شور ہوا آفاق میں ہر سو نور محمد آئے!!

0
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید اختر بھارتی
آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے کا زمانہ جاہلیت کے سمندر میں غوطہ زن تھا، شیطان نے ظلمت کا تالا لگا رکھا تھا، کہیں تیر و نشتر تو کہیں تیغ و بھالا چل رہا تھا، لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے اپنے سگے بھائیوں تک کی گردن پر تلوار چلا یا کرتے تھے،دستر خوان پر پانی کی جگہ شراب رکھا کرتے تھے، جوئے بازی میں اپنی بیویوں تک داؤ پر لگایا کرتے تھے اور ہار جایا کرتے تھے، بیواؤں کو منحوس سمجھا کرتے تھے، بد شگونی سے کام لیا کرتے تھے، باپ کے مرنے کے بعد بیٹے اپنی ماں کو بیچا بھی کرتے تھے اور بیوی بھی بنا لیا کرتے تھے، بیٹی پیدا ہونے پر اسے زمین میں زندہ دفن کردیا کرتے تھے، انسانیت کراہ رہی تھی، آدمیت دم توڑ رہی تھی، حیوانیت پروان چڑھ رہی تھی، یتیموں کے سروں پر دست شفقت پھیرنے والا کوئی نہیں تھا، ظلم و ستم کے ماحول میں مظلوموں کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا، ناانصافی کے ماحول میں حق و صداقت کا پرچم لہرانے والا کوئی نہیں تھا، معبودان باطل کی عبادت سے روکنے والا کوئی نہیں تھا، بے سہاروں کو سہارا دینے والا کوئی نہیں تھا، بت پرستی کا بول بالا تھا ایسے میں بیواؤں، یتیموں اور غریبوں و بیٹیوں کی چیخ و پکار سننے والا کوئی نہیں تھا خود باپ اپنی بیٹی کو پالنا پرورش کرنا اپنی توہین سمجھا کرتا تھا آخر کار غم کے ماروں کے دلوں سے چیخ نکلنا شروع ہوئی کہ ائے االلہ آسمان سے کوئی فرشتہ بھیج ائے االلہ کوئی نبی و رسول بھیج اب ہمارے لئے زمین تنگ ہوچکی ہے اور ہمارا جینا مشکل ہوچکا ہے ہماری ایک ایک سانس ہمارے لئے گھٹن محسوس ہورہی ہے تیری زمین پر صرف فساد برپا کرنے والے رہ گئے ہیں یہ لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کے فرامین کو پیروں تلے روند چکے ہیں ان کے دلوں سے مروت، محبت، ترس، رحم کا خاتمہ ہوچکا ہے جب دلوں سے آہ نکلنا شروع ہوئی تو وہ عرش اعظم سے ٹکرائی بالآخر رات کو صبح کا سامنا کرنا پڑا بارہ ربیع الاول دوشنبہ کا دن آیا کہ فارس کا آتشکدہ بجھ گیا، ظلم و ستم کے خاتمے کا بگل بج اٹھا عرش نے خوشخبری بھیجی اور زمین نے یہ اعلان کیا کہ عبداللہ کے گھر سے جہاں میں نور بکھرنے والا ہے آمنہ بی بی کے جھولے میں کونین کا سرور آنے والا ہے یہ اعلان سنتے ہی خوش ہوئے جن و بشر، سن کر یہ آمد کی خبر، بہر تعظیم و ادب، جھک گئے شمس وقمر، حور و غلمان سبھی، ہوئے قربان سبھی،،عرش بریں جھوم اٹھا اور زمین بھی گنگنا اٹھی، چمن بھی لہلہا اٹھے، کوہ دامن بھی ہنس پڑے، باد صبا بھی جھوم اٹھی، فضا بھی مست ہوگئی، کھجوروں کی قطار و فصل بہار بھی رشک کرنے لگیں موج دریا و ریگ و صحرا بھی خوش ہوئے اور نکہت و خوشبو و رنگ سب اس کے طلبگار ہوئے سب طالب دیدار ہوئے،، علماء کرام بیان کرتے ہیں کہ بارہ ربیع الاول دوشنبہ کو خاتم الانبیاء کی ولادت ہوئی تو اس دن جتنے گھروں میں پیدائش ہوئی تو کسی گھر میں لڑکی پیدا نہیں ہوئی اس کا مطلب کہ اللہ ربّ العالمین کو یہ گوارا ہی نہیں تھا کہ جس دن میرا محبوب رحمۃ اللعالمین بن کر دنیا میں جلوہ گر ہو اس دن کوئی بیٹی زمین میں زندہ دفن ہو تو گویا یہ بات ثابت ہوگئی کہ مظلوم کی آہ جب دل سے نکلتی ہے تو عرش اعظم سے ٹکراتی ہے کیونکہ آسمان کے ساتوں دروازے کھل جاتے ہیں یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے یہ اعلان تھا کہ ائے یتیموں، بیواؤں، بے سہاروں اور زمین میں زندہ دفن ہونے والی بچیوں بس اب تمہارا قتل بند، ظلم و ناانصافی ختم، اب بیواؤں کی عزت ہوگی اور یتیموں کے سروں پر دست شفقت پھیرا جائے گا اور احادیث کی کتابیں پڑھیں,, جنگ میں پایا گیا مال غنیمت میں سے حصہ لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ لگا آپ دونوں کاندھوں میں تھیلے لٹکائے ہوئے اپنے گھر کی طرف جارہے ہیں گھر سے تھوڑا ہی پہلے دو بچے آکر نبی کا دامن پکڑ لئے یا رسول اللہ میرا باپ اس دنیا میں نہیں ہے اور دوسرا کہتاہے یا رسول اللہ میری ماں اس دنیا میں نہیں ہے اور ہمارے گھر کے چولہے میں آگ کا جلنا بند ہو گیا ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں،، نبی کی آنکھوں میں آنسو آگئے آپ دونوں تھیلا کاندھے سے اتارا اور دونوں کو ایک ایک تھیلا دیدیا خالی ہاتھ گھر میں داخل ہوتے ہیں تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ مال غنیمت میں آپ کا حصّہ کیا ہوا میں انتظار کر رہی تھی کہ آج گھر کے چولہے میں آگ جلے گی اور ہانڈی چڑھے گی فرمایا محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ائے عائشہ مجھے بھی حصہ ملا تھا مگر راستے میں دو یتیم بچے ملے ایک کا باپ دنیا سے گذرگیا اور دوسرے کی ماں دنیا سے گذر گئی میں نے دونوں تھیلا زمین پر اتارا اور دونوں کو ایک ایک دیدیا ائے عائشہ میں نے یتیمی دیکھی ہے اس لئے یتیموں کی مصیبت اور پریشانی مجھ سے دیکھی نہیں جاتی،، اب بیواؤں کی عزت ہوگی یہ اشارہ اور اعلان اللہ کی طرف سے تھا اور نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عقد کیا نبی کی عمر پچیس سال اور حضرت خدیجہ کی عمر چالیس سال اور وہ بیوہ بھی تھیں وہ بھی ایک سے نہیں دو دو شوہر سے بیوہ تھیں چالیس سال کی عمر،، دو دو شوہر سے بیوہ،، وہ بنتی ہیں سید عرب وعجم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی،، اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیو کی عزت بڑھی کہ نہیں،، ایک صحابی ایمان لانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر حالت کفر میں اپنے ہاتھوں سے اپنی چار سالہ بیٹی کو دفنانے کا دردناک واقعہ سنایا تو اللہ کے رسول کی آنکھوں میں آنسو آگئے فوراً کھڑے ہوگئے اور میدان میں آکر کہا کہ مکہ والوں جمع ہوجاؤ اور جب جمع ہوگئے تو فرمایا کہ اے مکہ والوں بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا چھوڑدو،، تمہیں بیٹی کا باپ بننے میں شرم آتی ہے تو میرے پاس بھیج دو میں انہیں پالوں گا اور پرورش کروں گا میں ان سب کی شادی بھی کروں گا،، اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لڑکیوں کو جینے کا حق ملا کہ نہیں،، غرضیکہ نبی پاک نے ایسا حسن اخلاق پیش کیا اور ایسی تعلیم دی وہ لوگ نعرہ لگانے لگے کہ بیٹی کی ولادت زحمت نہیں بلکہ رحمت ہے،، غرضیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انقلاب برپا کردیا عبداللہ کے گھر سے جہاں میں نور بکھرا مشرق سے مغرب تک، شمال سے جنوب تک ہدایت کا چراغ روشن ہوا اور اسی روشنی میں راہ نجات ہے، اسی روشنی میں زندگی گذاری تو حضرت ابو بکر ،، صدیق اکبر ہوگئے، حضرت عمر،، فاروق اعظم ہوگئے، حضرت عثمان سخاوت کے دھنی ہوگئے اور حضرت علی،، شیر خدا ہوگئے اور امت محمدیہ خیر امت ہوگئی،، دنیا کے سارے مقرر، محدث، مفسر، مناظر، دانشور، شعراء سب جمع ہوکر پوری دنیا کے درختوں کو کاٹ کر اس کی شاخوں ٹہنیوں کو تراش کر قلم بنالیں اور سارے سمندروں کو سیاہی بنالیں تو بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ و سیرت کو مکمل طور پر نہ بیان کیا جاسکتا ہے اور نہ تحریر کیا جاسکتا ہے حقیقت یہ ہے کہ خدا شاہد ہے ہم کو تو خدا بھی،، محمد کے وسیلے سے ملاہے،، بارہ ربیع الاول کا دن صبح کے ٹھنڈے سائے،، شور ہوا آفاق میں ہر سو نور محمد آئے،، صلو علی الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم-

Leave A Reply

Your email address will not be published.