کیا کانگریس بدل رہی ہے 

0
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

پنجاب میں دلت چرن جیت سنگھ چنی کو وزیر اعلیٰ بنانا اور کنہیا کمار، جگنیش میوانی کو پارٹی میں شامل کرنا کانگریس میں تبدیلی کا اشارہ ہے ۔ اس کا یہ پیغام بھی گیا ہے کہ ایسے سیاسی لیڈران جو عوام کے درمیان جانے سے بچتے یا ان کی زبان نہیں بول سکتے، پبلک میٹنگ کرنے سے گھبراتے ہیں، عوام کی خواہش اور توقعات کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ ملک میں موجود جلتے ہوئے مسائل کو سلجھانے کے لئے آگے میں ہچکچاتے ہیں ۔ عام آدمی کے حق کے لئے زمین پر جدوجہد کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ ملک کے تانے بانے کے لئے چیلنج بنے عوامل کا سامنا کرنے اور حالات کو بدلنے کے لئے بھیڑ کو ووٹ میں بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے انہیں ہٹایا جانے والا ہے ۔ ان میں سے زیادہ تر کے نام پر داغ لگا ہے اور وہ عوام کے درمیان اپنا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ کانگریس کی بری حالت کے لئے بھی یہی ذمہ دار ہیں ۔ ان کے بگڑے بول بی جے پی کے لئے آکسیجن بنے لیکن اپنی پارٹی اور اس کے لیڈران کے لئے مصیبت ۔ کانگریس دوسرے درجہ کے ان درباری نیتاؤں کی حقیقت سے شاید واقف ہو گئی ہے تبھی اس نے راہل، پرینکا گاندھی کے ساتھ نئی ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
باہر سے کانگریس میں آئے نوجوانوں کوآگے بڑھنے اور اپنی بنیاد مضبوط کرنے کا موقع دیا جائے ۔ اس سے ایک طرف پارٹی کی پکڑ اور طاقت میں اضافہ ہوگا تو دوسری طرف مفاد پرست لوگوں کے لئے چنوتی ۔ اس بدلاؤ سے پارٹی کو فائدہ ہوگا مگر اس کے لئے پارٹی چلانے کے موجودہ طور طریقوں کو بدلنا آسان نہیں ہوگا ۔ اگر کنہیا کمار، جگنیش میوانی اور ہاردک پٹیل بھیڑ کھینچنے اور ووٹ بٹورنے میں کامیاب ہوئے تو مستقبل میں یہ کانگریس کے اندر پاور سینٹر بن سکتے ہیں ۔ کرکٹر سے ٹی وی آرٹسٹ اور پنجاب کانگریس کے صدر بنے نوجیت سنگھ سدھو کا ریاستی ڈرامہ اس کی مثال ہے ۔ مگر پارٹی کے پاس آپشن بہت زیادہ نہیں ہیں ۔ اس وقت کانگریس کے سامنے اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے ساتھ اقتدار تک پہنچنے کا چیلنج ہے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کانگریس غریب، کمزور، حاشیہ پر کئے گئے لوگوں اور کسانوں کے مدوں کو لے کر نئی حکمت عملی کے ساتھ عام آدمی کے خوابوں کو پورا کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ اترپردیش کا انتخاب اس کی پہلی کسوٹی ہوگا ۔
کانگریس کے برعکس بی جے پی حکومت کا جھکاؤ دائیں بازو کے رجحانات کی طرف ہے ۔ نریندرمودی کی سربراہی میں حکومت جارحانہ اور خوفناک طریقہ سے نیو لبرل پالیسیوں کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ جس سے عوام کی تکلیفوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ ملک کے اثاثے اور نجی زمرے کی صنعتوں کو کارپوریٹ کے حوالے کرنے، کسان مخالف زرعی قوانین کو نافذ کرنے کی زد اور بے قابو مہنگائی اس کی مثال ہے ۔ 1971 میں بھی بی جے پی جو ان دنوں جن سنگھ تھی اور کانگریس کے پرانے لیڈر جیسے آج جی 23 ہے سنڈیکیٹ بنا کر اندرا گاندھی کے بینکوں کو قومیانے کی پالیسی کے خلاف سیٹھ ساہوکاروں کی حمایت اور مذہبی راشٹر واد ہندو مسلم کے سوال اٹھا رہے تھے ۔ مگر اندرا گاندھی کے سروکار غریب، کمزوروں کے ساتھ تھے ۔ جس کی وجہ سے عوام ان کے ساتھ ہو گئے اور سنگھ، سنڈیکیٹ میں شامل تمام لیڈران کے ذریعہ اٹھائے گئے مدے پھینکے پڑ گئے ۔ ملک میں ایک بار پھر وہی حالات بنے ہوئے ہیں ۔ ایک طرف بی جے پی، اس کے ساتھی اور پونجی پتی ہیں ۔ دوسری طرف غریب، مزدور، کمزور، بے روزگار، کسان اور عام آدمی ہے ۔ لکھیم پور کے واقع سے تو یہ بھی صاف ہوگیا کہ قانون کا رویہ حکومت، اس کے ساتھیوں کے لئے اور عام آدمی کے لئے یکساں نہیں ہے ۔
لکھیم پور میں کسانوں کو گاڑی سے روندنے کے سانحہ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ غریب، کمزور، دلت، مسلمان اور کسانوں کی حمایت میں کوئی زبان کھولنے کو تیار نہیں ہے ۔ وہاں سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور لیفٹ سے کوئی نہیں پہنچا ۔ کسی نے بھی وزیر کے بیٹے کی گاڑی سے کچل کر مرنے والوں کے ساتھ ہمدردی نہیں جتائی ۔ پرینکا گاندھی سب سے پہلے وہاں پہنچیں، وہ اور راہل گاندھی مقتولین کے اہل خانہ سے مل کر ان کے غم میں شریک ہوئے ۔ اکھلیش یادو تو کچھ عرصہ پہلے اسی لکھیم پور میں ان کی ایک خاتون لیڈر کی ساڑی کھینچے جانے پر بھی وہاں نہیں پہنچے تھے ۔ اسی طرح ہارتھرس میں ایک دلت بیٹی کی عصمت ریزی کے بعد قتل اور آناً فاناً میں اس کے خاندان کو بتائے بغیر جلائے جانے پر بھی مایاوتی ان کا درد بانٹنے نہیں پہنچیں ۔ انہوں نے آج تک متاثرہ خاندان سے ملاقات تک نہیں کی ۔ جبکہ وہ آج بھی خوف کے سایہ میں جی رہا ہے ۔ تمام رکاوٹوں کے باوجود کانگریس کی نوجوان قیادت ہی وہاں پہنچی ۔ اور اس نے مظلوموں کو انصاف دلانے کے لئے آواز اٹھائی ۔
لکھیم پور جانے پر تو پرینکا کو گرفتار کر کے انہیں سیتاپور میں بند کر دیا گیا ۔ سیتاپور میں جہاں وہ حراست میں رکھی گئی تھیں کمرے کو صاف کرنے پر وزیر اعلیٰ یوگی کا یہ کہنا کہ عوام نے انہیں جھاڑو لگانے لائق ہی چھوڑا ہے کو پرینکا نے بڑا مدا بنا دیا ۔ وہ لکھنؤ کی دلت بستی کے بالمیکی مندر میں جھاڑو لگانے پہنچ گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسے چھوٹا کام بتا رہے ہیں ملک بھر کی خواتین یہ کرتی ہیں ۔ ہمارے دلت بھائی، صفائی کارکن کرتے ہیں ۔صاف صفائی تو اچھی بات ہے انہوں نے اپنے کارکنوں سے کہا کہ پورے یوپی میں جھاڑو لگاؤ ۔ وہ جانتی ہیں کہ اترپردیش میں ان کی طاقت کم ہے مگر وہ جھاڑو کی طاقت جانتی ہیں ۔ دو تین لوگ مل جائیں تو پوری گلی محلہ صاف ہو جائے گا ۔ وہ انہیں دو تین لوگوں کے نکلنے کا انتظار کر رہی ہیں ۔ اس کے ذریعہ وہ اپنے پرانے دلت ووٹ بینک کو بھی سادھنا چاہتی ہیں ۔ اسی منصوبہ کے تحت اتراکھنڈ میں یش پال آریہ کو آگے لایا گیا ہے ۔ پرینکا کے حراست میں جھاڑو اٹھانے نے یوپی کی ہوا بدل دی ہے ۔ انہوں نے دکھا دیا کہ تین دن میں سیاست کس طرح بدلتی ہے ۔ وہ اپنی دادی کے تیور کے ساتھ کسانوں کو انصاف دلانے کے لئے میدان میں ہیں ۔ انہوں نے کسان ریلی کے لئے بنارس کو چنا کیوں کہ بنارس یوپی کی نبض ہے ۔ کسان ریلی میں امڑی بھیڑ کو دیکھ کر برسراقتدار بی جے پی اور حزب اختلاف جماعتوں کی نیند اڑ گئی ہے ۔ جانکار کسان ریلی کو اترپردیش میں کانگریس کی انتخابی تیاری کا آغاز مان رہے ہیں ۔ اگر پرینکا گاندھی الیکشن تک چمٹا گاڑھے بیٹھی رہیں تو وہ سرکار ہلا دیں گی ۔
اترپردیش میں کانگریس کی منزل ابھی دور ہے ۔ اسے یوپی میں اپنے پیر جمانے کے لئے چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد یا تفہیم کا راستہ اختیار کرنا چاہئے ۔ بی جے پی اپنے اتحادی ساتھیوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے تصور پر کام کرتی ہے ۔ اس کی وجہ سے ایک وقت ایسا آتا ہے جب اتحادی جماعت کے لئے بی جے پی اس کی مجبوری بن جاتی ہے ۔ اگر وہ اتحاد ختم کرے تو حکومت جاتی ہے اور باقی رکھے تو اس کے وجود کے لئے خطرہ پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس کانگریس اپنے ساتھیوں کو عزت دینے کے ساتھ کسی دھرم سنکٹ میں نہیں ڈالتی ۔ مہاراشٹر میں نظریاتی یکسانیت نہ ہونے کے باوجود وہ شیوسینا کے ساتھ گٹھ بندھن حکومت کا حصہ ہے ۔ اترپردیش میں کانگریس اپنی اسی حکمت عملی، اشتراک، اتحاد کے امکانات کی بنیاد پر نیا راستہ بنا سکتی ہے ۔ جو آج کے آلودہ سیاسی ماحول کو بدلنے میں مددگار ثابت ہوگا ۔ کانگریس کے لئے یہ تبدیلی کا پیغام دینے کا وقت ہے ۔ اسے کافی لمبا راستہ طے کرنا ہے ۔ یہ راستہ وہ اپنی سابقہ وراثت سیکولرزم کے سہارے ہی طے کر سکتی ہے ۔ جس میں صنعتوں کو عزت دینے کے ساتھ نجی زمرے کے کاروبار کو فروغ دینا، غریبی سے نپٹنا، معیشت کو اوپر اٹھانا جیسے کہ اس نے 1991 میں خزانہ خالی ہونے پر اسے سنبھالا تھا ۔ اسی کے ساتھ حاشیہ پر کھڑے طبقات کی ضرورت، ان کی خواہش اور امید کو حکومت کی ترجیحات میں واپس شامل کرنا ہے ۔ اگر کانگریس نوجوانوں کی مدد سے یہ بدلاؤ لانا چاہتی ہے تو یہ تبدیلی ملک کے حق میں اچھی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.