ماضی ۔۔حال۔۔ مستقبل

0
(نوٹ :صرف مضبوط دل کے مسلمانوں کیلئے یہ مضمون)
از قلم مدثر احمد ۔ شیموگہ 9986437327
میں اکثر شرمندہ ہوتا ہوں کیونکہ میں اس سماج کا حصّہ ہو ں جہاں پر لوگوں کو زندہ جلا دیا جارہاہے ، میں اس سماج کا حصہ ہوں جو علماء کے لئے تنگ اور جہلاء کے لئے وسیع نظریہ رکھتے ہیں ۔میں اس ہندوستان میں ہوں جہاں پر عورتوں کو محض اس وجہ سے برہنہ کرتے ہوئے انکا پریڈ نکالاجارہاہے کہ انکی ذات کا لڑکا دوسری ذات کی لڑکی کو بھگا کرلے گیا ۔ مجھے آج اس بات پر افسوس ہورہاہے کہ میں ایک ایسے ہندوستانی وزیر اعظم کی حکومت میں ہوں جو اپنے ہی ملک کی عزت دوسرے ملکوں میں نیلام کررہاہے لیکن مجھے اس سے زیادہ  لججا  اس وقت آرہی ہے جب پورے ملک کے مسلمان ایسی حکومت کے تعلق سے خاموش ہیں جو جمہوریت پر ست نہ ہوتے ہوئے فاشسٹ خیالات کو ترجیح دے رہی ہے اور جمہوری ملک ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانا چاہتی ہے ۔ اب ہمارے ذہین میں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیاجنگ آزادی سے پہلے جو ہندوستان میں مسلمان تھے ان مسلمانوں کا خون اب ہمارے اندر نہیں دوڑ رہاہے ؟۔ انقلاب کا نعرہ دینے والے مسلمانوں کی ہم آل میں سے نہیں ہیں ؟۔ تحریک ریشمی رومال کے علماءکی اطاعت کرنے والے علماءکے ہم تابع میں نہیں ہیں ؟۔ کیا ہم مسلمان پھر سے اپنے حقوق کی لڑائی نہیں لڑسکتے ؟۔ جب ہم مسلمانوں کی آواز پر انگریز ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے تو آج فسطائی و فرقہ پر ست حکومت کو کیوں نہیں نگوں کر سکتے ؟۔ کیا مولانا شوکت علی ، مولانا حسرت موہانی ، مولانا وحید الدین خان ، مولانا ابوالکلام آزاد ، مولانا امداد اللہ مکّی ، مولانا حسین احمد مدنی ، عنایت اللہ خان ، مولوی محمد باقرمشرقی،مولانا محمد حسن جیسے علماءہمارے درمیان نہیں ہیں ؟۔سر زمین ہندوستان کو ماضی کے آئینے میں دیکھا جائے تو ہندوستانی مسلمانوں نے اس ملک کی بقاءاور آزادی کے لئے خون بہایا تھا اور انہیں مسلمانوں نے اس ملک کو انگریزوں کے چنگل سے نکالا تھا مگر آج جس طرح سے اس ملک میں بد امنی ، فرقہ وارئیت ، فرقہ وارانہ فسادات ، مسلمانوں اور دلتوں کی خون ریزی ، مسلمانوں اور دلتوں کی عصمت دری کی جارہی ہے وہ افسوس ناک پہلو ہے ۔ لیکن ہم مسلمانوں کا خون تو ایسا نہیں ہے ، ہم نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ، حق کے لئے اپنی گردنوںکو سامنے رکھا ہے ۔ جام شہادت نوش کرنے کو ہم خوش قسمتی سمجھتے ہیں ۔ جیل بھرو آندولن تو ہم مسلمانوںنے ہی شروع کیا تھا ۔ ہماری بہنوں و ماؤں کی عزتوں کو لوٹتے دیکھا تو ماضی میں گردنیں کٹانے اور کاٹنے کے لئے ہم لوگوں نے ہی اپنے قدم آگے بڑھائے تھے لیکن آج ہم مسلمانوں کو ہوا کیا ہے ؟۔ دہلی میں مسلمانوں پر حملہ ہوتاہے تو کرناٹک میں کہا جاتاہے کہ وہ تو وہاں کی بات ہے ۔ جب کرناٹک اور کیرلہ میں مسلمانوں کا قتل عام کیاجاتاہے تو دہلی اور اتر پر دیش کے مسلمان خاموش بیٹھے رہتے ہیں ۔ گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کو کوئی کیسے بھول سکتاہے اس وقت ہم مسلمانوں نے حکومتوں کے خلاف احتجاج چھیڑنے کے بجائے مرنے والوں کے لئے کفن کا تحفہ لے گئے تھے ۔ جن ماؤں و بہنوں کی عزتیں لٹی تھیں ان ماؤں و بہنوں کے لئے ہم نے چندے جمع کرتے ہوئے معاوضے دئےے تھے اس کے سواءہم نے کیا کرلیا ؟۔ کونسی تحریک چھیڑی ؟۔ کونسی مہم شروع کی اور کس قائد نے اپنی قوم و ملت کے لئے اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے پیش کیا ؟۔ کس تنظیم یا ادارے نے جیل بھرو آندولن کی شروعات کی ؟ اور کو نسے علماءنے مسلمانوں کو مسجدوں کے منبر وں سے کھڑے ہوکر متحد ہوکر ان فسطائی طاقتوں کے خلاف لڑنے کے لئے آواز بلند کی ؟۔ کیا سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں نہیں ہے ؟۔ کیا یہ شعر صرف جنگ آزادی کے لئے محدود تھا ؟ ۔ نہیں نا !تو پھر کیوں ہم خاموش بیٹھے ہیں ۔ ہمیں یہ دیکھ کر افسوس ہوتاہے کہ آج ہمارے ملّی قائدین جو اتحاد امت کے لئے بڑے بڑے اجلاس کاانعقاد کرتے ہیں وہ خود ہی متحد نہیں ہیں ۔ مولانا سید ارشد مدنی،مولانا سید محمود مدنی ،مولانا سید رابع حسنی ندوی،مولانا سید سلمان حسینی ،مولانا ولی رحمانی ،مولانا بدرالدین اجمل ،مولانا اسرار الحق،اسد الدین اویسی ،اعظم خان ،مولانا توقیر رضااور ان جیسے ہزاروں ملی و سیاسی قائدین سے گزارشہے کہ مسلمانان ہند بیان بازی سے تھک چکے ہیں۔مایوسی ان کے دلوں میں گہر کر چکی ہے۔صرف اجلاس، بیان بازی، دورے کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے!!!ملت اسلامیہہند کو ایک روڈ میپ چاہئے!!!آپ حضرات آپسی اختلافات کو ختم کرکے اپنی اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کے بجائے چند خطوط پر پہلے خود متفق ہوں پہر قوم کو متحد کریں! !!تاکہ ملت اسلامیہ ہند گجرات، مظفر نگر، اور دادری جیسی حیوانیت و بہیمت سے خود کو بچا سکے!!!
خدا کے واسطے ہندوستانی مسلمانوں کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچالیں۔ اپنے آپ کو ایوانوں سے باہر نکال کر خود سڑکوں پر اتریں انشاءاللہ آپ کے اتحاد پر امت مسلمہ ہند لبیک کہتے ہوئے خود بھی ایک انقلاب لانے کے لئے کھڑی ہوجائیگی ۔ آپ اور ہم کب تک امت کی قیادت کی کمی کا رونا روتے رہیں گے ۔ جو قائدین ہیں ان قائد ین میں اتحاد آجائے تویقینا بہت بڑا کام ہوسکتاہے ۔ آج ہم ہندوستانی مسلمانوں کو پھر سے ایک دفعہ اپنی آزادی کے لئے جنگ لڑنی ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ انگریزی سرکار میں بھی ہندوستانی مسلمان تھے انکا رول ٹٹوؤں جیسا ہی تھا اور وہ انکی چاپلوسی کرتے ہوئے عہدے حاصل کرتے رہے ، اسی طرح سے آج بھی مسلمانوں کے درمیان ایسے لوگ ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی غدار ہیں ، وہ میرصادق و میر جعفر کے پیروکار ہیں ہمیں انکی پرواہ نہیں کرنی چاہئے بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کو تڑپتے ہوئے مرنے سے روکنے کے لئے قدم بڑھانا چاہئے ۔ ایک عام مسلمان ہر گز بھی نہیں چاہ رہاہے کہ وہ ظلم و ستم کے ماحول میں ڈر خوف کی زندگی گزر کرے بلکہ یہ چاہتاہے کہ مسلمان اپنے حق کے لئے کھل کر میدان جہاد میں آگے آئےں ۔ مسلم قائدین بس ایک بار مسلمانان ہند کی بقاءکے لئے آواز دیں لیکن یہ آواز متحد ہونی چاہئے ۔پھر دیکھئے کہ ہوتاہے کیا ۔ بھلے ہمارا کہنا جذباتی ہے ، ہماری یہ تحریر جذباتی ہے لیکن ان جذبات کا کیا فائدہ جو جی حضوری اور چاپلوسی کے غلام ہوں ۔ ہماری قوم سرفروشی کی تمنا رکھتی ہے تو اس تمنا کو پورا کر نے کے لئے تحریک عام شروع کی جائے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.