غزل 

0
عباس دھالیوال
بس خوابوں میں آسکتا تھا
میں کب اس کو پاسکتا تھا
مجھ کو اپنے درد سنا کر
وہ خود کو بہلا سکتا تھا
خود کا سودا کرتا اور پھر
کوٹھی بنگلہ پا سکتا تھا
وہ کیا جانے اس کی خاطر
کیا کیا خواب سجا سکتا تھا
تپتے صحرا پہ وہ آکر
بادل بن کے چھا سکتا تھا
میری بانہوں میں آ کر وہ
اپنے دکھ بہلا سکتا تھا
تم جو میرے اپنے ہوتے
ساری دنیا پا سکتا تھا
جیون کیا ہے دنیا بھر کو
میں ‘عباس’ بتا سکتا تھا
______________________________________________
عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ، پنجاب
رابطہ 9855259650

Leave A Reply

Your email address will not be published.