بدنگاہی کے نقصانات اسباب اور حل 

0
مفتی عمار قاسمی
استاذ دارالعلوم حیدرآباد
خالق لم یزل ولایزال نے انسانوں کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان نعمتوں میں سے ایک اہم اور انمول نعمت آنکھ ہے اس نعمت عظمی کی قدر ہر شخص کی ذمہ داری ہے لیکن آج جب کہ ہر طرف فحاشی عریانیت کا ننگا ناچ ہے بدنگاہی بدنظری چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے ہر کوئی ایک دوسرے کو ہوس کا نشانہ بنا رہا ہے لوگ گناہوں کے سمندر میں غرق ہو رہے ہیں توضرورت اس بات کی ہے اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں اس کو حاصل کرکے اپنی زندگی میں لائے اور اس پر عمل کرے یقینا بدنظری انتہائی مہلک مرض ہے خواہشات نفسانی انسان کو تباہ برباد کر دیتی ہے معاشرہ کو گندہ کرنے والی سب سے بری چیز زنا ہے بدنظری عموما زنا کی پہلی سیڑھی ہے اس سے بڑے بڑے فواحش کا صدور ہوتا ہے چنانچہ قرآن کریم نے بد نظری اور بے حیائی کا دروازہ بند کرنے کیلئے  مسلمان مرد عورت کو حکم دیا کہ اپنی نظریں  نیچی رکھیں قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے
قل المؤمنين يغضو من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك ازكي لهم ان الله خبير بما يصنعون  ( النور٣٠)
ترجمہ آپ ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے شرمگاہوں کی حفاظت کریں اس میں انکے لئے پاکیزگی ہے بے شک اللہ کو خبر ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور دوسری جگہ یہی حکم عورتوں کے لئے ہے  وقل اللمؤمنات يغضضن من ابصا رهن ويحفظن فروجهن ( النور ۳۱)
ترجمہ ایمان والیوں سے کہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں
اس کے علاوہ اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے متعدد حدیث بھی ثابت ہے آپ نے ارشاد فرمایا غضوا ابصارکم واحفظوا فروجکم (رواہ الحاکم فی المستدرک برقم ۸۰۶۷) اپنی نگاہوں کو پست رکھو اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو
حافظ ابن القیم الجواب الکافی میں لکھتے ہیں نگاہ شہوت کی قاصد اور پیامبر ہوتی ہے اور نگاہ کی حفاظت دراصل شرمگاہ اور شہوت کی جگہ کی حفاظت ہے جس نے نظر کو آزاد کردیا اس نے اس کو ہلاکت میں ڈال دیا نظر ہی ان تمام آفتوں کی بنیا د ہے جس میں انسان مبتلا ہے (الجواب الکافی ۲۰۴)
بدنظری سے بچنے کا انعام
عن ابی امامۃ عن النبی قال مامن  مسلم ینظر الی محاسن مرأۃ اول مرۃ ثم یغض بصرہ الا أحد ث اللہ لہ عبادۃ یجد حلاوتھا(رواہ احمد ۵ / ۲۶۴ حضرت ابوامامہ ست روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس مرد مومن کی کسی عورت کے حسن و جمال پر پہلی دفعہ نظر پڑجائے پھر وہ اپنی نگاہ نیچی کرلے (اور اس کی طرف نہ دیکھے ) تو اللہ اس کو ایسی عبادت نصیب فرمائے گا جس کی وہ لذت و حلاوت محسوس کریگا
بدنظری سے متعلق آپ نے ارشاد فرمایا النظرۃ سہم مسموم من سہام ابلیس من ترکھا من مخافتی ابدلتہ ایمانا یجد حلاوتہ فی قلبہ  (رواہ الحاکم فی المستدرک ۷۸۷۵) الترغیب والترہیب ۲۸۵۷) نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے جس نے میری ڈر کی وجہ سے بدنظری چھوڑدی میں اسے ایسا انعام عطا کرونگا جس کی حلاوت وہ دل میں محسوس کریگا
یہ کتنا زبردست انعام ہے کہ اللہ ایک ناجائز نفسانی لذت  کی قربانی کے بدلہ میں انسان کو آخرت کے اجروثواب کے علاوہ دنیا ہی میں عبادت و ایمان کی دائمی حلاوت و لذت عطا فرمائیں گے یہ انعام تو اللہ اپنے بندوں کو بد نظری سے بچنے پر دنیا ہی میں عطا فرمائیں گے اس کے علاوہ آخرت میں بھی اللہ اپنے بندوں کو دو انعام سے نوازیں گے اول ہر نگاہ کی حفاظت پر انہیں اللہ اپنا دیدار نصیب فرمائیں گے دوم یہ بدنظری سے محفوظ رہنے والی آنکھیں قیامت کے دن رونے سے محفوظ رہیں گی حدیث پاک میں آتا ہے روی  عن ابی ھریرۃ ؓقال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل عین باکیۃ یوم القیمۃ الا عین غضت من محارم اللہ وعین فی سبیل اللہ وعین خرج منھا مثل راس الذباب من خشیۃ اللہ (الترغیب والترہیب ۳ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی حرام کردہ اشیاء کونہ دیکھنے سے اللہ کی محبت پیدا ہوتی ہے
حضرت ابراہیم بن مہلب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے کہ میں نے ثعلبہ اورخزیمہ کے درمیان ایک جوان کو نماز اداکرتے ہوئے دیکھا جولوگوں سے الگ تھلک تھا اس کے پاس اخلاص وتوحید کی دولت تھی اور اسے معرفت خداوندی حاصل تھی اور اللہ پر مضبوط توکل رکھتا تھا یقینا اس کا درجہ اور مقام بہت بلند تھا میں نے اس نوجوان سے معلوم کیا کہ تم کو یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا تو اس نوجوان نے جواب دیا ہر حرام چیز سے اپنی آنکھوں کی حفاظت کرکےاور ہرمنکر اور گناہ سے اجتناب کرکے مجھے یہ انعام حاصل ہوا
معلوم ہوا نظر کی حفاظت بے شمار انعامات کے حصول کا سبب ہے
مذکورہ آیت سے ایک سبق یہ ملتا ہے اللہ نے آنکھوں اور شرمگاہوں کی حفاظت ساتھ ساتھ بیان فرمائی ہے شرمگاہ کی حفاظت آنکھوں کی حفاظت پر موقوف ہے جس نے آنکھ کی حفاظت نہ کی اس کی شرمگاہ کی حفاظت خطرے میں ہے (روح کی بیماریاں اور اس کا علاج ۹)
نگاہ اور آنکھ کی حفاظت کا بہترین طریقہ نکاح ہے
نکاح کے ذریعہ شہوت کی آگ کو ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے اس کے شعلوں کو بجھایا جاسکتا ہے نکاح ہی کے سے انسان شہوت کو جائز طریقے سے پورا کر سکتا ہے اور عفت جیسی صفت سے متصف ہوسکتا ہے اسی عفت کی اہمیت کا احساس دلانے کے لئے ان الفاظ کو قرآن میں محفوظ کردیا جن الفاظ سے حضور ﷺ عورتوں سے بیعت لیتے تھے کہ وہ بدکاری نہ کریں گی چنانچہ فرمایا ولا يز نين ولا يقتلن اولادهن ولا يا تين ببهتان (ممتحنه١٢)
اور نہ بدکاری کریںگی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان لائے گی
اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی احادیث طیبہ میں عفت و عصمت سے متعلق اسلام کے نقطہ نظر کو بیان فرمایا اور بدکاری کے نقصانات سے امت کو آگاہ فرمایا اور کثرت اموات کا سبب زنا بتایا چنانچہ ایک لمبی حدیث میں منجملہ اور باتوں کے یہ بھی فرمایا ولافحشا الزنا فی قوم الاکثر فیھم الموت ( موطا امام مالک کتاب الجہاد باب ماجاء فی الغول ۷۵۶)
ترجمہ کسی قوم میں زنا کے عام ہوجانے کی وجہ سے موت ہی کی کثرت ہوجاتی ہے
بدنظری کے نقصانات
بدنظری سے آنکھوں میں بے رونقی اور ظلمت پیدا ہوجاتی ہے جس کا اثر چہرے پر ظاہر ہوتا ہے اور چہرہ بے رونق معلوم ہوتا ہے
ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جس سے راہ میں بدنظری کا گناہ سرزد ہوا تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس کی آنکھوں کو دیکھتے ہیں سمجھ گئے اور فرمایا
مابال اقوام؟ یترشح الزنا من اعینھم اس قوم کو کیا ہوا بے محابا میرے پاس چلے آتے ہیں حالانکہ انکی آنکھوں سے زنا ٹپکتا ہے وہ شخص حیران رہ گیا اور پوچھنے لگا کیا اب بھی وحی کا سلسلہ باقی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہی یہ تو مومن کی فراست ہے بدنظری کی ظلمت سے قلب سیاہ ہوجاتا ہے اور نیک عمل کی توفیق چھن جاتی ہے شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ آپ بیتی میں تحریرفرماتے ہیں بدنظری نہایت ہی مہلک مرض ہے ایک تجربہ تو میرا بھی اپنے بہت سے احباب پر ہے کہ ذکر و شغل کی ابتداء میں لذت و جوش کی کیفیت ہوتی ہے مگر بد نظری کی وجہ سے عبادت کی حلاوت اور لذت فنا ہوجاتی ہے اور اس کے بعد رفتہ رفتہ عبادات کے چھوٹنے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے ( آپ بیتی ۴۱۸) مزید لکھتے ہیں یہ تو بہت مجرب ہے کہ کہ بدنگاہی سے کپڑوں میں تعفن یعنی بد بو پیدا ہوجاتی ہے شیخ واسطی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ جب اللہ کسی بندے کی ذلت و خواری چاہتے ہیں تو اسے خوبصورت چہرے دیکھنے کی عادت میں مبتلا کردیتے ہیں ( حیا پاکدامنی ۵۰)
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں غیر محرم عورتوں کی طرف یا نو عمر لڑکوں کی طرف شہوت کی نظر ڈالنے سے قوت حافظہ کمزور ہوجاتی ہے ( بحوالہ حیا اور پاکدامنی ۵۱)
نظربازی موجب لعنت ہے
عن الحسن مرسلا قال : بلغنی ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : لعن اللہ الناظر والمنظور الیہ ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان ۷۷۸۸) حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہونچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خدا کی لعنت ہے دیکھنے والے پر اور اس پر جس کو دیکھا جائے مطلب یہ جو کسی نامحرم یاکسی کے ستر کو دیکھے تو اس پر خدا کی طرف سے لعنت ہے یعنی رحمت سے محرومی کا فیصلہ ہے ( معارف الحدیث ۶/ ۳۲۷)
تمام گناہوں سے بچنے کا صرف ایک نسخہ ہے
حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے لکھا ہے کہ صرف بدنظری نہی بلکہ دنیا کے ہر گناہ سے بچنے کے لئے دوچیزیں ضروری ہیں (1) انسان اللہ سے اس گناہ سے دور رہنے کی دعا کرتا رہے (2) اور اپنے عمل و ہمت  سے اس کام سے دور رہے
اگر ان میں سے ایک چیز ہے ایک چیز نہی ہے صرف دعا کرتے رہو اور ہمت نہ کرو تو کام نہی چلے گا مثلا ایک آدمی مشرق کی طرف بھا گا جارہا ہے اور دعا کر رہا ہے اے اللہ مجھے مغرب کی طرف پہنچادے تو دعا کیسے قبول ہوگی پہلے ضروری ہے کہ اپنے رخ کو مشرق کی طرف کرے اور پھر دعا کرے ورنہ وہ دعا نہی بلکہ مذاق ہے
بدنظری سے بچنے کا علاج
 مضمون بالا سے معلوم ہوگیا بدنظری باطن کو خراب کرنے کے ساتھ ذلت و رسوائی کا بھی سبب بنتی ہے لہذا اس کا علاج بہت ضروری ہے تاکہ انسان کو اس سے حفاظت کے سبب دنیا اور آخرت کی سرخ روئی نصیب ہو چنانچہ اس کا علاج یہی ہے کہ جب پہلی ہی  نظر میں نگاہ کو پابند کرکے اللہ کے احکام کی پابندی کرلیں گے تو بدنظری اور بے شمار آفات سے نجات حاصل ہوجائے گی اور اگر بار بار بدنگاہی میں مبتلا ہونگے تو نظرجوکچھ دل میں تخم ریزی کی ہوگی اس کو نیست نابود کرنا بہت مشکل ہوجائے گا جب بدنگاہی ہوجائے تو اس کی گہرائی میں نہ جائیں بلکہ اس کے نتائج بد کی فکر کریں اور اللہ کا خوف دل میں لائیں اس سے ان شاء اللہ حتی الامکان بچ جائیں گے
خلاصہ کلام
یہ بدنگاہی کا عمل اپنے نفس کی اصلاح کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور یہ عمل انسان کے باطن کے لئے اتنا تباہ کن ہے کہ دوسرے گناہوں سے یہ بہت آگے بڑھا ہوا ہے جب اس عمل کی اصلاح نہ ہو اور نگاہ قابو میں نہ آئے اس وقت تک باطن کی اصلاح کا تصور محال ہے
اخیر میں باری تعالٰی کے حضور دست بدعا ہیں کہ باری تعالٰی اس برے اور گندے فعل سے ہماری حفاظت فرماکر ہمیں صاف اور پاکیزہ نظر عطا فرمائے اور تقوی وطہارت والی زندگی نصیب فرمائے آمین یارب العالمین

Leave A Reply

Your email address will not be published.