علامات منافق

0 222

 

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی اور اپنے احکام کی جانکاری دینے کیلئے پیغمبروں کا سلسلہ جاری فرمایا تاکہ انسان اللہ کے بھیجے ہوے نبی و رسول کی اتباع و پیروی کرتے ہوے مرضیات الہی کے مطابق اپنی زندگی گزارے لیکن بہت سارے انسانوں نےاپنے نبی کی نافرمانی ہی نہیں بلکہ ان کی جان کے دشمن ہوگیے اور جو لوگ دین حق کو قبول کرتے انہیں بھی طرح طرح کی تکلیفیں اور اذیتیں پہچاتے رہیں سب سے اخیر میں اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزماں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول بناکر مبعوث فرمایا لوگوں نے آپ کو بھی اور آپ کے اصحاب کو بھی طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں حتی کہ اپنا آبائی وطن مکہ مکرمہ کو چھوڑ نے پر مجبور کردیا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحکم الٰہی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی آپ کے مدینہ آجانے کے بعد جوق در جوق لوگ دایرہ اسلام میں داخل ہونے لگے اور مسلمان اکثریت میں آگیے اسلام کا یہ غلبہ دیکھ کر وہ لوگ جن کا دل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض وعداوت اور نفرت وتعصب سے لبریز تھا، اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہچانے کے لیے منافقت کا راستہ اختیار کیا۔اصطلاح شرع میں منافق ایسے شخص کو کہتے ہیں جو ظاہری شکل وصورت میں مسلمان اور ارکان اسلام کا پابند ہو لیکن در پردہ عقائد کفریہ پر قائم ہو یا اسلامی عقائد کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہو ، چنانچہ ان منافقوں نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ مسلمان کالبادہ اوڑھ کر مسلمانوں میں شریک ہوجائیں تاکہ جان ومال محفوظ رہے اور مال غنیمت کا بھی حقدار بن جائیں، مدینہ منورہ کے بعض یہودی اور اوس و خزرج کے بعض افراد اس میں شامل تھے اور تمام منافقوں کاگروگھنٹال سردار عبداللہ بن ابی بن سلول تھا انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا نے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا کافروں کی مجلس میں جاکر راز افشاء کرتے اور مسلمانوں کی مجلس میں وفا کا دم بھرتے جھوٹ، گالی گلوچ اور خیانت ان کی امتیازی صفات تھیں۔
منافق کی دوقسمیں ہیں
منافق اعتقادی اور منافق عملی منافق اعتقادی ایسے شخص کو کہتے ہیں جو بظاہر مسلمان اور ارکان اسلام کا پابند ہو لیکن در پردہ کفریہ عقائد پر قائم ہو ان کے کافر ہونے میں کوی شبہ نہیں ہے۔ قرآن کریم میں انہیں کے ناشائستہ اعمال وافعال کاتذکرہ ہے قرآن مجید میں مکمل ایک سورت سورہ المنافقون ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جسمیں ان کی بری عادتوں کو بیان کیا گیا ہے ایسے منافقوں کو جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں رکھا جائے گا۔ اور دوسری قسم ہے منافق عملی یعنی ایسا شخص جو بظاہر نیک نظر آئے اور پوشیدہ طور پر اس کے برعکس ہو لیکن عقائد کفریہ کا قائل نہ ہواللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد "فرمایا جس شخص کے اندر چار خصلتیں ہوں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑدے،جب اس کے پاس امانت رکھی جاے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب معاہدہ کرے تو عہد شکنی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے”
اس حدیث میں نفاق عملی کی علامت بتلای گیء ہے
پہلی صفت”امانت میں خیانت”بتلای گئی ہے امانت کا مفہوم عام طور پر مال ودولت اور روپیہ پیسہ کے ساتھ خاص سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ غلط ہے یہ الگ بات ہے کہ امانت کا یہ عمومی مفہوم اس کا بڑا اہم مصداق اور عام فرد ہے لیکن امانت اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے یہ ان تمام حقوق کو شامل ہے جو کسی انسان کا دوسرے کے اوپر ہو ں جیسے والدین، خویش و اقارب ،اساتذہ و مشائخ اور علماء و صلحاء کے حقوق ان حقوق کی ادائیگی انسان کے ذمہ امانت ہے عدم ادائیگی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے یہاں جواب دہ ہونا ہوگا دوسری علامت یہ بتلای گئی ہےکہ”جب بات کرے تو جھوٹ بولے”یعنی دروغ گوئی اس کی عادت اور وطیرہ بن جائے سچ بھی بولے تو جھوٹ کی آمیزش اور ملاوٹ کردے تیسری علامت یہ بتلای گئی ہے کہ”جب معاہدہ کرے تو عہد شکنی کرے”خواہ شروع ہی سے عہد شکنی کی نیت ہو یا بعد میں بغیر کسی عذر کے بدل جاے یہ سب عہد شکنی میں داخل ہے خواہ وہ ان شاء اللہ ہی کیون نہ کہے
اور چوتھی علامت منافق کی یہ بتلای گئی ہے کہ”جب بحث ومباحثہ کرے تو گالی گلوج کرے”بیہودہ گوی پر اتر آئے یا جان بوجھ کر حق کے خلاف باتیں کرے یہ علامات ایسی ہیں جو انسان کو منافق کی صف میں کھڑا کردیتا ہے ایسے اوصاف کا حامل شخص سخت گناہ کامرتکب ہے اسے فورا اس سے توبہ کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے

ازقلم

مفتی محمد صبغت اللہ قاسمی سیتامڑھی
حال مقیم ورنگل تلنگانہ

Leave A Reply

Your email address will not be published.