فیصلہ کیا گیااور اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ 1,03,76,101ایسے لوگوں نے پہلی خوراک لے لی ہے، جوحفظان صحت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔کووڈ19-کی دونوں خوراک لینے والے حفظان صحت سے متعلقہ کارکنوں کی مجموعی تعداد 90,98,715ہوچکی ہے۔ اسی طرح 1,83,62,683فرنٹ لائن ہیلتھ کارکن نے پہلی خوراک لی ہے،جبکہدوسری خوراک لینے والے صف اول کے صحت کارکنوں کی تعداد1,55,81,720ہوچکی ہے۔قومی سطح پرپہلی خوراک لینے والے18 سال سے 44 سال تک کی عمر کے افرادکی مجموعی تعداد39,73,05,720ہوچکی ہے،جبکہ 18 سال سے 44 سال کے11,57,29,771لوگوں نے دوسری خوراک بھی لے لی ہے۔وزارت صحت کے اعدادوشمارکے مطابق ملک میں 45  سال سے 59 سال تک کی عمر کے16,88,22,731 افرادنے پہلا ڈوز لے لیا ہے،جبکہ اس عمرکے دونوں ڈوز لینے والے افراد کی مجموعی تعداد8,76,73,217ہوچکی ہے۔پہلی خوراک لینے والے60 سال سے زیادہ عمروالے افرادکی تعداد10,62,77,396ہے،جبکہ دوسری خوراک لینے والے 60سال سے زائدعمروالوں کی تعداد6,20,54,229پہنچ چکی ہے۔اس طرح ملک میں 99,12,82,283افرادکی کووڈ کی ٹیکہ کاری ہوچکی ہے،جو اپنے آپ میں ایک اہم ریکارڈہے۔
ہندوستان نے کوروناوائرس سے بچاؤکا ٹیکہ تیار کرنے اوراس کی ترسیل کو یقینی بنانے کی جو کوشش کی،وہ لائق ستائش ہے۔اول اول جب دنیا بھر کے طبی ماہرین نے کووڈ19-سے بچاؤکا ٹیکہ تیارکرنے کی تحقیقی کوششوں میں مصروف تھے،جب بھارت نے بھی دنیابھر کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہی طبی تحقیق کا عمل شروع کیا اوراس ضمن میں اسے خاطرخواہ کامیابی بھی ملی۔یوں 2020کے اختتامی ایام اور2021کے آغازکو ہندوستان میں کووڈ کی ٹیکہ کاری کیلئے سنگ میل سے تعبیر کیاگیا،کیونکہ سال کی شروعات ہی اس خبر کے ساتھ ہوئی کہ ہندوستان نے کووڈسے بچاؤکیلئے ٹیکہ کاری کا عمل شروع کرنے جارہاہے۔ٹیکہ کاری کے باضابطہ آغاز سے قبل بھارت نے2جنوری2121کو قومی سطح پر ایک مشق کااہتمام کیا،جس کے تحت ملک کی تمام ریاستوں کے ساتھ ساتھ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 125ضلعوں پر محیط286سیشن مقامات پر کووڈ کا ٹیکہ لگانے کی مشق کی گئی۔ ہر ضلع نے تین یا ا س سے زیادہ مقامات پر مشق کا اہتمام کیا، جن میں پبلک(سرکاری) صحت کی سہولیات (ضلع اسپتال، میڈکل کالج) نجی اسپاتل اور گاؤں یا شہری آؤٹ ریچ مقام شامل تھے۔ سبھی ریاستی اور ضلع افسروں کو اس مشق کے آپریشنل رہنما خطوط کے بارے میں تربیت دی گئی۔ اس مشق کا مقصد کووڈ19 ٹیکہ کاری کیلئے صحت کے نظام میں طے کیے گئے نظام کا ٹسٹ کرنا اور بلاک، ضلع اور ریاستی سطح پر نفاذ، منصوبہ بندی اور رپورٹنگ کیلئے بہتر ماحول میں کو-ون ایپلیکشن کے استعمال آپریشنل عمل پذیری تک رسائی کرنا تھا۔
ذہن نشیں رہے کہ کووڈ19-کی ٹیکہ کاری کے عمل کوآسان کرنے کیلئے  صحت وخاندانی بہبود کی وزارت ایم او ایچ ایف ڈبلیو کی طرف سے کو-ون سافٹ ویئرتیار کیاگیا تاکہ ویکسین کے اسٹاک، ان کے اسٹوریج کے درجہ حرارت اور کووڈ19 ٹیکے کیلئے مستفیدین کی انفرادی ٹریکنگ کے بارے میں صحیح معلومات لی جاسکے۔
کووڈ-19 ویکسین کی ملک بھر میں کنٹرول والے ماحول میں آخری سطح تک ڈلیوری ہوسکے، یہ یقینی توبنایاہی گیا،ساتھ ہی کووڈ-19 ٹیکہ کاری مہم شروع کرنے کیلئے سرینج اور دیگر لاجسٹک سامان کی سپلائی نظام کوبھی متعارف کرایاگیا۔ اس طرح 16جنوری2021کو قومی سطح پر ٹیکہ کاری کا باضابطہ آغاز ہوا، وزیر اعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پورے بھارت میں کووڈ-19 کی ٹیکہ کاری مہم کی شروعات کی۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا ٹیکہ کاری پروگرام تھا جس میں ملک کے پورے طول وعرض کا احاطہ کیا گیاتھا۔ ٹیکہ کاری کی شروعات کے دوران تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے کل ملاکر 3006 مقامات کو ورچوئل طور پر آپس میں جوڑ اگیا تھا۔
ٹیکہ کاری کے عمل کو مختلف ادوارمیں تقسیم کیاگیا۔ پہلے دور میں تین کروڑ لوگوں کو ٹیکہ لگانے کا ہدف مقررکیاگیا،جبکہ دوسرے دور میں یہ تعداد 30 کروڑ تک پہنچ گئی، جب بزرگ لوگوں اور کئی امراض کے شکار لوگوں کو ٹیکہ لگایاگیا۔اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے تمام ہندوستانیوں کوٹیکہ لگانے کاعمل آگے بڑھااور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستان نے نہایت کم وقت میں ٹیکہ کاری کے تحت ایک ارب لوگوں کو کووڈ19-سے بچاؤ کا ہمالیائی نشانہ چھونے جارہاہے۔دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم  کے تحت باشندگان ملک تک کووڈ19-کی خوراک فراہمی یقینا سائنسدانوں نیز طبی ڈاکٹروں، نرسنگ عملوں اور صحت عامہ سے وابستہ افراد کی فراخدلانہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔نیتی آیوگ (صحت) کے رکن ڈاکٹر ونود پال نے ٹیکہ کاری کے اہم سنگ میل پرروشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابتدائی طور پر ملک بھر میں صرف تین ہزار حفاظتی ٹیکے لگانے والے مراکز تھے جبکہ آج ان کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ ہوگئی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم روزانہ 7سے 8ملین افراد کو ویکسین دے سکتے ہیں جو کہ کچھ ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔ بہت سے ممالک نے یہ سوچا تک نہیں تھا کہ ہندوستان جیسی بڑی آبادی والے ملک میں اتنی بڑی تعداد میں ویکسین نو ماہ سے بھی کم عرصے میں دی جا سکتی ہے اور یہ تب ہی ممکن تھا جب دو ویکسین خود ہندوستان کی سرزمین پر بنائی گئی تھیں۔ ایک خود کفیل ہندوستان کی اس سے بہتر مثال کیا ہوسکتی ہے؟
ہندوستان اسی کے ساتھ ایک اور معرکہ سر کرنے جارہاہے،کیونکہ بچوں کو بھی جلد ہی کوروناسے بچاؤ کا ٹیکہ لگایاجاسکے گا۔اس ضمن میں ٹرائل کی کامیابی کی خوشخبری ہم سن چکے ہیں۔اب جلدہی بچوں کیلئے بھی ویکسین کی فراہمی کی گنجائش نکل جائے گی او ر اس کے ساتھ ہی ہر ایک ہندوستانی تک ویکسین کی فراہمی کاخواب جلد ہی پورا ہوجائے گا۔
رابطہ:urdu.author@gmail.com

Leave A Reply

Your email address will not be published.