صدقہ و خیرات انجانے سقم و مصیبت و آلام سے نجات کا بہترین رستہ ہے

0

 

۔ نقاش نائطی
۔ +966562677707

*نصف صد سالہ قبل گاؤں دیہات میں ڈاکٹروں کا فقدان تھا۔ ایک آدھ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تو باقی دو ایک، آرایم پی ڈاکٹرس۔ ہومیوپیتھی کے حکیم دو ایک،لیکن ان ڈاکٹروں کے فقدان باوجود پورا معاشرہ صحت مند رہتا تھا۔ ہر گھر میں نانی آمان کے جڑی بوٹیوں کا ایک کالا کلوٹا ڈبہ ضرور ہوتا تھا۔ عموما لوگ بیمار کم ہوتے تھے، لیکن اگر کسی کو کوئی مرض لاحق ہوجاتا تو پہلے 24 گھنٹے نانی آمان کے جڑی بوٹی نسخے آزمائے جاتے۔ پھتر کی سیل پر رگڑ کر،کسی جڑی بوٹی کے عرق کو پلایا جاتا اور مریض ٹھیک ہوجاتا تھا ۔ 24 گھنٹہ بعد گر افاقہ نہ ہوتا تو ہومیوپیتھی حکیم سے دوائی منگوائی جاتی اور اگر پھر بھی افاقہ نہ ہوتا تو کسی ڈاکٹر کو بلانے کی نوبت آتی تھی۔ کسی کے گھر کوئی ڈاکٹر پہنچتا تو محلے سے خبر ہوتے ہوتے ہوئے، پورے گاؤں کو خبر ہوجاتی تھی کہ فلاں گھر میں کوئی مریض، کسی مرض میں مبتلا ہے فلاں ڈاکٹر کو دکھایا گیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ دو دن کے علاج کے بعد بچے سقم سے پاک صحت یاب کھیلنے نہیں شروع ہو جاتے تو، وقت المغرب مسجد کے نمازیوں کے ہاتھوں پھونک مارنے بچے کو مسجد کے پاس بھیج دیا جاتاتھا۔ اور یوں اللہ کے شافی الکل الامراض ہونے کے یقین کے چلتے، ننانوے فیصد مریض صحت یاب ہوجایا کرتے تھے۔ اللہ پر اور اسکے نمازیوں کے پھونک پر اتنا بھروسہ تھا کہ ڈاکٹروں ویدوں کے پاس ٹھیک نہ ہوسکنے والے مریض بھی، نمازیوں کی پھونک کے دم پر صحت یاب ہوجایا کرتے تھے۔*
*وہ مریض بھی ہم ہی تھے اور ہمیں پھونک مار صحت یاب کرنے والے نمازی بھی ہم جیسے ہی تھے۔ ڈاکٹر البتہ آج کے ڈاکٹروں کے مقابلے کم پڑھے لکھے تھے لیکن پھر بھی ہمارے مرئض صحت یاب یوجایا کرتے ہیں یہ اس لئے تھا کہ کل کچھ سال پہلے تک ہم میں اللہ کی ذات ، اسکے شافی کل الامراض ہونے پر یقین کامل تھا۔ آج بھی اللہ کی ذات پر یقین کامل ہونے کا ہم یقین دلاتے ضرور ہیں لیکن ہمیں خود اللہ کی ذات پر یقین نہیں رہتا ہے اسی لئے تو اکثر ہمیں یہ کہتے سنا گیا ہوگا کہ بغیر علاج کے اللہ تھوڑی نا صحت دیا کرتا ہے؟ہمیں تو اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو دکھانا پڑیگا۔ منگلور یا قریبی شہر تک لیجاپڑیگا۔ تب جاکر تواللہ شفا دیگا؟ کہاں ہورہی ہے شفا یابی ان ڈاکٹروں کے ہاتھوں۔ کوئی بتائے اگر ڈاکٹروں کےہاتھوں شفا ہونامقصود ہوتا تو پھر، کیوں کوئی مریض شہر کے اچھے سے اچھے ڈاکٹروں کی نگرانی میں، بہترین سے بہترین طبی سہولیات والے ہاسپٹل میں، ڈاکٹروں کی پوری ٹیم کی نگرانی میں، علاج معالجہ چلنے کے باوجود، ان ڈاکٹروں کی رہنمائی آپریشن اور دیگر لوازماتی ٹیسٹ، سب کرائے جانے کے باوجود، مریض نہ صرف جانبر نہیں ہوپاتا ہے بلکہ اس کے انتقال کرجانے کے باوجود مرئض کے اعزہ اقرباء کو مریض کے علاج پر ہوئے،تیس تیس،چالیس چالیس لاکھ روپئوں کے بقایا بل ادا کرنے پڑتے ہیں؟ جب ہم مسلمان اپنے اللہ پر ایمان کامل سے پرے، ڈاکٹروں ہی کو اللہ کے مقام، شافی کل الامراض پر متمکن کئے ہوتے ہیں تب اللہ ہی اوپر عرش معلی پر براجمان یہ سب دیکھ رہا ہوتا ہے اور وہ ہمیں اپنے اعتماد و بھروسے مطابق، ہمیں ان ڈاکتروں کے ہاتھوں لٹنے اور کٹنے کے لئے چھوڑ ڈھیل دے رہا ہوتا ہے اور ہم اپنے اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کے اعتبار سے مقروض بن اللہ ہی کی حمد و ثناء کرتے واپس آرہے ہوتے ہیں۔*

*آج کی میڈیکل دنیا انسانیت کی خدمت شفایابی کی توزیع کم، کسی نہ کسی بہانے مریضوں کو لوٹنے اور زیادہ سے زیادہ پیسے ایٹھنے کی فکرمیں غرق اپنے مریضوں کو زیادہ لوٹتے پائے جاتے ہیں۔ اگر ڈاکٹروں کی دوائیوں میں ہی شفایابی لازم ملزوم ہوتی تو اللہ کے رسول صلی اللہ وعلیہ وسلم کے سجھائے خاک شفا کے نسخے، یا مختلف امراض کے لئے جدا جدا دعاؤں کے سمجھانے کا کیا مطلب تھا؟ آج بھی ہومیوپیتھی ڈاکٹروں یا عام سے ایم بی بی ایس ڈاکٹروں سے دوا لئے، صحت یاب ہونے والے ہزاروں مریضوں کو شفا کون دیتا ہے؟ یا مسلمانوں کی مسجدوں کے باہر کسی کافر بڑھیا کی گود میں سقم سے لاغر بچے کو ہم جیسے گئے گزرے نمازیوں کی پھونک کے سہارے شفا یاب کون کراتا ہے؟ لاعلاج مرض تو کجا مالداروان کے امراء مریض کو لاحق معمولی مرض کے باوجود، آج کے دنیوی ترقی یافتہ ڈاکٹر کیوں کر، اپنے مریضوں کو بچا نہیں پاتے ہیں؟ یہی وہ بھگوان ایشور اللہ کی ذات پر بھروسے کا فقدان ہے جو ہمیں اب تک، ایک حد تک دعاکے سہارے شفایاب کئے جارہا ہے*
*سب سے اہم نسخہ صحت یابی کا، اللہ کے ضرورت مند بندوں کی وقت رہتے مدد و مشکل کشائی کر، مشکل کشاء خالق کائینات کو اپنے مرض کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ اللہ کی راہ میں دیا صدقہ و خیرات یقینا آخرت کے اجر سے کہیں زیادہ، ہم پر سقم و آزمائش کے بہانے تکلیف میں مبتلا کئے مصیبت کے پہاڑ سے، وقتی یا دائمی نجات دلانے کی ہے اور یقینا اللہ ہمارے دلوں کا حال بخوبی جانتا ہے وہ محتاج نہیں ہمارے صدقہ و خیرات کا ، لیکن اس نے اس خود کار عالم کو چلانے کے لئے، کسی ضرورت مند کی حاجت روائی کے لئے کسی نہ کسی کو آگے کرنا ہی ہوتا ہے۔ ہم خود اس رب دو جہاں کی منشاء مطابق انسانیت کی خدمات پر اپنےآپ کو معمور کرتے ہیں تو یقینا وہ رب دو جہاں بھی، ہمیں اپنے اسقام اپنی مصیبتوں سے نجات دلانے پیش پیش پایا جاتا ہے۔واللہ الموافق بالتوفئق الا باللہ*

Leave A Reply

Your email address will not be published.