Select your Top Menu from wp menus

معاشرےکی فلاح وبہبودکےلۓعلما ٕآگےآٸیں ۔۔۔۔۔۔۔ ممتازعالم دین مولاناآصف اعظمی سے خصوصی ملاقات۔۔۔۔۔۔ ٣محرم الحرام١٤٤٠ھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نرم دم گفتگوگرم دم جستجو رزم ہویابزم ہوپاک دل وپاک باز حضرت مولانامحمدآصف اعظمی صاحب،ضلع اعظم گڈھ کے” منگراواں “میں١٩٧٩میں پیداہوۓ،ابتداٸ تعلیم مدرسہ قاسم العلوم،منگراواں میں حاصل کی اورپراٸمری درجات کی تعلیم وتربیت والدماجدالحاج حافظ مفیداحمدصاحب کی نگرانی میں مدرسہ’ پیام حق ‘دونہ جہت پورمیں انجام پاٸ،حفظ اورمتوسطات تک کی تعلیم مدرسہ منبع العلوم،خیرآبادمٸو میں حاصل کی اس کےبعد دارالعلوم دیوبند میں تفسیروحدیث کی تکمیل کرکےخصوصی نمبرات سےسندحاصل کی۔ مولانامحمدآصف اعظمی قاسمی ایک پُرجوش مقرراورشعلہ نوامقررہیں،آپ کاخطاب اثرانگیزاوراحقاق حق وابطال باطل کانمونہ ہوتاہے،دینی وعلمی جلسوں میں آپ کی شرکت اس کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے، آپ ایک کامیاب مدرس اوراعلیٰ درجےکےخطیب ہیں،تدریس وتقریرمیں آپ کےجوہرکھلتےہیں،وفورعلم اورقوت استدلال کی وجہ سےمجمع کواپنےموقف کوصحیح تسلیم کرنےپرمجبورکردیتےہیں۔ مولاناآصف اعظمی مدرسہ بیت العلوم سراۓمیراعظم گڈھ،جامعہ حسینیہ لال دروازہ، جون پوراورمدرسہ کاشف العلوم بریلی میں میں تدریسی خدمات انجام دےچکےہیں،اس وقت بلرام پورضلع کےمرکزی ادارہ “مدرسہ عربیہ انوارالاسلام” مہوابسم اللہ خاں میں منصب “نظامت” کےاہم منصب پرفاٸزہیں۔ مولاناموصوف اپنی گوناں گومصروفیات اورمشغولیات کےباوجودتصنیف وتالیف کاسلسلہ جاری رکھاہے،آپ کی بیش قیمت علمی جواہرات “سخن دل نواز” اور”فتنہٕ غیرمقلدیت اور راہ مستقیم”منصیہٕ شہودپرجلوہ گرہوچکی ہیں، انجمن خدام صحابؓہ کےتحت منعقدہونےوالےاجلاس میں بطورمہمان مقرر مولاناآصف اعظمی صاحب سلطان پورتشریف لاۓ۔توہمارےخصوصی نماٸندےنےملاقات کی اوران سےچندسوالات کۓجس کےکچھ اقتباسات ناظرین کی خدمت میں پیش ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادارہ س۔ ملک کےموجودہ احوال کوکس پس منظرمیں دیکھتےہیں؟ ج۔۔ملک کےموجودہ احوال نفرت زدہ کردۓگۓہیں،ہرطرح سےبرادران وطن کومحبت کےساتھ جوڑنےکی ضرورت ہے،ان کےخوشی اورغم میں شریک ہونےکی ضرورت ہے،تبھی ماحول میں تبدیلی کاامکان ہے۔ س۔قوم کی زبوں حالی کےاسباب کیاہیں؟ ج۔ملت کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ انتشارہے،ہرشخص ایک دوسرےکی ٹانگیں کھینچ رہاہے،اورتواور علما ٕبھی خانوں میں بٹ کرمنتشرہوگۓ،ہرشخص کام اپنےداٸرےمیں کرےلیکن دوسرےکی مخالفت یااستتخفاف سےسوفیصددور رہاجاۓ۔ س۔تدریس وتقریرکےعلاوہ ملیّ وسماجی کاموں کےسلسلےمیں کس تنظیم سےمنسلک ہیں؟ ج۔ احقرملیّ کاموں میں شرکت کےلۓسب سےزیادہ مظبوط پلیٹ فارم” جمعیتہ علما ٕہند ” کوسمجھتاہے۔اس تنظیم سےوابستہ ہوکرملیّ وسماجی کام بہترطریقےسےکیاجاسکتاہے۔اورابتک جمعیتہ علما ٕہندسے وابستگی رہی ہے۔ س۔مدارس اسلامیہ کےنصاب میں کچھ تبدیلی ناگزیرہے؟ ج۔میرےنزدیک نصاب میں جزوی ترمیم ضروری ہے،بطورخاص فلسفہ کی کتاب”میبذی” اورمنطق کوخارج کرناچاہیٸے،ہمارےدیارکےبہت بڑےعالم گذرےہیں عارف باللہ حضرت مولانااعجازاحمداعظمی صاحبؒ،وہ بھی اسی کےقاٸل تھے،اوراپنےمدرسہ سے اس طرح کی تمام کتابیں نکال دۓتھےصرف”میبذی” مجبوری میں رکھےتھے۔ س۔فضلاۓمدارس اقتصادی طورپرمضبوط ہوں اس کےلۓآپ کےپاس کیالاٸحہٕ عمل ہے؟ ج۔طلبا ٕمدارس کےلۓ اقتصادی طورپرمضبوطی کےلۓضروری ہےکہ ان کےخالی اوقات کواستعمال میں لاٸیں اوران کاتجارتی ذہن بناٸیں اس کےلۓمدرسہ سےاجازت بھی ہو،کیرلاکاہرطالب علم کچھ نہ کچھ خارج میں اتناکام کرلیتاہےکہ تعلیمی اخراجات پورےہوجاتےہیں۔ س۔برادران وطن کودعوتی فکرسےکس طرح روشناش کرایاجاۓ؟ ج۔برادران وطن کواسلامی تعلیمات سےروشناس کرانےکےلۓہندی/انگلش میں مختصرطورپرلٹریچرتیارکۓ جاٸیں،اس میں اسلام کےاخلاقی تعلیمات کےمضامین ہوں،اورکبھی کبھی کچھ اییسےپروگرام ہوں جس میں ایک دوتقریر ان کو پیش نظررکھ کرہوں۔ س۔معاشرےکی فلاح وبہودکےلۓکوٸ اہم نقطہ بتاٸیں؟ ج۔صحت مندمعاشرےکےلۓضروری ہےکہ ہرشخص تعمیری فکرکےساتھ کچھ نہ کچھ کرنےکی کوشس کرے، علما ٕکرام نہی عن المنکرسےپہلوتہی نہ کریں،مصالح کوپیش نظررکھ کراپنی بات کومضبوطی سےپیش کریں،

معاشرےکی فلاح وبہبودکےلۓعلما ٕآگےآٸیں  ۔۔۔۔۔۔۔ ممتازعالم دین مولاناآصف اعظمی سے خصوصی ملاقات۔۔۔۔۔۔  ٣محرم الحرام١٤٤٠ھ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نرم دم گفتگوگرم دم جستجو رزم ہویابزم ہوپاک دل وپاک باز  حضرت مولانامحمدآصف اعظمی صاحب،ضلع اعظم گڈھ کے” منگراواں “میں١٩٧٩میں پیداہوۓ،ابتداٸ تعلیم مدرسہ قاسم العلوم،منگراواں میں حاصل کی اورپراٸمری درجات کی تعلیم وتربیت والدماجدالحاج حافظ مفیداحمدصاحب کی نگرانی میں مدرسہ’ پیام حق ‘دونہ جہت پورمیں انجام پاٸ،حفظ اورمتوسطات تک کی تعلیم مدرسہ منبع العلوم،خیرآبادمٸو میں حاصل کی اس کےبعد دارالعلوم دیوبند میں تفسیروحدیث کی تکمیل کرکےخصوصی نمبرات سےسندحاصل کی۔ مولانامحمدآصف اعظمی قاسمی  ایک پُرجوش مقرراورشعلہ نوامقررہیں،آپ کاخطاب اثرانگیزاوراحقاق حق وابطال باطل کانمونہ ہوتاہے،دینی وعلمی جلسوں میں آپ کی شرکت اس کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے، آپ ایک کامیاب مدرس اوراعلیٰ درجےکےخطیب ہیں،تدریس وتقریرمیں آپ کےجوہرکھلتےہیں،وفورعلم اورقوت استدلال کی وجہ سےمجمع کواپنےموقف کوصحیح تسلیم کرنےپرمجبورکردیتےہیں۔ مولاناآصف اعظمی مدرسہ بیت العلوم سراۓمیراعظم گڈھ،جامعہ حسینیہ لال دروازہ، جون پوراورمدرسہ کاشف العلوم بریلی میں میں تدریسی خدمات انجام دےچکےہیں،اس وقت بلرام پورضلع کےمرکزی ادارہ “مدرسہ عربیہ انوارالاسلام” مہوابسم اللہ خاں میں منصب “نظامت” کےاہم منصب پرفاٸزہیں۔ مولاناموصوف اپنی گوناں گومصروفیات اورمشغولیات کےباوجودتصنیف وتالیف کاسلسلہ جاری رکھاہے،آپ کی بیش قیمت علمی جواہرات “سخن دل نواز” اور”فتنہٕ غیرمقلدیت اور راہ مستقیم”منصیہٕ شہودپرجلوہ گرہوچکی ہیں، انجمن خدام صحابؓہ کےتحت منعقدہونےوالےاجلاس میں بطورمہمان مقرر مولاناآصف اعظمی صاحب سلطان پورتشریف لاۓ۔توہمارےخصوصی نماٸندےنےملاقات کی اوران سےچندسوالات کۓجس کےکچھ اقتباسات ناظرین کی خدمت میں پیش ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادارہ  س۔ ملک کےموجودہ احوال کوکس پس منظرمیں دیکھتےہیں؟  ج۔۔ملک کےموجودہ احوال نفرت زدہ کردۓگۓہیں،ہرطرح سےبرادران وطن کومحبت کےساتھ جوڑنےکی ضرورت ہے،ان کےخوشی اورغم میں شریک ہونےکی ضرورت ہے،تبھی ماحول میں تبدیلی کاامکان ہے۔  س۔قوم کی زبوں حالی کےاسباب کیاہیں؟  ج۔ملت کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ انتشارہے،ہرشخص ایک دوسرےکی ٹانگیں کھینچ رہاہے،اورتواور علما ٕبھی خانوں میں بٹ کرمنتشرہوگۓ،ہرشخص کام اپنےداٸرےمیں کرےلیکن دوسرےکی مخالفت یااستتخفاف سےسوفیصددور رہاجاۓ۔  س۔تدریس وتقریرکےعلاوہ ملیّ وسماجی کاموں کےسلسلےمیں کس تنظیم سےمنسلک ہیں؟  ج۔ احقرملیّ کاموں میں شرکت کےلۓسب سےزیادہ مظبوط پلیٹ فارم” جمعیتہ علما ٕہند ” کوسمجھتاہے۔اس تنظیم سےوابستہ ہوکرملیّ وسماجی کام بہترطریقےسےکیاجاسکتاہے۔اورابتک جمعیتہ علما ٕہندسے وابستگی رہی ہے۔  س۔مدارس اسلامیہ کےنصاب میں کچھ تبدیلی ناگزیرہے؟  ج۔میرےنزدیک نصاب میں جزوی ترمیم ضروری ہے،بطورخاص فلسفہ کی کتاب”میبذی” اورمنطق کوخارج کرناچاہیٸے،ہمارےدیارکےبہت بڑےعالم گذرےہیں عارف باللہ حضرت مولانااعجازاحمداعظمی صاحبؒ،وہ بھی اسی کےقاٸل تھے،اوراپنےمدرسہ سے اس طرح کی تمام کتابیں نکال دۓتھےصرف”میبذی” مجبوری میں رکھےتھے۔  س۔فضلاۓمدارس اقتصادی طورپرمضبوط ہوں اس کےلۓآپ کےپاس کیالاٸحہٕ عمل ہے؟  ج۔طلبا ٕمدارس کےلۓ اقتصادی طورپرمضبوطی کےلۓضروری ہےکہ ان کےخالی اوقات کواستعمال میں لاٸیں اوران کاتجارتی ذہن بناٸیں اس کےلۓمدرسہ سےاجازت بھی ہو،کیرلاکاہرطالب علم کچھ نہ کچھ خارج میں اتناکام کرلیتاہےکہ تعلیمی اخراجات پورےہوجاتےہیں۔  س۔برادران وطن کودعوتی فکرسےکس طرح روشناش کرایاجاۓ؟  ج۔برادران وطن کواسلامی تعلیمات سےروشناس کرانےکےلۓہندی/انگلش میں مختصرطورپرلٹریچرتیارکۓ جاٸیں،اس میں اسلام کےاخلاقی تعلیمات کےمضامین ہوں،اورکبھی کبھی کچھ اییسےپروگرام ہوں جس میں ایک دوتقریر ان کو پیش نظررکھ کرہوں۔  س۔معاشرےکی فلاح وبہودکےلۓکوٸ اہم نقطہ بتاٸیں؟  ج۔صحت مندمعاشرےکےلۓضروری ہےکہ ہرشخص تعمیری فکرکےساتھ کچھ نہ کچھ کرنےکی کوشس کرے،  علما ٕکرام نہی عن المنکرسےپہلوتہی نہ کریں،مصالح کوپیش نظررکھ کراپنی بات کومضبوطی سےپیش کریں،

معاشرےکی فلاح وبہبودکےلۓعلما ٕآگےآٸیں

۔۔۔۔۔۔۔ ممتازعالم دین مولاناآصف اعظمی سے خصوصی ملاقات۔۔۔۔۔۔

٣محرم الحرام١٤٤٠ھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نرم دم گفتگوگرم دم جستجو
رزم ہویابزم ہوپاک دل وپاک باز

حضرت مولانامحمدآصف اعظمی صاحب،ضلع اعظم گڈھ کے” منگراواں “میں١٩٧٩میں پیداہوۓ،ابتداٸ تعلیم مدرسہ قاسم العلوم،منگراواں میں حاصل کی اورپراٸمری درجات کی تعلیم وتربیت والدماجدالحاج حافظ مفیداحمدصاحب کی نگرانی میں مدرسہ’ پیام حق ‘دونہ جہت پورمیں انجام پاٸ،حفظ اورمتوسطات تک کی تعلیم مدرسہ منبع العلوم،خیرآبادمٸو میں حاصل کی اس کےبعد دارالعلوم دیوبند میں تفسیروحدیث کی تکمیل کرکےخصوصی نمبرات سےسندحاصل کی۔
مولانامحمدآصف اعظمی قاسمی  ایک پُرجوش مقرراورشعلہ نوامقررہیں،آپ کاخطاب اثرانگیزاوراحقاق حق وابطال باطل کانمونہ ہوتاہے،دینی وعلمی جلسوں میں آپ کی شرکت اس کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے،
آپ ایک کامیاب مدرس اوراعلیٰ درجےکےخطیب ہیں،تدریس وتقریرمیں آپ کےجوہرکھلتےہیں،وفورعلم اورقوت استدلال کی وجہ سےمجمع کواپنےموقف کوصحیح تسلیم کرنےپرمجبورکردیتےہیں۔
مولاناآصف اعظمی مدرسہ بیت العلوم سراۓمیراعظم گڈھ،جامعہ حسینیہ لال دروازہ، جون پوراورمدرسہ کاشف العلوم بریلی میں میں تدریسی خدمات انجام دےچکےہیں،اس وقت بلرام پورضلع کےمرکزی ادارہ
“مدرسہ عربیہ انوارالاسلام” مہوابسم اللہ خاں میں منصب “نظامت” کےاہم منصب پرفاٸزہیں۔
مولاناموصوف اپنی گوناں گومصروفیات اورمشغولیات کےباوجودتصنیف وتالیف کاسلسلہ جاری رکھاہے،آپ کی بیش قیمت علمی جواہرات
“سخن دل نواز” اور”فتنہٕ غیرمقلدیت اور راہ مستقیم”منصیہٕ شہودپرجلوہ گرہوچکی ہیں،
انجمن خدام صحابؓہ کےتحت منعقدہونےوالےاجلاس میں بطورمہمان مقرر مولاناآصف اعظمی صاحب سلطان پورتشریف لاۓ۔توہمارےخصوصی نماٸندےنےملاقات کی اوران سےچندسوالات کۓجس کےکچھ اقتباسات ناظرین کی خدمت میں پیش ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادارہ

س۔ ملک کےموجودہ احوال کوکس پس منظرمیں دیکھتےہیں؟

ج۔۔ملک کےموجودہ احوال نفرت زدہ کردۓگۓہیں،ہرطرح سےبرادران وطن کومحبت کےساتھ جوڑنےکی ضرورت ہے،ان کےخوشی اورغم میں شریک ہونےکی ضرورت ہے،تبھی ماحول میں تبدیلی کاامکان ہے۔

س۔قوم کی زبوں حالی کےاسباب کیاہیں؟

ج۔ملت کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ انتشارہے،ہرشخص ایک دوسرےکی ٹانگیں کھینچ رہاہے،اورتواور علما ٕبھی خانوں میں بٹ کرمنتشرہوگۓ،ہرشخص کام اپنےداٸرےمیں کرےلیکن دوسرےکی مخالفت یااستتخفاف سےسوفیصددور رہاجاۓ۔

س۔تدریس وتقریرکےعلاوہ ملیّ وسماجی کاموں کےسلسلےمیں کس تنظیم سےمنسلک ہیں؟

ج۔ احقرملیّ کاموں میں شرکت کےلۓسب سےزیادہ مظبوط پلیٹ فارم” جمعیتہ علما ٕہند ” کوسمجھتاہے۔اس تنظیم سےوابستہ ہوکرملیّ وسماجی کام بہترطریقےسےکیاجاسکتاہے۔اورابتک جمعیتہ علما ٕہندسے وابستگی رہی ہے۔

س۔مدارس اسلامیہ کےنصاب میں کچھ تبدیلی ناگزیرہے؟

ج۔میرےنزدیک نصاب میں جزوی ترمیم ضروری ہے،بطورخاص فلسفہ کی کتاب”میبذی” اورمنطق کوخارج کرناچاہیٸے،ہمارےدیارکےبہت بڑےعالم گذرےہیں عارف باللہ حضرت مولانااعجازاحمداعظمی صاحبؒ،وہ بھی اسی کےقاٸل تھے،اوراپنےمدرسہ سے اس طرح کی تمام کتابیں نکال دۓتھےصرف”میبذی” مجبوری میں رکھےتھے۔

س۔فضلاۓمدارس اقتصادی طورپرمضبوط ہوں اس کےلۓآپ کےپاس کیالاٸحہٕ عمل ہے؟

ج۔طلبا ٕمدارس کےلۓ اقتصادی طورپرمضبوطی کےلۓضروری ہےکہ ان کےخالی اوقات کواستعمال میں لاٸیں اوران کاتجارتی ذہن بناٸیں اس کےلۓمدرسہ سےاجازت بھی ہو،کیرلاکاہرطالب علم کچھ نہ کچھ خارج میں اتناکام کرلیتاہےکہ تعلیمی اخراجات پورےہوجاتےہیں۔

س۔برادران وطن کودعوتی فکرسےکس طرح روشناش کرایاجاۓ؟

ج۔برادران وطن کواسلامی تعلیمات سےروشناس کرانےکےلۓہندی/انگلش میں مختصرطورپرلٹریچرتیارکۓ
جاٸیں،اس میں اسلام کےاخلاقی تعلیمات کےمضامین ہوں،اورکبھی کبھی کچھ اییسےپروگرام ہوں جس میں ایک دوتقریر ان کو پیش نظررکھ کرہوں۔

س۔معاشرےکی فلاح وبہودکےلۓکوٸ اہم نقطہ بتاٸیں؟

ج۔صحت مندمعاشرےکےلۓضروری ہےکہ ہرشخص تعمیری فکرکےساتھ کچھ نہ کچھ کرنےکی کوشس کرے،  علما ٕکرام نہی عن المنکرسےپہلوتہی نہ کریں،مصالح کوپیش نظررکھ کراپنی بات کومضبوطی سےپیش کریں،

  • 1
    Share
  • 1
    Share