Select your Top Menu from wp menus

“کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا”

“کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا”
اردو ادب کے جب استاد شعراء کا تذکرہ ہوتا ہے تو خدائے سخن  میر  تقی میر کا نام سر فہرست آتا ہے میر تقی میر حزن و الم کے ایک عظیم شاعر تھے آپ کو اہل ادب آج بھی آہ ! کے شاعر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
  میر تقی میر 28 مئی 1723 کو آگرہ میں اپنے والد محمد علی عرف علی متقی کے گھر  پیدا ہوئے۔ میر کا اصل نام  میر محمد تقى تھا اور میر تخلص استعمال کرتے تھے اردو شاعرى خصوصاً غزل ميں مير تقى مير كا مقام و مرتبہ بے حد بلند وبالا ہے ـ میر کی عظمت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی شاعری کا لوہا مانتے ہوئے اردو كے عظیم شاعر غالب نے کہا تھا کہ۔
ریختہ كے تمہی استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے ميں كوئى مير بھی تھا
جب ہم میر کی زندگی  کو مطالعہ میں لاتے ہیں تو ہمیں ان کی زندگی گود سے لیکر گور تک مسلسل دکھوں تکلیفوں سے گھری نظر آتی ہے۔ میر رنج والم  کے حوالے سےاردو کے معروف نقاد مجنوں گورکھپوری لکھتے ہیں کہ  ’’ میر الم کو ایک نشاط اور درد کو ایک سرور بنا دیتے ” اصل میں میر کی شاعری میں جو درد ہے وہ اس کی حقیقی زندگی کا عکس ہے میر نے جس دور میں آنکھ کھولی اس زمانہ میں ہندوستان شورشوں و فتنوں کے دور سے گزر رہا تھا۔ یعنی  جہاں ایک طرف مغلوں کی سلطنت کا سورج غروب ہو رہا تھا وہیں دوسری طرف فرنگیوں کی حکومت ملک کے چاروں اطراف اپنے پاؤں پسار رہی تھی۔ دراصل میر کی شاعری  انکی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ ملک میں ہو رہی معاشی اقتصادی اور سیاسی تبدیلیوں کی بھی عکاس ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد آب حیات میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ  ’اگر کوئی دلی کی تاریخ پڑھنا چاہے تو وہ دیوان میر پڑھ لے ‘‘ اسی طرح ایک جگہڈاکٹر سید عبداللہ اپنی مشہور  تصنیف ’’ نقد میر ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ’’ اگر میر زمانے کی تاریخ نہ لکھی جاتی تو میر کی شاعری پڑھ کر ایک گہری نظر رکھنے والا اس زمانے کی تاریخ مرتب کر سکتا ہے ‘‘ چند اشعار آپ بھی دیکھیں جن میں میر نے سیاسی افرا تفری ملک کی کمزور ہوتی معیشت اور زوال پذیر ہورہی سلطنت کے حالات کو کچھ اس انداز میں پیش کیا ہے۔
دلی  کے   نہ  تھے  کوچے اوراق  مصور  تھے
جو    شکل      نظر   آئی    تصویر      نظر آئی
میر ؔ    صاحب       زمانہ         نازک        ہے
دونوں       ہاتھوں        سے       تھا میے        دستار
مرثئے    دل  کے  کئی کرکے   دیئے  لوگوں  کو
شہر   دلی  میں    سب  پاس    ہے    نشانی     اس  کی

دراصل میر کو زندگی میں جن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔۔انھیں حالات کو انھوں نے اپنی شاعری میں سمو کر رنج وغم کی یادگار تصاویر بنا دیا یا یوں سمجھ لیں کہ میر کے اشعار تاریخ کے وہ اہم دستاویزات ہیں جو انکے عہد کے سیاسی حالات و واقعات کی بھرپور شہادت دیتے ہیں میر نے اپنی شاعری میں انھیں مضامین کو قلمبند کیا جو زندگی کے راستے پر گامزن ہوتے ہوئے درپیش آئے بقول ساحر لدھیانوی کے..

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں دیا
جو کچھ مجھے دیا وہ لوٹا رہا ہوں میں
یہاں قابل ذکر ہے کہ آگرہ میں پیدا ہونے والے میر نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی ۔ میر ابھی نو برس کے تھے کہ انکے استاد انتقال فرما گئے جس کے بعد میر کے والد نے خود انکی تعلیم  و تربیت کرنا شروع کر دی۔ لیکن افسوس کہ چند ماہ بعد انکے والد محمد علی بھی انتقال فرما گئے بس میر کے سر سے انکے والد کا سایہ اٹھتے ہی انکی زندگی میں رنج و الم کا ایک ایسا طویل باب شروع ہوا جسکا اختتام میر کی موت کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔والد کی موت کے بعد ان کے سوتیلے بھائی نے ان پر بے تحاشہ ظلم ڈھائے جسکے چلتے میر دل برداشتہ ہو کر تلاش معاش کی فکر میں دہلی پہنچ گئے۔ یہاں دہلی میں ایک نواب کی ملازمت اختیار کر لی ۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ  نواب موصوف بھی ایک جنگ میں مارے گئے ۔تو میر نے ایک بار پھر آگرہ کا رخ کیا ۔
لیکن تلاش معاش میں وہاں کافی جدو جہد کے باوجود بھی جب گزر بسر کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ ہو سکا تو آپ دوبارہ دہلی روانہ ہوگئے ۔جہاں اپنے خالو سراج الدین خان آرزو کے یہاں سکونت اختیار کی۔ چنانچہ سوتیلے بھائی نے یہاں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور آرزو کے کان بھرتے رہے۔ جس کے نتیجے میں خان آرزو نے بھی آپ کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ان تمام حالات یعنی غم دوراں، غم جاناں سے میر کی طبیعت میں ایک جنوں کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ میر خود ایک جگہ کہتے ہیں کہ۔
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا۔
 میر نے مذکورہ تنگدستی و مشکلات سے دل برداشتہ ہو کر بالآخر  گوشہ عافیت اختیار کرنے کے لیے  لکھنؤ کے راستے پر گامزن ہوئے ۔ چنانچہ آپ کے لکھنؤ کے سفر کے  حالات و واقعات کے بارے میں محمد حسین آزاد اپنی کتاب “آب حیات” میں  لکھتے ہیں کہ
” میر تقی میر جب لکھنؤ چلے تو گاڑی کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ ناچار ایک شخص کے ساتھ شریک ہوگئے تو دلی کو خدا حافظ کہا۔ تھوڑی دور آگے چل کر اس شخص نے کچھ بات کی۔ یہ اس کی طرف سے منہ پھیر کر ہو بیٹھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر اس نے بات کی میر صاحب چیں بجبیں ہوکر بولے کہ صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے۔ بے شک گاڑی میں بیٹھے۔ مگر باتوں سے کیا تعلق! اس نے کہا۔ حضرت کیا مضائقہ ہے۔ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔ میر صاحب بگڑ کر بولے۔ کہ خیر آپ کا شغل ہے۔ میری زبان خراب ہوتی ہے۔ “اسی طرح جب آپ لکھنؤ پہونچے تو دیگر مسافروں کی ایک سرائے میں قیا م کیا اسی دوران آپ پتا چلا کہ شہر میں مشاعرہ ہے تو فوراً ایک غزل کہی اور مشاعرے میں شرکت کی۔ جس وضع قطع اور انداز میں میر تقی میر نے اس مشاعرے شمولیت کی اس منظر کو مولانا محمد حسین آزاد نے کچھ انداز میں آب حیات میں پیش کیا ہے۔” ان کی وضع قدیمانہ تھی۔ کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، اک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹڑی دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع پاجامہ، جس کے عرض کے پائیچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخل محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنؤ ، نئے انداز ، نئی تراشیں، بانکے ٹیڑھے جوان جمع، انہیں دیکھ کر سب ہنسنے لگے، میرؔ صاحب بیچارے غریب الوطن، زمانے کے ہاتھ سے پہلے ہی دل شکستہ اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے، شمع ان کے سامنے آئی، تو پھر سب کی نظر پڑی۔ بعض اشخاص نے سوچھا! حضور کا وطن کہاں ہے؟ میرؔ صاحب نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا:؎
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
سب کو حال معلوم ہوا۔ بہت معذرت طلب کی”
اس کے بعد لکھنؤ کے تمام ادبی حلقوں میں میر کی تشریف آوری کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جب اس ضمن میں نواب آصف الدولہ نے میر کے بارے میں سنا تو  دو سو روپیہ مہینہ دینے کے ساتھ ساتھ عظمت و اعزاز سے نوازا۔لیکن میر کی نازک مزاجی و انا پرستی جو انکی ذات میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی نے لکھنؤ میں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔
چنانچہ ایک واقع مشہور ہے کہ کبھی کبھی میر نواب کی ملازمت میں جاتے تھے۔ ایک دن نواب نے بلا وا بھیجا۔ جب میر پہنچے تو دیکھا کہ نواب حوض کے کنارے ہاتھ میں چھڑی لیے کھڑے ہیں۔ پانی میں الگ الگ رنگوں کی مچھلیاں تیرتی پھرتی ہیں اور نواب صاحب گویا ان مچھلیوں کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ جب میرؔ صاحب کو دیکھا تو نواب صاحب بہت خوش ہوئے اور کہا میر صاحب کچھ ارشاد فرمائیں ۔ تو میرؔ نے غزل سنانی شروع کی۔ نواب صاحب سنتے جاتے تھے اور چھڑی کے ساتھ مچھلیوں سے بھی مسلسل کھیلتے جا رہے تھے۔ میر صاحب چیں بجبیں ہوتے اور ہر شعر پر ٹھہر جاتے ۔ نواب صاحب کہے جاتے تھے  کہ ہاں مزید آگے پڑھتے جائیں ۔ آخر چار شعر پڑھ کر میر صاحب  رک گئے اور بولے کہ پڑھوں کیا آپ مچھلیوں سے کھیلتے ہیں۔ اگر آپ دھیان دیں تو  پڑھوں۔ نواب نے کہا جو شعر قابل تعریف و پر کشش ہوگا وہ خود ہی دھیان کھینچ لے گا۔ میر کو یہ بات بہت ناگوار گزری جس کے نتیجے میں آپ غزل جیب میں ڈال کر گھر کو واپس چلے آئے اور پھر دوبارہ کبھی نواب کے یہاں نہیں گئے۔ کچھ دن بعد جب دن میر اتفاق سے بازار میں چلے جا رہے تھے کہ  نواب صاحب کی سواری سامنے سے آگئی۔ دیکھتے ہی نواب صاحب محبت سے بولے کہ میرؔ صاحب آپ نے بالکل ہی ہم سے ہی قطع تعلق کر لیا کیا۔ کبھی تشریف ہی نہیں لاتے۔ میرؔ نے کہا۔ بازار میں باتیں کرنا شریف آدمیوں کو زیب نہیں دیتا۔ یہ کیا گفتگو کا موقع ہے۔ غرض بدستور اپنے گھر میں بیٹھے رہے اور فقر و فاقہ کے ساتھ ساتھ درویش و قلندروں کی طرح زندگی بسر کرتے رہے اور آخر کار یہیں لکھنؤ میں ہی 1810 میں   قریب 87سال کی عمر میں انتقال فرما گئے اور یہیں لکھنؤ کی مٹی ہی دفن ہوئے۔
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
 اردو ادب میں جب شعراء کی عظمت کا تصور کرتے ہیں تو بے شک میر تقی میر غزل کے سب سے بڑے شاعر کے طور پر ابھر کر ہمارے سامنے آتے ہیں وہ ایک ایسے واحد شاعر ہیں جواپنے بعد کے ہر عہد میں خدائے سخن ،شہنشاہ غزل یا غزل کی آبرو کہلائے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اردو کے بڑے سے بڑے استاد شاعر نے میر شاعری اور اسکے منفرد اور دلکش انداز بیاں کو سر خم تسلیم کیا ہے اور میر کی پیروی کرنے میں تقریباً سبھی غزل کہنے والے شاعر فخر محسوس کرتے ہیں
استاد شاعر مرزا اسد اللہ خان غالبؔ میر کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ
غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر ؔ نہیں
جبکہ ابن انشاء میر کی بڑائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
اک  بات  بتاؤ انشاء جی  تمہیں  ریختہ  کہتے عمر ہوئی
تم سارے جہاں کا علم پڑھے کوئی میر سا شعر کہا تم نے ذوق ؔ نے  میر کی عظمت کا اعتراف  کرتے ہوئے کہا کہ،
نہ  ہوا، پرنہ ہوا میر ؔ کا انداز  نصیب
ذوق یارونے بہت زور غزل میں مارا
مرزا رفیع  سودا ؔ جو کہ میر کے ہم عصر تھے اور خود ایک استاد شاعر تھے میر کو استاد شاعر کا درجہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
سودا تو اس زمیں میں غزل در غزل ہی لکھ
ہونا  ہے  تجھ  کو میر ؔ سے استاد  کی  طرح
جبکہ مولانا حسرت ؔ  موہانی میر ؔ کے شیوہء گفتار کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
شعر میر ےبھی  ہیں  پر درد و لیکن حسرتؔ
میر کا سا  شیوہءِ  گفتار  کہاں  سے  لاؤں
طنز و مزاح کے شہنشاہ اکبر  ؔالہٰ آبادی میر ؔ  کے قدم سے قدم ملا کر چلنے میں خود کو قاصر محسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ۔۔
میں  ہوں  کیا  چیز  جو اس  طرز  پہ  جاؤں  اکبرؔ
ناسخ ؔ و ذوق ؔ بھی جب چل نہ سکے میرکے ساتھ
جبکہ اردو کے پہلے سوانح نگار،نقاد وجدید شاعر مولانا الطاف حسین حالی  ؔ میر کی عظمت کا اعتراف اپنے مخصوص انداز میں کچھ اس طرح فرماتے ہیں کہ۔۔
حالی ؔ  سخن میں شیفتہ سے مستفید ہے
غالب ؔ  کا  معتقد  ہے مقلد  ہے  میر ؔ  کا
میر جنھیں ادبی دنیا میں آہ کے شاعر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے آپ کے اشعار کو نشتر کہا جاتا ہے کیونکہ میر کی تمام شاعری ان کے دل سے نکلتی ہے اور پڑھنے والے کے سیدھا دل پر اثر کرتی ہے۔ایک چھوٹی بہر کی دلکش غزل کے چند اشعار دیکھیں۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھِیے ہوتا ہے کیا
قافلے میں صبح کے اِک شور ہے
یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا
یے نشان عشق ہیں جاتے نہیں
داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا
میر کی ایک اور مشہور غزل کے چند اشعار دیکھیں ۔ کس خوبصورت انداز میں اپنی بے بسی و لاچاری کا اظہار کیا ہے کہ۔
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیمارئ دل نے ، آخر کام تمام کیا
عہدِ جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے ، صبح ہوئی آرام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ، ہم کو عبث بدنام کیا
یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کی، یا دن کو جوں توں شام کیا
ایک مزید چھوٹی بہر کی غزل میں تغزل کا رنگ دیکھیں کیا خوبصورت سماں باندھا ہے ۔
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اُس کے لب کی کیا کہئیے
پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے
بار بار اُس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
میں جو بولا، کہا کہ یہ آواز
اُسی خانہ خراب کی سی ہے
میر اُن نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
میر کے دیوان کو جہاں سے بھی پڑھنا شروع کر تے ہیں وہیں سے گویا اک شعر شور انگیز نکلتا دکھائی دیتا ہے۔اسی لیے وہ ایک جگہ خود کہتے ہیں کہ
جہاں سے دیکھیے یک شعر شور انگیز نکلے ہے
قیامت کا سا ہنگامہ ہے ہر جا میرے دیواں میں
تغزل کا ایک اور خوبصورت رنگ دیکھیں کہ
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
یوں اُٹھے آہ اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
عشق میر اک بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
میر تقی میر کو تشبیہات اور استعارات  کے استعمال پر جو عبور و قدرت حاصل ہے اس میں وہ ایک طرح سے اپنی مثال آپ  ہیں اس ضمن میں آپ بھی کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
نازکی   اس    کے   لب   کی   کیا    کہئے
پنکھڑی  اک    گلاب     کی    سی     ہے
میر ؔ      ان   نیم    باز    آنکھوں    میں
ساری     مستی    شراب   کی    سی     ہے
میر  ؔ  دریا  ہے   شعر   سنے   زبانی  اس کی
اللہ  اللہ  رے طبیعت  کی   روانی   اس  کی
آفاق  کی  منزل    سے   گیا  کون  سلامت
اسباب  لٹا  راہ   میں   یاں    ہر  سفری   کا
اسی طرح میر کے کلام میں جو خوبصورت سماں باندھ موسیقی کا جذبہ پایا جاتا ہے وہ انھیں اپنے شعراء کی  برادری میں بالکل ممتاز و منفرد مقام پر پہنچا دیتا ہے ان کی شاعری کے اسی جوہر کے ضمن میں کلیم  الدین احمد ایک جگہ کچھہ اس انداز میں رقمطراز ہیں کہ
’’ میر سید ھے سادھے مختصر،نرم اور ملائم لفظوں میں اپنے اچھوتے احساسات اور تاثرات کو صفائی اور درد انگیزی کے ساتھ بیان کرتے ہیں ان کے اشعار میں ایسا ترنم ہوتا ہے کہ گویا ان میں روح موسیقی آبسی ہے ‘‘۔میر کی شاعری میں موسیقی کے مذکورہ رنگ کو آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
کھلنا  کم   کم    کلی  نے سیکھا  ہے
اس  کی آنکھوں  کی نیم  خوابی  سے
عالم عالم عشق  و  جنوں   دنیا  دنیا  تہمت ہے
دریا دریا روتا ہوں میں صحرا صحرا وحشت ہے
پتا    پتا    بوٹا   بوٹا    حال    ہمارا   جانے    ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
میر کے کلام میں جو تڑپ و کسک ، ناکام عشق و محرومیاں اور ناکامیوں کا ایک تسلسل ملتا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی اس کے ساتھ ہی جو
خلوص وصداقت و سوزوگداز  کی کیفیت  پائی جاتی ہے اس نے میر کے غم  کو ایک آفاقیت بخشی ہے ۔تبھی تو وہ کہتے ہیں کہ
مرے رونے کی حقیقت  جس میں تھی
ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا۔
سرہانے   میر ؔ کے   آہستہ   بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
میر کی نظر میں عشق کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ آپ بھی ملاخطہ فرمائیں۔
محبت ہی اس کا رخانےمیں ہے
محبت ہی سب کچھ زمانے میں ہے
اردو کے ناقدین و شعراء کا  اس بات پر اتفاق ہے کہ میر کا عشق عظیم تر و بے حد وسیع ہے اور عشق کا جذبہ ان کے سنیے میں حقیقتاً رچ بس گیا ہے۔میر قلندر و صوفیاء کی برادری میں ایسے  چنندہ لوگوں میں شامل ہیں جو اس  تمام کائنات کوہی عشق کا مظہر سمجھتے ہیں ۔چنانچہ ایک جگہ خود کہتے ہیں کہ
جب نام ترا لیجیئے تب چشم بھر آوے
اس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے
اک ہوک سی دل میں اٹھتی ہے اک درد جگر میں ہوتا ہے
ہم راتوں کو اٹھ  کر روتے  ہیں   جب   سارا  عالم  سوتا ہے
میر کو اس بات کا ضرور احساس رہا ہوگا کہ ان کی شاعری میں درج خیالات یقیناً مثال ہیں بے شک ان کی عظمت سے اہل ادب کو انکار نہیں ہے۔ان میں جو خود شناسی کی صفت موجود ہے وہ بہت کم لوگوں میں ہوا کرتی ہے۔شاید اسی کے چلتے میر اپنے اشعار میں کئی مقامات پر برملا خود کو عظیم قرار دیتے ہوئے کچھ اس طرح کے تاثرات کا اظہار کر جاتے ہیں آپ بھی ملاحظ فرمائیں چند اشعار۔۔
اگر چہ گوشہ گزیں ہوں میں شاعروں میں میرؔ
پہ میرے   شور   نے   روئے   زمیں   تمام   لیا
سارے   عالم   پر  ہوں  میں  چھایا   ہوا
مستند     ہے      میرا    فرمایا       ہوا
باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیئے گا
پڑھتے کسی کو سنیئے گا تو دیر تلک سر دھنئیے گا
میر دریا ہے شعر سنے زبانی اس کی
اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی
میر نے اپنی ایک نظم میں اپنے گھر کی حالت کا نقشہ کس طنزیہ انداز میں پیش کیا ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں چند اشعار:
ایسے گھر میں ہوتے ہیں بیٹھے
جیسے رستے میں ہو کوئی بیٹھے
دو طرف سے تھا کتوں کا رستہ
کاش جنگل میں جا کے بستہ
چار آتے ہیں چار جاتے ہیں
چار عف عف سے مغز کھاتے ہیں
کس سے کہتا پھروں یہ صحبت نغز
کتوں کا سالاؤں کہاں سے مغز
آخر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ بے شک  غزل کے سب سے بڑے استاد شاعر ہیں ۔ اور آپ کے بعد ہر دور میں مختلف شعراء نے آپکی شاعری سے استفادہ حاصل کیاہے ۔میر نے مختلف اصناف ِ سخن میں طبع آزمائی کی ۔ لیکن ان کا اصل فیلڈ انکی غزلیہ شاعری ہے اس میں کوئی دورائے یا شک نہیں ہے کہ تغزل کو جس کامیابی اور خوش اسلوبی سے میر ؔ نے ادا کیا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ صرف اور صرف انھیں کے حصے خاصہ تھا یا یوں کہہ لیجئے کہ غزل ان کے یا وہ غزل کے لیے پیدا ہوئے یعنی دونوں ہی ایک دوسرے کے بنا لازم و ملزوم ہیں۔
میر کی غزلیہ شاعری میں جو احساسات کی شدت ۔تجربے کی گہرائی، آلامِ روزگار اور غمِ عشق  وغیرہ   کی خصوصیات و صفات نظر آتی ہیں وہی میر ؔ کو شہنشاہِ غزل اور امام غزلیات کا لقب دلا جاتی ہیں۔آخر میں میرکو پریم وار برٹنی کے اس شعر کے ساتھ ہی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی بات کو یہیں ختم کرنے کی اجازت چاہیں گے کہ:
دیتا رہوں گا روشنی بجھنے کے بعد بھی
میں بزمِ فکر و فن کا وہ تنہا چراغ ہوں
  • 14
    Shares
  • 14
    Shares