گستاخ رسول کو سزا نہ دے پاؤ تو مرجاؤ !

0

احساس نایاب ( شیموگہ کرناٹک )
ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن

جو قوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک پہ مرنے کے لئے تیار نہ ہو
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پہ جس کا خون نہ کھولے
جس کے سامنے گستاخ رسول آزاد گھوم رہا ہو،
اُس قوم کو کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں عیدمیلادالنبی منائیں، ریلیاں نکالیں…
کیونکہ محبت کا تقاضہ کھیر، بریانی یا شربت پینا نہیں ہے
نہ ہی نئے لباس پہن کر، ریلیاں نکال کر ناگن کی دھُن پہ لہرانا ہے…
بلکہ عشق کا سب سے پہلا اور بنیادی تقاضا تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو، جن باتوں سے روکا گیا ہے اس سے مکمل رک جائے،
محبوب کے نام پر اپنے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچھاور کرنے میں پیچھے نہ ہٹے ……
گستاخ رسول کو ایک وار میں جہنم رسید کردے …..
ورنہ اس جذبہ کے بغیر ہماری ساری محبت, عشق کے دعوے محض ڈھکوسلہ ہیں…..
یاد رہے جس قوم کے اندر سے جذبہ شہادت ختم ہوجائے اُس کے مقدر میں صرف ذلت و رسوائی بچتی ہے …..
آج ریاست بھر میں چند مسلمان میلاد النبی منانے کی اجازت لینے کے لیے فرقہ پرستوں کی چوکھٹوں پہ منت سماجت کرکے خود کے ساتھ ساتھ پوری قوم کو رسوا کررہے ہیں
اسی طرح حال ہی میں بنگلور میں ایک کمیٹی نے جشن میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انعقاد کے سلسلے میں کرناٹک کے وزیراعلی بسوراج بومئی سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن افسوس یہاں پر بھی مسلم وفد کو نظرانداز کیا گیا، مسلسل دو گھنٹے انتظار کرنے کے باوجود بومئی نے ملاقات نہیں کی بلکہ بومئی نے ان کی طرف پلٹ کر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا …..

بہرحال اس ذلت و رسوائی کی وجہ مسلمانوں کی بزدلی ہے اور حکمت کے نام پر مسلم رہنماؤں کی مفاد پرستی ہے

ویسے بھی جب مسلمان گستاخ رسول کو سزا نہیں دے سکتے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پہ سڑکوں پر نہیں آسکتے، یقین جانیں وہ بےغیرت، مردہ ہیں اور ان کا جشن منانا بےمعنی ہے…….
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں …..
اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر بات ہو آور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت خاموش رہے تو وہ اُمت احتماعی طور پر مرجائے اسے جینے کا کوئی حق نہیں…..

Leave A Reply

Your email address will not be published.